عدلیہ کیخلاف، مشرف کی حمایت میں بات کرنے پر فاروق ستار کا مائیک بند

عدلیہ کیخلاف، مشرف کی حمایت میں بات کرنے پر فاروق ستار کا مائیک بند
عدلیہ کیخلاف، مشرف کی حمایت میں بات کرنے پر فاروق ستار کا مائیک بند

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار کے اظہار خیال کے دوران جب سپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا تو ایم کیوایم کے ارکان نے اپنی نشستوں سے کھڑے کو سپیکرکے ڈائس کا گھیراو¿ کرکے احتجاج شروع کردیا تاہم اس دوان بعض دیگر اراکین نے معاملہ رفع دفع کرادیا۔قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ وہ اصولی طور پر وزیر داخلہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں کہ امن و امان کے قیام کی زیادہ تر ذمہ داری صوبوں پر عائد ہوتی ہے مگر جب قومی سلامتی کا معاملہ بن جائے تو ہمیں کسی کا بھی انتظار نہیں کرنا چاہئے۔فاروق ستارنے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف ٹرائل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس نہیں حکومت کے پاس ہے،حکومت آرٹیکل 6 کے حوالے سے عدالت کی آ ڑ لینے کی کو شش نہ کرے بلکہ خود اس کی ذمہ دار ی قبول کرے، جس عدالت نے ما رشل لاکی توثیق کی اس کو بھی اس اقدام کی حمایت سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اظہار خیال کا دورانیہ طویل ہونے پر سپیکر نے انہیں تقریر جلد ختم کرنے کی ہدایت کی مگر انہوں نے اپنی بات جاری رکھی جس پر سپیکر نے ان کا مائیک بند کردیا جس پر ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی اور ایم کیوا یم کے ارکان نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر کے ڈائس کا گھیراو¿ کر کے نعرے لگائے تاہم قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے معاملے کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا اور سپیکر نے ڈاکٹر فاروق ستار کو بولنے کی اجازت دے دی۔ سپیکر نے رولنگ دی کہ انہوں نے حکومت کے 20 گھنٹے کاٹ کر اپوزیشن کو وقت دیا اس لئے ان پر جانبداری کا الزام لگانا کسی بھی طور پر ٹھیک نہیں، آئندہ کسی بھی حکومتی اور اپوزیشن کے رکن کو نکتہ اعتراض پر دومنٹ سے زیادہ بولنے کی اجازت نہیں دے جائے گی۔

مزید :

اسلام آباد -