قیادت قوم سے سچ ہی نہیں بول رہی,: عمران خان

قیادت قوم سے سچ ہی نہیں بول رہی,: عمران خان
قیادت قوم سے سچ ہی نہیں بول رہی,: عمران خان

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہمارے کرائسس ایسے ہیں کہ اگر ہم نے ان کا کوئی حل تلاش نہ کیا تو ہم مسلسل تباہی کی طرف جائیں گے ۔ جیونیوز کے پروگرام ”کیپیٹل ٹاک “میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو دھوکا نہیں دینا چاہئے لیکن بہت سے قومیں ہم سے بھی برے حالات سے نکل کر ترقی کر چکی ہیں ۔الطاف حسین درست کہتے ہیں کہ مسلم امہ کا ٹائی ٹینک ڈوب رہا ہے، طاہرالقادری نے الیکشن کمیشن کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ بھی درست تھے۔ ہمیں ان حالات سے نکلنے کیلئے جائرہ لینا چاہئے کہ ہم غلط کدھر  ہیں ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر خود حکومت تسلیم کرتی ہے کہ ملک کو سو ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور امریکہ نے صر ف 15ارب ڈالر امدادامدادی ہے ۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ قیادت قوم سے سچ ہی نہیں بول رہی ۔اس جنگ میں اتنا جھوٹ بولا گیا ہے کہ یہ ہماری جنگ ہے حا لانکہ اس جنگ میں کوئی پاکستانی ملوث ہی نہیں تھا ۔عمران خان نے کہا کہ اگر ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ گئے تو اس کے بارے میں میں یہ کہتا ہوں جو سویڈن کے ایک دانشور نے کہا تھا کہ پاکستان ایشیاءکا کیلی فورنیا بننے جا رہاہے ۔اس ملک میں تمام موسم اور نہایت بہترین نہری نظام ہے ۔ انہوں نے حضر ت علی ؓ کا قول دہرایا کہ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظا م نہیں چل سکتا ۔ایک سوال پر عمران خان نے کہ اب تو امریکہ نے بھی قطر میں طالبان کا دفتر کھلوا کر مذاکرات کا آغاز کیا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے ۔ انہوں نے کہا میں نے اسفند یار ولی کا بیان پڑھا ہے جس میں اس نے کہا کہ ہم سوات کے طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے لیکن امریکہ نے اجازت نہیں دی ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کرکے نیک محمد کو ماردیا گیا ، مدرسے پر بمباری کرکے 80بچوں کومارا گیا اور جب جنوبی وزیرستان میں امن معاہدہ ہواتو پاکستان میں بیٹھے ہوئے امریکہ کے حواریوں نے شورمچا کے اس معاہدے کوتڑوادیا ۔انہوں نے کہا اب جیسے ہی  نئی حکومت آئی ہے ولی الرحمان کو مادیا گیا جس کے نتیجے میں انہوں نے نا نگا پربت پر سیاحوں کو ماردیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم دنیا میں ذلیل ہوگئے ہیں ۔ دنیا کی بلند ترین چوٹیوں میں سے آدھی ہمارے پاس ہیں اور اب وہ لوگ ادھر نہیں آئیں گے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے تو اس کی بنیاد پر جانا ہوگا کہ یہ لوگ کیوں یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا میں بیماری کی جڑ یہ تھی کہ ہم نے امریکہ سے پیسے لیکر فاٹا میں فوج بھیجی جس نے وہاں آپریشن کیا اور امریکہ نے بھی ڈرون حملے کرکے ان لوگوں کو مارا جس پر ان لوگوں نے سوچا کہ یہ امریکہ کے ساتھ ملکر ہم کو مار رہے ہیں اور فوج کے خلاف جہاد شروع کردیا۔انہوں نے کہ روس کے خلاف جہاد میں جب ہم مجاہد تیار کرکے بھیج رہے تھے وہ صرف روسی فوج کو نہیں مار رہے تھے ۔ وہ افغان فوج اور پولیس کو بھی مار رہے تھے ۔عمران خان نے بتایا کہ پاکستان میں5سال میں ہونے والے ڈرون حملوں میں صر ف 47غیر ملکی جنگجو مرے ہیں جبکہ خواتین اور بچوں سمیت 15سو پاکستانی شہری مارے گئے اور 3سو شہری معذور ہو کر محتاجی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے جھوٹ پر لڑائی لڑی ہے، دوسال تک ہم اپنے لو گ مارتے رہے اور کہتے رہے کہ ہم دہشت گرد مار رہے ہیں۔ اس جنگ سے اس وقت ہی نکلا جاسکتا ہے جب اس جنگ کو امریکہ کی جنگ سے الگ کر لیا جائے ۔میں نے نواز شریف اور جنرل کیانی سے کہا ہے کہ ہمارے ساتھ سچ بولیں اور بتائیں کے اصل بات کیا ہے۔ کیانی صاحب بتائیں کہ ڈرون حملے ان کی اجازت سے ہو رہے ہیں کیونکہ امریکی تو کہہ رہے ہم یہ پاکستان کی اجازت سے کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کیلئے بڑی شرمناک بات ہے کہ سینٹر کارل نے مائیک مولن سے سینٹ میں کہا کہ اگر پاکستانی نہیں چاہتے تو کیوں ڈرون حملوں کئے جا رہے ہیں جس پر مائیک مولن نے کہا کہ حملے پاکستانی حکومت کی رضامندی سے کئے جا رہے ہیں جس پر سینٹر کارل نے کہا کہ پھر پاکستانی حکومت اپنے لوگوں سے سچ کیوں نہیں بولتی؟