طاہر القادری کا اگلالائحہ عمل؟

طاہر القادری کا اگلالائحہ عمل؟
طاہر القادری کا اگلالائحہ عمل؟
کیپشن:   tahir ul qadri سورس:   

  

ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ نظام فرسودہ ہوچکا ہے، جسے ختم کر کے ایک نیا معاشرتی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس ایسا منصوبہ موجودہے جس سے نیاتصوراتی نظام تعمیر کرنا بہت آسان ہے ۔انہوں نے اعلان کیا کہ ’’مَیں اپنی زندگی داؤ پر لگا کرپاکستان کو بچانے کے لئے آرہا ہوں، حکومت سے جنگ کرنے آرہا ہوں، بدلہ لینے آرہا ہوں‘‘۔ لہٰذاوہ 23 جون کو انقلاب کی قیادت کرنے کے لئے پاکستان واپس آئے ،بالکل امام خمینی کے انداز سے ،لیکن گورنر پنجاب سے ملاقات کے بعدجلد ہی انہیں پسپائی اختیار کرنا پڑی۔یاد رہے گورنر پنجاب بھی تو نواز شریف کے متعین کردہ ہیں، جن کے خلاف ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے اعلان جنگ کر رکھا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بارے میں کسی قسم کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ،البتہ ان کی شخصیت کو جانتے ہوئے قیاس آرائی کی جاسکتی ہے ۔

ڈاکٹر طاہر القادری 1997-98 ء کے دوران، پاکستان پیپلز پارٹی کی زیر قیادت تشکیل پانے والے پاکستان عوامی اتحاد کا حصہ تھے ۔ ان کا اپنا کوئی ووٹ بینک نہیں تھا، البتہ منہاج القرآن اور پنجاب کے مختلف شہروں میں قائم ان کے دارالعلوم کے طلباء ان کی طاقت کا سرچشمہ تھے اور اب بھی ہیں۔پاکستاں عوامی اتحاد نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے 1998 ء میں پشاور میں ایک جلسہ کیا۔اس جلسے میں شرکت کے لئے ڈاکٹر طاہر القادری کے صوبہ پنجاب کے مدارس کے طلباء و اساتذہ کا چالیس سے زائد بسوں پر مشتمل قافلہ دریائے سندھ عبور کر کے پشاور پہنچا توسب حیران رہ گئے۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر افرادی قوت کے باوجود وہ ابھی تک قومی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے ۔ سوائے ایک سیٹ کے جوانہیں جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم میں مدد کرنے کے عوض تحفے میں عطا کی گئی تھی۔ جنرل پرویز مشرف سے یہی نظریاتی و سیاسی وابستگی آج بھی ان کے اس انقلابی نعرے کے پیچھے متحرک نظر آتی ہے ۔ پرویز الہٰی اور شیخ رشید جیسے پرویز مشرف دور کے انقلابی ان کے ہم رکاب ہیں۔ ان انقلابیوں کے پیچھے وہ قوت بھی ہے جو پوری دنیائے اسلام کے خلاف ایک عرصے سے متحرک ہے۔

آج پاکستان ،مصر، الجزائر اور ترکی انہی کی سازشوں کا شکار ہیں، جہاں کا پولیٹیکل اسلام انہیں منظور نہیں،جس طرح افغانستان میں طالبان کا اسلام منظور نہیں، یا ایران میں انقلابی اسلام منظور نہیں۔ اگرہے تو صرف بنگلہ دیش جیسا سیکولر نظام منظور ہے ۔نظریات کا یہ ٹکراؤ عالمی فتنے کا سبب ہے ،جس سے اسلامی دنیا دوچار ہے۔یہ جاننا پاکستانی عوام کا حق ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کس دینی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں، کیونکہ ملک میں ایک درجن سے زائد مذہبی جماعتیں سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا اپنا اپناایجنڈا رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری ملک کے موجودہ جمہوری نظام کوفرسودہ اورعوامی امنگوں کے خلاف سمجھتے ہوئے مسترد کرتے ہیں لیکن اس نظام کے متبادل کے طور پرجس نظام کی وہ بات کرتے ہیں وہ قطعأ مبہم ہے،جبکہ آئین پاکستان ،جو عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے اور قرآن و سنہ کے زریں اصولوں پر مبنی جمہوری نظام کی یقین دہانی کراتا ہے، جبکہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور ان کا ’’انقلاب کے لئے منتخب کردہ راستہ‘‘ہمارے آئین اور جمہوری اقدار سے متصادم ہے۔

پاکستان میں انقلاب لانے کی بات کرنا،جہاں ابھی تک مضبوط قومی سوچ میںیکسانیت پیدا نہیں ہو سکی ،تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔بے شک عوام تبدیلی کے خواہاں ہیں، کیونکہ یہ تبدیلی 2013 ء کے عام انتخابات کا تقاضا ہے ،جب عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر منتخب کیا تھا، جوکہ ایک مثبت سوچ کی حامل جماعت ہے اور اس کی سیاسی سوچ پاکستانی قوم کی سیاسی اقدار سے ہم آہنگ ہے ،جو ہر قسم کے سیکولرازم اور مذہبی بنیاد پرستی کے رجحانات کو مسترد کرتی ہے۔ بالکل اسی طرح کی تبدیلی بھارت میں بھی آئی ہے ،لیکن وہاں سیاسی سوچ نے یوٹرن لے کر سیکولرازم کی بجائے ہندوتوا (Hindutva)،یعنی شدید قوم پرستی اور ہندو ازم کی راہ اختیار کر لی ہے ۔ بھارت میں رونما ہونے والی یہ تبدیلی ان کے لئے زہر قاتل ہے اور ہمارے لئے بدترین خطرہ ہے ۔یقینأاس قسم کی تبدیلی پاکستانی قوم کے لئے ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔

