طاہر القادری کی رہبرُِ ملک بننے کی خواہش

طاہر القادری کی رہبرُِ ملک بننے کی خواہش
طاہر القادری کی رہبرُِ ملک بننے کی خواہش
کیپشن: tahir ul qadri

  

عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری جنہیں اپنی جماعت میں رہبر کا درجہ حاصل ہے، لیکن ڈاکٹر صاحب اب یہ چاہتے ہیں کہ رہبری کے منصب کو عوامی تحریک تک محدود کرنے کے بجائے اسے پورے ملک پر محیط کردیا جائے اور ایران کے علامہ خمینی کی طرح وہ بزور طاقت رہبر پاکستان کا درجہ حاصل کرلیں۔ اس منصب کے حصول کے لئے وہ بار بار فوج اور اپنے اتحادیوں کو مدد کے لئے پکارتے ہیں اس وقت تک انہیں بظاہر چودھری شجاعت حسین کی مسلم لیگ( ق) ‘ شیخ رشید کی عوامی مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ہے، جبکہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان پاکستان میں تبدیلی بذریعہ ووٹ کے قائل ہیں اور خود کو عوامی سطح پر طاہر القادری سے بڑا لیڈر سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے طاہر القادری کی پاکستان آمد پر کسی بھی سطح پر ان کی پذیرائی نہیں کی تاہم ان سے رشتہ ختم بھی نہیں کیا اور ضرورت پڑنے پر اتحاد کا عندیہ دیا ،یعنی ضرورت کی شادی کو رد نہیں کیا۔ عمران خان کا نوازشریف حکومت کے خلاف لائحہ عمل چند دنوں میں سامنے آجائے گا، لیکن ان کی خواہش ہے کہ علامہ طاہر القادری کی جماعت ان کی تحریک کا حصہ بنے دونوں قائدین نواز حکومت کی رخصتی پر متفق ہیں لیکن طریقہ کار میں اختلاف ہے۔

عمران خان مختصر مدت کے لئے عبوری سیٹ اپ چاہتے ہیں، جبکہ طاہر القادری کی منزل پاکستان میں طویل المدتی نگران سیٹ اپ کا قیام ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ کیا فوج ان قائدین کی خواہش کے تابع نواز حکومت کو گھر بھیج دے گی جو قوت کسی حکومت کو گھر بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ ریاست کا انتظام ان کے حوالے کیوں کرے گی۔ کہیں قاضی حسین احمد کے 1996 ء کے لانگ مارچ کاEpisode دہرایا تو نہیں جا رہا۔ 1996 ء میں پاکستان کی تمام شاہراہوں پر ظلم کے خلاف قاضی آرہا ہے کے نعرے درج تھے۔ اکتوبر 1996 ء میں قاضی حسین احمد نے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا اور نومبر میں بے نظیر بھٹو حکومت برطرف ہوگئی۔ اس وقت قاضی حسین احمد کو فوج کے علاوہ میاں محمد نواز شریف اور صدر لغاری کی حمایت حاصل تھی، لیکن اب آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کا قومی اسمبلی برطرف کرنے کا اختیار ختم ہوچکا ہے، لہٰذا اب جو کچھ وزیراعظم کی مرضی کے خلاف ہوا وہ آئین سے غداری کے مترادف ہوگا۔

لاہور ائیرپورٹ پر طیارہ سے اترنے سے پہلے قادری صاحب کور کمانڈر لاہور سے شرف بازیابی چاہتے تھے، لیکن طویل انتظار کے بعد انہوں نے گورنر پنجاب پر اکتفا کرلیا اور سرکار کے ہمراہ طیارے سے باہر آگئے۔ طاہر القادری اگر آئین کے دائرہ کے اندر رہ کر اپنی تحریک چلائیں تو ان کی حمایت میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ تحریک کے ذریعہ انقلاب لانا چاہتے ہیں، تو اقتدار ان کو نہیں انقلاب لانے والوں کو ملے گا اور ان کے سیاسی اتحادی بھی انہیں چھوڑ کر اقتدار سنبھالنے والوں سے جا ملیں گے۔ رہبر ملک بننے کی خواہش رکھنا کوئی بُری بات نہیں ہے، لیکن اس کے لئے انہیں جمہوری انداز سے پاکستان کے اکثریتی عوام کی حمایت کی ضرورت ہوگی طاہر القادری کا یہ نعرہ کہ طاقت ہی ملک کا قانون ہو گا۔ پاکستانی عوام کے لئے اس قسم کا نعرہ قابل قبول نہیں طالبان بھی یہی زبان استعمال کرتے ہیں اور بزور طاقت اپنا نظام پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے تھے پاکستان کی پوری قوم انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے اور ان کے خاتمہ کے لئے فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔ طاہر القادری ایک ذہین اور باصلاحیت انسان ہیں انہیں اپنی عوامی تائید اور طاقت کو انقلاب بذریعہ ووٹ کی طرف لے جانا چاہئے اس وقت ملک میں سپریم کورٹ کے حکم کے تحت بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں، لہٰذاان انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے وہ اپنی قیادت کا لوہا منوا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد سے قبل لاہور میں تحریک کے3000سے زائد اور آمد کے بعد راولپنڈی میں 3500 افراد کے خلاف دفعہ 144 سے لے کر دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ حیرانگی کی بات ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزراء اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ چند سو افراد استقبال کیلئے موجود تھے جبکہ سانحہ لاہور کے موقعہ پر بھی سابق وزیر قانون رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزراء نے منہاج القرآن کے باہر چند سو غنڈوں کا ذکر کیا، لیکن مقدمات 6500 افراد سے زائد لوگوں کے خلاف درج کرادیئے حکومت کو بھی سیاسی انتقام کی پالیسی سے باہر نکلنا ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ملک کو انتشار سے باہر نکالنے کی بات کررہے ہیں، لیکن وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید اس کے برعکس اس بات کا عندیہ دے رہے ہیں کہ اب طاہر القادری کو مشرف کی طرح مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ طاہر القادری کینیڈا سے مستقل رخصتی کرا کر پاکستان آئے ہیں اب وہ وزٹنگ انقلابی نہیں رہے۔ جوتے، جراب، بنیان،ٹوپیوں سمیت آدھا جہاز ان کے سامان سے بھرا تھا۔ اب وہ رہبری کے حصول تک پاکستان سے جانے والے نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید پرانے کامریڈ ہیں اور لگتا ہے کہ ماؤ کا نظریہ حکومت ابھی ان کے ذہن میں پیوست ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے میں پہل کرے اور عوامی تحریک کے کارکنوں کے خلاف درج مقدمات کو واپس لے اس وقت، جبکہ پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے سیاسی قیادت کے باہمی انتشار سے آپریشن ضرب عضب متاثر ہو سکتا ہے۔ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام حکومت میں بیٹھ کر آپریشن کی مخالفت کررہے ہیں اس لئے ضرورت ہے کہ طالبان مخالف سیاسی قوتیں اس آپریشن کی ملکیت کو قبول کریں، کیونکہ جس ملک میں پہلے ہی سیاسی انتشار ہو فوج ملک دشمنوں سے نبرد آزما ہو وہاں انقلاب کی راہیں اتنی آسانی سے ہموار نہیں ہوتیں، بلکہ اس کے لئے سیاسی اتحاد اور مضبوط حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔مزید برآں اگر ملک میں جاری دہشت گردی کی فضا کو پیش نظر رکھا جائے جیسا کہ پشاور میں پی آئی اے کے طیارے پر فائرنگ سے یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ دہشت گردوں نے پاکستان کے فضائی سفر کو غیر محفوظ کردیا ہے۔

فضائی ماہرین کے مطابق دبئی سے آنے والے طیارے پر دہشت گردوں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ 300 میٹر کی بلندی پر لینڈنگ کے لئے پشاور ائیرپورٹ کی طرف بڑھ رہا تھا طیارے کو جی تھری لانگ بیرل گن سے نشانہ بنایا گیا یہ بندوق پاکستان کے ہر شہر میں موجود ہے اور ایسے واقعات پاکستان کے کسی بھی شہر میں ممکن ہوسکتے ہیں۔6-5 ماہ قبل وزیر داخلہ چودھری نثار نے26 خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن ابھی تک اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوسکا اس واقعہ سے نہ صرف قومی ائیر لائن غیر محفوظ، بلکہ آئندہ کے لئے بیرونی فضائی کمپنیاں بھی سو بار اپنے فضائی آپریشن کو جاری رکھنے کے بارے میں سوچیں گی ۔ متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر پشاور کے لئے اپنا آپریشن ختم کر دیا ہے۔ حکومت پاکستان اور وزیراعظم اس واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پاکستان کے تمام ائیرپورٹس پر کم از کم 3 میل کے اطراف میں مکمل سرچ آپریشن کرانے کے احکامات جاری کریں ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ائیرپورٹس کے اطراف میں قائم آبادیوں اور مکینوں کی مکمل رجسٹریشن کی جائے لاہور، اسلام آباد، کراچی، ملتان کے ائیرپورٹس کے گرد بہت سی ایسی آبادیاں ہیں جہاں دہشت گرد آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ فضائی سفر کو محفوظ بنانے کے لئے فوری طور پر خفیہ ایجنسی کے ارکان کو ان ائیرپورٹس کے اطراف میں مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی جائے۔ پشاور ائیرپورٹ پر جس طیارے پر فائرنگ کی گئی اس جہاز کا پشاور ائیرپورٹ پر محفوظ اترنا کسی معجزے سے کم نہیں خدا کا شکر ہے کہ ایک خاتون کی شہادت کے علاوہ باقی تمام مسافر محفوظ رہے تاہم اس فائرنگ کے نتیجہ میں دہشت گرد ایک بار پھر دنیا کو یہ بتانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں کارروائی کرسکتے ہیں۔

مزید :

کالم -