عمران خان نے کہاکہ قوم سے سچ بولا جائے تو قوم حکومت سے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور یہ جنگ ہفتوں میں جیتی جاسکتی ہے ۔ مشرف کے ٹرائل اورصدر آصف علی زرداری کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے یہ مغربی روایات کے بھی خلاف ہے جس نے آئین توڑا ہے اس کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی ہونی چاہئے ۔ موجودہ بجٹ میں ایمانداری پر ٹیکس لگایا گیا ہے ان لوگوں پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے جو پہلے ہی ٹیکس دے رہے ہیں اور جن لوگوں کے اربوں روپے باہر کے ملکوں میںپڑے ہوئے ہیں ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا، کیسز صرف آصف زرداری کے خلاف نہیں کھولے جانے چاہئیں بلکہ ان سب کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے جن کے پیسے باہر پڑے ہوئے ہیں لیکن حکومت اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکے گی کیونکہ صاحب اقتدار لوگوں کے پیسے بھی باہر کے ملکوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سب کہہ رہے ہیں کہ دھاندلی ہوئی اس لئے کوئی نہ کوئی انکوائری ہونی چاہئے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ فخروبھائی کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا یہ ہم کو بعد میں پتہ چلا ۔ دونوں ٹیموں نے اپنے اپنے رضاکار پہلے ہی کھڑے کر لئے تھے ۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ الیکشن کمیشن کے بارے میں طاہر القادری کے تحفظات درست تھے کہ انتخابات کا نظام انتہائی کرپٹ ہے اور اس کے تحت ملک میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعدخراب ملکی حالات کے پیش نظر سڑکوں پر نکلنے کا فیصلہ ترک کیا اور چارحلقوں میں انکوائری فنگر پرنٹس کے ذریعے کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ پتہ چلے کہ ہوا کیا ہے اور پھر غلطیوں کا پتہ چلے اور اگلاالیکشن صحیح ہو سکے ۔ اس میں سب سے بڑا کردار ادا عدلیہ کا ہے ،چیف جسٹس کی طرف ساری قوم دیکھ رہی ہے جومعمولی چوری پر ازخود نوٹس لے رہے ہیں، یہ تو الیکشن کی چوری ہے ،اگر چیف جسٹس نے اس پر نوٹس نہیں لیا تو قوم انھیں معاف نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں مثالی حکومت لے کر آئیں گے ۔ میں نے کے پی کے میں جاکر ارکان صوبائی اسمبلی سے کہاہے کہ جب آپ عوام کا ایک روپیہ بھی خرچ کریں تو سوچیں کہ صوبے میں لو گ بھوکے مررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ میں ایک احتساب سیل بنانے لگے ہیں جو وزیر اعلیٰ کے ماتحت نہیں بلکہ آزاد ہوگا اور کسی بھی وزیر اور وزیر اعلیٰ کو پکڑ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو جو حقوق حاصل ہیں اگر مقررہ مدت تک ان کا کام نہ ہوا تو متعلقہ محکمے کواس شہری کوجرمانہ ادا کرنا ہوگا ۔ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ پانچ سالوں میں ہم اپنے صوبے کی بجلی پورا کرکے باقی پاکستان کو بھی مہیا کریں گے۔تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ آٹھ لاکھ بچے انگلش میڈیم سکولوں میں جاتے ہیں جبکہ تین کروڑ بچے دینی مدرسوں اور اردو میڈیم سکولوں میں جاتے ہیں ۔ہم ایک ارب تک ہم اے لیول اور او لیول کی مد میں برطانیہ کو دیتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دینی مدرسے کے بچوں کو پہلے تمام مضامین پڑھانے چاہئیں، اس کے بعد دین کی تعلیم دینی چاہئے ۔ہم نے اس سلسلے میں ایک کمیٹی بنائی ہو ئی ہے جوایک سلیبس کی تیاری کے لئے بڑی تیزی سے کام کر رہی ہے ۔ پہلے ہمیں ایک قوم بننا ہوگا اور یہ یکساں نظام تعلیم کی وجہ سے ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ایک مشترک ایجنڈا پر تمام لو گوں کا اکٹھا ہو نا چاہئے اور سب سے بڑا مشترک ایجنڈا دہشت گردی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ فوج سچ سچ بتائے کہ اصل بات کیا ہے تاکہ ہم قوم کو بتائیں اور مشترکہ حکمت عملی طے کی جاسکے ۔انہوں نے کہا پاکستان کو سچ بول کر بچایا جا سکتا ہے۔

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -