یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر ڑ جائیں گئے

یہ چمن یونہی رہے گا اور ہزاروں جانور اپنی اپنی بولیاں سب بول کر ڑ جائیں گئے ...

  

             لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے کہا ہے کہ پاکستان ٹائی ٹینک نہیں ایک سمندر ہے اور اس میں کئی ٹائی ٹینک غرق ہوچکے ہیں وہ دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں الطاف حسین کے اس بیان پر اظہار خیال کررہے تھے جس میں انہوںنے پاکستان کو امت مسلمہ کا ٹائی ٹینک قرار دیا تھا، انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے یہ شعر پڑھا،

یہ چمن یونہی رہے گااورہزاروں جانور

 اپنی اپنی بولیاںسب بول کر اُڑ جائیں گے

چیف ایڈیٹر مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ جسٹس باقر کے زخمی ہونے اور ان کی حفاظت پرمامو ر 9سکیورٹی اہلکار وں کی ہلاکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقر انسداد دہشت گردی عدالتوں میںمقدمات کی نگرانی کر رہے تھے اور ان پر حملے میں فرقہ وارانہ ہاتھ کارفرما دکھائی دیتا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ چودھری نثار کے کہنے پر صد ر ، وزیر اعظم اور چیف جسٹس سمیت تمام حکومتی اہم شخصیات سے رینجرز کی سکیورٹی واپس لے لی گئی تھی لیکن چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے کہنے پر ان کی رینجر ز سکیورٹی برقرار تھی۔ مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سکیورٹی افراد کی کثرت سے نہیں بلکہ تعلیم اور تجربے کے ساتھ کی جاتی ہے ۔ پاکستان میں عدالتوں ، سکول اور فوج کے علاوہ کہیں وقت کی پابندی نہیں کی جاتی ۔سکیورٹی کیلئے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ لوگوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ کراچی اور اسلام آباد کو مکمل طورپر کیمروںسے کور کردیا جائے جس طرح لندن میں ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کسی جسٹس پر قاتلانہ حملے کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔ پہلے واقعہ میں جسٹس نظام کو ان کے بیٹے سمیت قتل کردیا گیا تھا اور اس میںصدر زرداری کا نام بھی آیا اور یہ مقدمہ کئی سال چلا مگر آصف علی زرداری کے خلاف کوئی گواہ نہ پیش ہوا جس پر انھیں بر ی کردیا گیا ۔ حکومت کی جانب سے سوئس حکام کو لکھے گئے خفیہ خط کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے خط ہی غائب کرنا تھا تو پورا ریکارڈہی غائب کردیتے یہ خط کیوں چھوڑ کرچلے گئے ۔انہوں نے کہا کہ لکھنے والے اس با ت پر مطمن ہونگے کہ وہ قاعدے قانون کے مطابق کررہے ہیں لیکن اب سانپ نکل گیا ہے لکیر کو پیٹنے کا کیا فائدہ ، مقدمہ تو بند ہو چکا ہے ،بعدوالا خط پہلے خط کی تفسیر تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اب نواز شریف کی حکومت مقدمے چلانے کیلئے نئے وکیلوں کو ہائر کررہی ہے ۔اب کتنے مقدمے ہم چلا لیں گے پہلے ہی چودہ سال مقدموں کی نذر ہو چکے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ لگتا ہے نواز شریف نے وہ آم نہیں کھائے جو آصف رزداری نے ان کو بھیجے تھے ۔انہوں نے کہ کہا کہ آصف زرداری جب تک صدرہیں ان کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور مقدمے کا وقت پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور جب یہ خط لکھیں گے تو سو ئس حکومت کہے گی کہ یہ مقدمات اب نہیں کھل سکتے ۔ انہوں نے کہا ہمارے گھر میں چین نہیں ہو نا ۔ جس کا دل چاہے تیر آزما لے اورجس کاجی چاہے جگر آزما لے ۔ مشرف کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جب پانچ سال پہلے وہ رخصت ہوئے توان کو گارڈ آف آنردیا گیا کسی نے سوموٹو ایکشن نہیں لیا ۔اب قدر ت کی گرفت ان کو کھینچ کر یہاں لائی ہے تو سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو مقدمہ درج کرانے کا حکم دیدیا ہے اور سیاسی پارٹیاں بھی ان کے خلاف متحد ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے ملزم کو انصاف دینا ہوتا ہے اگر عدالت ہی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرائے گی تو ملزم کہے گا کہ مجھے انصاف کے لئے کوئی اور عدالت چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جب سپریم کورٹ کے حکم پر مقدمہ درج ہو گا اور ہائی کورٹ کے تین جج سنیں گے تو ایک رخنہ پہلے ہی پڑ جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -