” سوری جنرل پرویز مشرف “

” سوری جنرل پرویز مشرف “
 ” سوری جنرل پرویز مشرف “

  

میں نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے اپنے آپ سے بہت ہی ایمان داری کے ساتھ جواب چاہا کہ اگر پرویز مشرف نامی شخص کو آئین سبوتاژ کرنے کے جرم میں انتہائی سزا دی جاتی ہے، ایک بوڑھی ماں کو اس کے بیٹے سے، ایک طرح دار خاتون کو اس کے خاوند سے اور اولاد کو ان کے باپ سے محروم کر دیا جاتا ہے تو کیا مجھے اس کی حمایت کرنی چاہئے۔ اسے پاکستان کی قومی اسمبلی نے پاکستان کا صدر منتخب کیا تھا ، وہ پاکستان کی عزت، آن اور شان کا محافظ تھا، پاکستان کی مسلح افواج کاسربراہ تھا جو یہ کہتی ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی جغرافیائی ہی نہیں نظریاتی سرحدوں کی پاسبانی بھی کرنی ہے ۔ اسی نعرے کو استعمال کرتے ہوئے چند جرنیل ملک کو خطرے میں قرار دیتے ہوئے حق حکمرانی حاصل کرتے رہے ۔۔۔ تحریر کی خطا کی معذرت کہ حق نہیں ، صرف حکمرانی حاصل کر تے رہے۔

میں سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں تو اختلاف سے توجہ اور شہرت حاصل کرنے والے بہت سارے جو گزرے ہوئے کل میں آمرمطلق کے خلاف چیخ و پکارمیں سب سے آگے تھے، آج آئین کی دفعہ چھ کے تحت کارروائی کو نواز شریف کاذاتی انتقام قرار دے رہے ہیں۔ کچھ مہربان ایسے ہیں جو پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل اور آمریت کی راہ روکنے کو نواز شریف کا ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں، شیخ رشید آتش فشانوں سے ڈرا رہے ہیں،ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف تو ذرا بھی نہیں بدلے، اتنے ہی منتقم مزاج ہیں جتنے کہ پہلے تھے جبکہ میری رائے یہ ہے کہ میاں نواز شریف مکمل طورپر تبدیل ہو چکے ہیں، کہنے دیجئے کہ وہ نواز شریف کوئی اور تھا جسے اسٹیبلشمنٹ کا مہرہ سمجھا جاتا تھا، جسے ضیاءالحق مرحوم نے اپنی عمر بھی لگ جانے کی دعا دی تھی ۔۔ آئین کے تحفظ میں لڑنے مرنے والا یہ نواز شریف کوئی اور ہے۔

کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کو پہلا پتھر وہ مارے جس نے خود کبھی آئین شکنی نہ کی ہو، آئین توڑنے والوں کی حمایت نہ کی ہو،گناہ گاروں کو ان کے اعمال کی سزا سے بچانے کے لئے یہ دلیل آج تو نہیں گھڑی گئی۔ اگر یہ شرط عائد کر دی جائے تو پھر دنیا میں کسی قاتل، کسی زانی ، کسی ڈاکو کو سزا دینے والا کوئی نہ ملے۔ میں یہ نہیںکہتا کہ دنیا میں صرف قاتل، زانی اور ڈاکو ہی ہیں مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ سزا دینے کے لئے معصوموں کو تلاش کیا جاتا رہا تو پھر دنیا میں ظلم کرنے والا کوئی بھی سزا نہیں پا سکے گا، جب ہر مجرم سزا کے خوف سے آزاد ہو گا تو یہ دنیا کیسی ہو گی،کیا آپ اس کا تصور کر سکتے ہیں؟

کہا تو یہ بھی جا رہا ہے کہ سزا صرف پرویز مشرف کو ہی کیوں، اس کا ساتھ دینے والے ہر سیاستدان، ہر بیوروکریٹ، ہر جرنیل اور ہر جج کو ملنی چاہئے ، ہر آمر جس نے آمریت قائم کی، اس کی ہڈیوں کو قبروں سے نکالا جائے، پھانسی دی جائے۔ اس دلیل کے پیچھے بھی صرف اور صرف ایک ہی منطق ہے کہ معاملے کو اتنا پھیلا دو، اتنا کنفیوژ کر دو کہ نہ نو من تیل ہو اور نہ ہی آئین کی دفعہ چھے کی رادھا ناچ سکے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سزا کے دو مقاصد ہوتے ہیں، ایک مقصد تو صرف ایک شخص تک محدودہوتا ہے کہ جس نے جرم کیا، اس کو اس کا بدلہ ملنا چاہئے مگر یہ سزا کا ایک محدود مقصد ہے، سزا کا وسیع اور اصل مقصد سماجی ماہرین کے مطابق پورے معاشرے کی اصلاح ہے۔ کسی قاتل یا چور کو سزا دینے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں قتل اور چوری کا سدباب کیاجائے۔

ایسے میں ماضی کی تلخ حقیقتوں کے ڈسے بہت ہی جینوئن سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس پر فوج کا ردعمل کیا ہو گا، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نواز شریف آگ سے کھیل رہے ہیں۔ اس ردعمل بارے کوئی پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی کہ ماضی میں پرویز مشرف نے محض عہدہ چھیننے پر وزیراعظم کو پابند سلاسل اور پھر جلاوطن کر دیا تھا۔ فوج بطور ادارہ مارشل لاءجیسا ردعمل کسی وقت بھی ظاہر کرسکتی ہے مگر اب کسی بھی مارشل لاءکوسول سوسائٹی، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کی بدترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا گماں ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ پرویز مشرف کے لئے کچھ کرنا چاہتی تو وہ اسے گیارہ مئی کا پل صراط آنے سے پہلے ہی ملک سے روانہ کروا دیتی۔ وہ موقع اسٹیبلشمنٹ نے کیوں ضائع کیا، مارشل لاءکے خطرات ظاہر کرنے والے اس کا جواب تلاش کریں تاہم کچھ لوگوں کا اب بھی یہ خیال بھی ہے کہ سابق آمر بچ کے نکل جائے گا کیونکہ پاکستان میں تو آمروں کو سزا ملنے کا رواج ہی نہیں ، اگرآپ صرف دو شخصیات میاں محمد نواز شریف اور افتخار چودھری کو ذہن میں رکھیں تو آپ اس امکان کو مسترد کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

دلیل یہ بھی دی جا رہی ہے کہ پاکستان نے پرویز مشرف کے دور میں معاشی ترقی کی لیکن کیا کبھی کسی نے غور کیا کہ بین الاقوامی طاقتیں پاکستان کو اسی وقت کیوں سپورٹ کرتی ہیں جب یہاں عوام کی حکمرانی نہیں ہوتی۔ آمریتوں میں ڈالروں کی ریل پیل ہو جاتی ہے جو بظاہر معاشی استحکام دیتے ہیں مگر بطور قوم اندر سے کھوکھلا کر کے رکھ دیتے ہیں۔آمریت کے ہر دور میں صوبوں او ر صوبوں میں رہنے والوں میں فاصلے بڑھ گئے۔ آمرجن سیاستدانوں سے حمایت لیتے ہیں چونکہ ان دونوں کی باہمی نظریاتی، سیاسی اور قلبی وابستگی نہیں ہوتی لہذا وہ حمایت بھاری قیمت پر خریدی اور بیچی جاتی ہے۔ حمایت کی یہی قیمت ملک میں کرپشن کو فروغ دیتی ہے ۔ آمریت ہمیشہ دیمک زدہ ڈھانچے پر مصنوعی اور عارضی معاشی ترقی کا ٹوکن والا گھٹیارنگ چڑھا دیتی ہے جو حالات کی ایک ہی بارش سے اترنے لگتا ہے۔

آج سے ٹھیک تین ماہ قبل، چھبیس مارچ کو، میں نے لکھا تھا ”پرویز مشرف جان بچا کے نکل جاو¿“۔ میرے بعض نظریاتی دوستوں نے مجھے اس مشورے پربرا بھلا کہا، انہوں نے کہا کہ کیا تم صحافی کے طور پر کسی وکیل کی طرح ہی کام کر رہے ہو جو قاتلوں اور ڈاکوو¿ں کے کیس بھی پروفیشنل ازم کے نام پر پکڑ لیتے ہیں۔ مجھے تین ماہ قبل ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ پرویز مشرف کو گھیر گھار کے اس کے انجام کی طرف لایا جا رہا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ پرویز مشرف کوان لوگوں کی ایسی باتوں پر اعتبار نہیںکرنا چاہئے کہ میاں نواز شریف سعودی مہربانوں کے حکم پر انہیں راستہ دینے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ ایک تنقید یہ ہے کہ نواز شریف ایک سخت بجٹ دینے کے بعدعوامی اعتماد برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئے، لوڈ شیڈنگ دوبارہ انتہا پر پہنچ گئی لہذا وہ لوگوں کی تو جہ ہٹانے کے لئے اس نان ایشو کو ایشو بنا رہے ہیں، ایسی باتیں تو ہوں گی بلکہ یہ سال ہی تبدیلی کا ہے اور جوں جوں” تبدیلیوں “کے دن قریب آتے جائیں گے، قیاس آرائیاں بڑھتی چلی جائیں گی، غباروں میں ہوا اسی طرح بھری جاتی رہے گی جس طرح پیپلزپارٹی کے پانچ سالوں میں ہر دو ،چار مہینے بعد حکومت کے خاتمے کے غبارے میں ہوا بھر دی جاتی تھی۔ وہ خوابوں کی دنیا کے مکینوں سے مجھے صرف اتنا ہی کہناہے کہ وہ اٹھ بیٹھیں، زمانہ قیامت کی چال چل گیا ہے۔

مجھے پرویز مشرف سے معذرت کرنی ہے کہ بطور قلم کار میں ان کے خلاف آرٹیکل سکس کے تحت کارروائی کی مکمل حمایت کرتا ہوں، ہاں میرے سامنے ان کی ماں، بیوی اور اولاد بھی ہے مگر مجھے ان سے کہیں زیادہ اپنے ملک اور قوم کا مستقبل عزیز ہے۔ میں ایک صحافی ہوں، ہاں کچھ صحافی بھی وکلاءکی طرح مجرموں کو سزا سے بچانے کے لئے ہائر ہوجاتے ہیں مگرمیںقائل ہوں کہ مجرم کو سزا ملنی چاہئے کیونکہ یہی سزاہمارے روئیوں کا تعین کرے گی۔ وہ معاشرہ جس میں کم زور اور کوتاہ نظر لوگوں کی کوئی کمی نہیں، ایسے لوگ کسی جانور کی طرح ہی سدھائے جا سکتے ہیںاور کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی جانور کو کیسے سدھایا جاتا ہے ، اسے کسی کام کے کرنے پر سزا دی جاتی ہے، مارا جاتا ہے، چوٹیںلگائی جاتی ہیں اور پھر آہستہ آہستہ وہ اس کام کے کرنے سے ڈرنے لگتا ہے۔ میرے معاشرے کے وہ لوگ جن کے پیٹ ،دماغ سے بہت زیادہ بڑے ہیں ، وہ اپنے پیٹوں کو پھٹنے تک بھرتے رہے، ایک سزا تو انہیںپورے پاکستان نے دے دی، آمریت کے ان نام لیواو¿ںکا نام و نشان مٹ گیا جو اسے وردی دس بار منتخب کرانے کی قراردادیں منظور کیا کرتے تھے، وہ جماعت بھی اپنی بوری میں بندہو گئی جس نے اسے پروٹوکول کے ساتھ رخصت کیا تھا۔ انہیں معاشرتی اور سیاسی سزا کے ساتھ ساتھ عدالتی اور قانونی سزا سے بھی ڈرانا ہے اورمجھے امید ہے کہ وہ ڈر جائیں گے اور آئندہ کسی آمر کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بننے کا خیال آتے ہی کان پکڑ لیںگے۔

   

مزید :

کالم -