پنجاب اسمبلی: قوم ’شکار ‘ کرتے وقت وزیر کو ’رفع حاجت‘ یاد آگئی

پنجاب اسمبلی: قوم ’شکار ‘ کرتے وقت وزیر کو ’رفع حاجت‘ یاد آگئی
پنجاب اسمبلی: قوم ’شکار ‘ کرتے وقت وزیر کو ’رفع حاجت‘ یاد آگئی

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری ( نواز طاہر/خبر نگار خصوصی )عوامی حکومتیں فیصلے انقلابی اور اقدامات عوامی مفادات میں اٹھاتی ہیں جس کا وعدہ الیکشن میں کیا جاتا ہے اور پھر الیکشن کے بعد اکثر یہ وعدہ محض وعدہ ہی رہ جاتا ہے ۔ مسلم لیگ ن نے بھی ہر جماعت کی طرح ایسے ہی وعدے کیے تھے لیکن دوسری جماعتوں کے مقابلے میں عوام نے مسلم لیگ ن کو اپنے مفادات کا محافظ تسلیم کیا مگر بجٹ آتے ہی اس کیخلاف آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ یہاں تک کہ اس کے اپنے اراکین بھی بجٹ میں اپنے حلقے نظر انداز کرنے کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں اور بجٹ میں بعض ٹیکس غیر مناسب سمجھتے ہیں اس کے باوجود پنجاب اسمبلی نے عوام پر مزید ٹیکس لگانے کیلئے نئے فنانس بل کی منظوری دیدی ہے جس کے ساتھ ہی آئندہ مالی سال کا بجٹ بھی باضابطہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے ان ٹیکسوں کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ ٹیکس دس لاکھ روپے مالیت اور پانچ ہزار روپے کرائے والے مکان پر وصول کیا جائے گا ۔جب اپوزیشن نے ایوان کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ پانچ ہزار روپے میں تو لاہور کے پوش علاقے میں ایک کمرہ بھی نہیں ملتا تو وزیر قانون نے کہا کہ شاہدرہ کے علاقے میں تو دس لاکھ روپے میں پانچ مرلے کا گھر مل جاتا ہے ۔ مشرف دور میں اسی پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ حسنین بہادر دریشک نے بھی رانا ثناءاللہ جیسا بیان دیا تھا کہ ان کے علاقے میں غریب آدمی پانچ سو روپے میں شادی کر لیتا ہے اور رانا ثناءاللہ کی طرف سے اس پر جو رد ِ عمل ظاہر کیا گیا تھا ،ویسا ہی ردِ عمل اب ان کے اپنے بیان پر تھا ، فرق صرف اتنا تھا کہ ن لیگ کے اراکین کی عددی اکثریت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے اپوزیشن کے چند اراکین کی آواز ویسی نہیں تھی جیسی اُس دور میں ٹرینڈ متحدہ اپوزیشن کی تھی ۔اپوزیشن کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 2002ءکے بعد ٹیکس اویلیوایشن پر نظر ثانی نہیں کی اور یکم جنوری تک یہ کام کر لیا جاےئے گا جس سے پانچ ہزار روپے کی شرح میں تبدیلی ہوجائے گی یعنی محکمہ کی نظر میں گیارہ سال پہلے جس مکان کا کرایہ پانچ ہزار روپے تھا ،اب اگر وہ کرایہ آٹھ ہزار روپے ہے تو ٹیکس بھی آٹھ ہزار روپے پر لگے گا ۔ اپوازیشن نے اس موقف کو رد کردیا اور یہ ٹیکس ختم نہ کرنے پر اجلاس کا بائیکاٹ کردیا جو پندرہ منٹ بعد اس یقین دہانی پر ختم کرادیا گیا کہ گھروں اور زرعی انکم ٹیکس کی شرح اور جزئیات کا تعین ایوان کی کمیٹی کرے گی جس میں اپوزیشن کی نمایندگی بھی ہوگی ۔اس طرح اپوزیشن نے حکومتی چال میں آکر فنانس بل کی رائے شماری میں حصہ لیا اور بل کثرتِ رائے سے منظور ہوگیا۔اس کارروائی پر پریس گیلری میں حزبِ اختلاف کو فرینڈلی اپوزیشن کا ’درجہ دیا گیا ، بعض صحافیوں کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لیڈر بھی سابق اپوزیشن لیڈر جیسے ہی ہیں جو ایشو کیش کرانے کی اہلیت نہیں رکھتے یا پھرنامعلوم وجوہ کے باعث وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے ۔ اپوزیشن رکن فائزہ ملک کے اس اعتراض پر کہ حکومت ڈیفنس اور چھاﺅنی کے علاقے کے بڑے بڑے گھروں سے ٹیکس کیوں نہیں لیتی، وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان سے پنجاب حکومت ٹیکس نہیں لیتی بلکہ ڈی ایچ اے لیتی ہے تاہم یہ ٹیکس لینے کیلئے قانون سازی کی جائے گی ۔بحث کے دوران کئی اراکین نے جاگیرداری کا ذکر کیا تو سپیکر رانا محمد اقبال نے پنجاب میں جاگیردار ی فعال ہونے کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں کوئی جاگیردار نہیں جبکہ حکومتی رکن شیخ علاﺅالدین نے جاگیرداروں کے بارے میں منفی سوچ پر شدید احتجاج کیا۔ انہوںنے نواب لیاقت علی خان ، نواب ممدوٹ جیسے تحریکِ پاکستان کے اہم لیڈروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلاف نے پاکستان کیلئے اپنی جاگیریں تباہ کریں ۔ اسلئے ہمیں جاگیرداری کو منفی انداز سے نہیں دیکھنا چاہئے بلکہ اپنے محترم بزرگوں کو یاد رکھنا چاہئے ۔اس مرحلے پر پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے ’انا ہزارے‘ حکومتی رکن میاں رفیق نے کہا کہ میں شیخ علاﺅالدین کی بات سے جزوی طور پر اتفاق نہیں کرتا کیونکہ بانی پاکستان قائدِ اعظم ؒ نے جب یہ کہا تھا کہ میری جیب میں کچھ کھوٹے سکے ہیں تو اس میں انہیں لوگوں کا ذکر تھا ، ہمارے زعماءنے کچھ خرابیاں بھی پیدا کی تھیں ۔ان کی اس بات پر ایوان میں شور ہونے لگا تو سپیکر نے سب کی بات کاٹتے ہوئے واضح کیا کہ بانی پاکستان نے ان ( زعماء) کے بارے میں نہیں کہا تھا ۔ اسلئے میں میاں رفیق کا پوائنٹ آف آرڈر خلافِ ضابطہ قراردیتا ہوں۔اجلاس کے دوران پریس گیلری میں پچھلے دنوں کی نسبت زیادہ رونق رہی اور صحافی کارروائی کے دوران زیادہ تر وقت اس پر تبصرے کرتے رہے ۔ جس کے مطابق ایوان کی سنجیدہ کارروائی بھی حکومتی اور اپوزیشن اراکین غیر سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔ خاص طور پر اس وقت تو پریس گیلری نے مزید تبصرے کے بجائے صرف’ نو کمنٹ ‘ کہہ کر مزید بات ختم کردی جب سپیکر نے وزیر خزانہ کو فناس بل پیش کرنے کی دعوت دی تو معلوم ہوا کہ وہ ایوان میں موجود نہیں جس کا عذر رفع حاجت بیان کیا گیا ۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -