کراچی میں جج کے قفلے پر بم حملہ نو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق پندرہ زخمی

کراچی میں جج کے قفلے پر بم حملہ نو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق پندرہ زخمی

  

                 کراچی(خصوصی رپورٹ) سندھ ہائیکورٹ کے ایک سینئر جج کے قافلے پر بم حملے میں نو افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہو گئے، جبکہ جسٹس باقر مقبول زخمی ہوئے، اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ تحریک کے ترجمان احسان اللہ احسان نے کہا ہے کہ جج پر حملہ ان کے طالبان مخالف اور ”مجاہدین“ مخالف فیصلوں کی وجہ سے کیا گیا۔یہ جج ”مجاہدین“ کے لئے نقصان کا باعث ہیں۔ ججوں پر مزید حملے بھی کئے جایئں گے۔ بم ایک موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا جسے احسان اللہ احسان کے مطابق ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا گیا۔ اس کا ہدف ہائی کورٹ کے جسٹس باقر مقبول تھے۔ اس واقعہ کے حوالے سے ابتدائی طور پر صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے بتایا کہ سات افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں ایک رینجرز، پانچ پولی اہلکار اور جج کا ڈرائیور شامل ہیں۔بعد میں ایس ایس پی ناصر آفتاب نے دو مزید پولیس والوں کے ہسپتال میں دم توڑ جانے کی اطلاع دی جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد نو ہو گئی۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب جسٹس مقبول باقر پولیس سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ اپنی گاڑی میں برنس روڈ کے علاقے سے گزر رہے تھے۔جج کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا، ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ جسٹس باقر مقبول کے سر پر زخم آئے ہیں، انہیں بم دھماکے میں استعمال کئے جانے والے بال بیرنگ اور شیشے لگے ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق کالعدم لشکر جھنگوی کی ہٹ لسٹ پر بھی تھے۔ دھماکہ ہونے کے بعد پولیس اور رینجرز اہلکار اور ریسکیو ورکر موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ جبکہ دھماکہ کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔ دھماکے سے ایک پولیس موبائل وین، اہلکار ایک موٹر سائیکل اور متعدد عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ دھماکے میں قریباً آٹھ کلو دھماکہ خیزمواد استعمال کیا گیا۔ جسٹس باقر مقبول دیانتدار جج کے طور پر شہرت رکھتے ہیں اور خصوصی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ کراچی کے وکلاءنے اس دہشتگردی کے خلاف احتجاجاً عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیر عالم نے آج جمعرات صبح دس بجے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے جس میں سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز بھی شرکت کریں گے۔

جج حملہ

مزید :

صفحہ اول -