یوں لگتا ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور میاں نواز شریف ، دونوں ہی 15/16 مارچ 2009 ء کی رات رونما ہونے والی تبدیلی سے متاثر ہیں۔ مسلم لیگ(ن) خائف ہے اورڈاکٹرطاہر القادری پُر امید ہیں۔15مارچ 2009ء کولاہور سے شروع ہونے والے لانگ مارچ نے ابھی دریائے راوی کا پل بھی عبور نہیں کیا تھا کہ اسلام آباد سے ٹیلیفون آیا کہ ان کے مطالبات تسلیم کرلئے گئے ہیں،جس کا صاف مطلب یہ تھا کہ جنرل پرویزمشرف کے لئے کھیل ختم ہو چکا ہے ۔میاں نواز شریف کے ذہن پر یہی خوف طاری ہے۔ ڈاکٹر طاہر القداری نے لاہور پہنچ کرطیارے سے باہر آنے سے انکار کر تے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ صرف فوج کے نمائندے سے بات کریں گے ،لیکن ان کا مطالبہ مسترد کر دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے فوج کی سیکیورٹی کا مطالبہ کیا لیکن وہ بھی مسترد کر دیا گیا، جس سے وہ مکمل طور پر مایوس ہو گئے، کیونکہ انہیں فوج کی جانب سے کسی قسم کا کوئی پیغام نہ ملا ۔ اس طرح مایوسی کے عالم میں انہیں بالآخر گورنر پنجاب سے ہی بات کرنا پڑی،جس کے بعد اپنے ذاتی محافظوں کی حفاظت میں اپنے گھر چلے گئے۔اس طرح یہ ڈرامہ‘ ان کی پاکستان آمد کے نو گھنٹے کے اندر اندراختتام پذیر ہوا۔اب ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا،اس بارے میں کوئی حتمی بات کہنا مشکل ہے ،لیکن فی الحال وہ افواج پاکستان کے آپریشن’’ ضرب عضب‘‘ کے حق میں تحریک کا آغاز کر چکے ہیں اور عین ممکن ہے کہ وہ بہت جلد اپنے انقلابیوں کو لے کر فوجی آپریشن میں شامل بھی ہو جائیں۔

اس صورت حال کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ حکومت ڈاکٹر طاہر القادری کی جانب سے پیش آمدہ حالات سے نمٹنے کے لئے کوئی موثر تدبیراختیار نہیں کر سکی اور انتہائی کمزور رد عمل کا مظاہرہ کیا، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ریاستی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے مدارس کے طلباء کی طاقت کو استعمال کرکے نظام کی تبدیلی کا برملا اعلان کیا ہے، جبکہ میاں نواز شریف کے ذہن پر اسلام آباد سے آنے والی کسی ٹیلیفون کال کا خوف طاری تھا۔یہی خوف اور امیداس المیے کا سبب بنا۔ڈاکٹر طاہر القادری نے طلباء کی قوت استعمال کر کے انقلاب کا اعلان کیا ہے اورافغان طالبان کی نقل کرنے کی کوشش کی۔ ان کو اندازہ ہونا چاہئے کہ افغان طالبان کی ایک اپنی تاریخ ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔یہی تاریخ افغان قوم کی اقداروروایات اور جذبہ ایثار کی بنیادی اساس ہے ۔ افغان طالبان کی طاقت نے تین دہائیوں کے عرصے میں دنیا کی دو سپر طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ڈاکٹر طاہرا لقادری کے طالبان کو یہ مقام حاصل نہیں ہے۔

1979ء میں افغانستان میں روسی جارحیت کے خلاف افغانستان اور پاکستان کے دینی مدارس ،امریکہ کی جنگ میں شامل رہے اور اس دوران پاکستان کے سیاسی و معاشرتی نظام پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ڈاکٹر طاہر القادری کا انقلاب بھی اسی طرح کی سوچ کا اظہار ہے، لیکن مقاصد مختلف ہیں،جو حیران کن نہیں ہیں۔ان کی اس ’’انقلابی تحریک‘‘ کے اثرات خدا نخواستہ ہمارے ان ماہرین تعلیم پر بھی نہ پڑیں جو دینی مدارس کے علاوہ ملک میں بیکن ہاؤس (Beacon House)اور روٹس(Roots) جیسے انگریزی نصاب تعلیم پر مبنی سکول چلا رہے ہیں ۔ان کے پاس بھی طلباء کی ایک بڑی ملک گیر طاقت دستیاب ہے اور ان کے ذہنوں میں بھی اس قسم کے انقلاب کی سوچ پیدا ہو سکتی ہے، جس سے قومی منظر نامہ مزید دلچسپ اور’’ خبرناک‘‘ ہو جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر القادری کو چاہئے کہ زمینی حقائق کا تجزیہ کریں کہ کیا یہ وقت کسی انقلاب کے لئے موزوں ہے، جبکہ ملک سنگین حالات سے دوچار ہے اور قوم تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔دانش کا تقاضا ہے کہ ہم حالا ت کی نزاکت کو سمجھیں اور ہر قسم کی محاذ آرائی سے گریز کریں اور موجودہ نظام ہی کو تمام برائیوں سے پاک کرنے کے لئے اپنی سیاسی جدوجہد کو جمہوری اصولوں کے مطابق اور آئین اور قانون کی حدود میں رہتے ہوئے جاری رکھیں اور ایک بہترمستقبل کی جانب قدم بڑھائیں۔

مزید :

کالم -