شیخ اصغر حمید ایڈووکیٹ کی یاد میں

شیخ اصغر حمید ایڈووکیٹ کی یاد میں
شیخ اصغر حمید ایڈووکیٹ کی یاد میں

  

اصغر حمید ایک سال قبل آج کے دن طویل علالت کے بعد اپنے بے شمار چاہنے والوں کو غمگین کرکے اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ علالت سے قبل ان کی تمام زندگی دوستوں اور رشتہ داروں کے جھمگٹے میں گزری اور پیشہ وارانہ لحاظ سے انہوں نے قانون کے شعبے میں اپنا لوہا منوایا۔

اصغر حمید کی پیدائش وکیلوں کے خاندان میں ہوئی، انہوں نے 1957ءمیں قانون کی ڈگری حاصل کی اور منٹگمری (ساہیوال کو اس وقت اسی نام سے جانا جاتا تھا) میں شیخ عبدالحفیظ کی شاگردی میں عملی زندگی میں قدم رکھ دیا۔ وہ ساہیوال بار ہال کے سامنے اپنے والد کے چیمبر میں بیٹھتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے سول لاءپر عبور حاصل کرلیا۔ وہ بہترین یادداشت کے حامل تھے اور اپنے سیاسی خیالات کو پیشہ وارانہ ذمہ داریوں پر اثر انداز نہ ہونے دیتے تھے۔ جلد ہی انہیں بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب کرلیا گیا۔ انہیں 60 کی دہائی سے لے کر 90 کی دہائی کے وسط تک چھ مرتبہ ساہیوال بار ایسوسی ایشن کا صدر منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ 1975ءمیں انہیں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بننے کا شرف حاصل ہوا اور دو دہائیوں کے دوران وہ مسلسل 4 مرتبہ پاکستان بار کونسل کے ممبر منتخب ہوئے جس دوران وہ دو مرتبہ بار کونسل کے وائس چیئرمین بھی رہے۔ ریکارڈ گواہ ہے کہ پاکستان بار کونسل سے وابستگی کے 20 سالوں کے دوران وہ اس معتبر ادارے کی ایک بھی میٹنگ سے غیر حاضر نہ رہے۔

کامیابی حاصل کرنے کے بعد سب سے بڑا چیلنج اس کا بوجھ اٹھانا ہوتا ہے۔ وکالت کی غیر معمولی صلاحیت قانون کے شعبے میں ان کی پہچان بنی لیکن تمام تر کامیابیوں کے باوجود عاجزی اور انکساری ان کے کردار میں نمایاں تھیں۔ ان کی زندگی ان کی عاجزی کی مثالوں سے پُر ہے۔ شیخ اصغر حمید نے کبھی اپنے چیمبر یا رہائش گاہ کے دروازے پر اپنے نام کی پٹی نہیں لگائی، کبھی اپنے نام کے ”قانونی لفافے“ نہیں چھپوائے، 1976ءتک بینک اکاﺅنٹ تک نہ کھلوایا اور مسلسل ضرورت کے باوجود موبائل فون جیسی معمولی چیز بھی نہ حاصل کی۔ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرتے رہتے تھے جس کے باعث دو مرتبہ انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔

ساہیوال میں رہائش پذیر ان کے رفقاءاس بات کے گواہ ہیں کہ اس قدر بڑے حلقہ احباب کے باوجود اصغر حمید نے کبھی کوئی جنازہ نہیں چھوڑا۔ انہیں سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی تھی جب ان کے ارد گرد موجود لوگ اپنے کام میں مشغول ہوتے۔

وہ روایات و اقدار پر پختہ یقین رکھتے اور اپنے والد شیخ شریف حسین خان (جو تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن بھی تھے) کی دل سے عزت کرتے تھے۔ اگست 1947ءمیں ہجرت سے قبل شیخ صاحب آل انڈیا مسلم لیگ گورداس پور کے صدر رہے اور انہیں گورداس پور میونسپل کمیٹی کا صدر بھی منتخب کیا گیا۔ اصغر حمید شعبے کی بزرگ ہستیوں کا بے حد احترام کرتے تھے اور رہنمائی بھی حاصل کرتے تھے۔ ان کے کزن شیخ خورشید احمد اور میاں محمود علی قصوری وفاقی وزیر قانون اور وزیر پارلیمنٹری افیئرز رہے۔ 1946-47ءمیں شیخ شریف حسین خان، میاں محمود علی قصوری اور مولانا عبدالستار خان نیازی متعدد دیگر شخصیات سمیت اکٹھے برطانوی حکومت کے سیاسی قیدیوں کے طور پر گورداس پور پور جیل میں قید تھے۔ اپنے پیشے میں ان کی سینئر ایڈووکیٹ محمد اکرم شیخ سے انتہائی گہری ذاتی اور پیشہ وارانہ دوستی تھی، اس تعلق کو اکثر حسد کی نگاہ سے بھی دیکھا جاتا تھا، ان تمام شخصیات نے ان کی زندگی کے مختلف پہلوﺅں پر گہرا اثر ڈالا۔

ایڈووکیٹ اصغر حمید قانونی پیچیدگیاں سمجھنے اور نبھانے کی بہترین صلاحیت رکھتے تھے لیکن اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں وہ عوامی فلاح کی حکمت عملی پر کاربند رہے۔ ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح ہوتی تھی کہ افہام و تفہیم سے معاملہ حل کرلیا جائے اور وہ اپنے کلائنٹس کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے حالانکہ مالی اعتبار سے یہ اُن کے مفاد میں نہ تھا۔ انہوں نے پیشہ وارانہ محاذ پر مسلسل کامیابیاں حاصل کیں لیکن ان کے لئے انصاف کے مقابلے میں پیسے کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ اس پیشے کی اقدار کو زندہ رکھنے کو وہ دنیاوی فوائد سے زیادہ اہمیت دیتے تھے، ایسا آجکل کے دور میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں تک ممکن ہوتا اصغر حمید تنازعہ سے بچنے کی کوشش کرتے، تنازعات کے پرامن حل کے غرض سے سمجھوتہ کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہتے۔ تعلقات کا مان رکھنے کے لئے اکثر وہ لوگوںکے ایسے مطالبات بھی مان جاتے تھے جن کے باعث انہیں نقصان اٹھانے کا بھی خدشہ موجود ہوتا۔

انہوں نے طویل علالت کاٹی لیکن اس دوران ان کی چار بہنیں اور دو بھائی ان کے لئے مسلسل توانائی اور پیار کا ذریعہ رہے۔ ان کے سب سے چھوٹے بھائی جاوید جو کہ کان کنی کے ماہر تھے، نے ایبٹ آباد میں سکونت اختیار کرلی جبکہ دوسرے بھائی انور سلیم خان نے وکالت کا شعبہ اختیار کرنے کی بجائے ملتان میں کاروبار کی بنیاد رکھی۔ 1970ءکی دہائی کے آخر میں اصغر حمید نے اپنی والدہ کے ہمراہ اپنے آبائی گھر میں رہائش اختیار کرلی۔ اصغر حمید اپنی بیماری سے جنگ لڑرہے تھے کہ ان کے بھائی انور سلیم اچانک اس جہان سے رخصت ہوگئے۔ ایسے حالات میں بھائی کے بچھڑنے نے انہیں گہرا صدمہ پہنچایا تاہم ان کو ان کی بہنوں ڈاکٹر طاہرہ اور فاخرہ کا ساتھ رہا۔

ساہیوال کی وکلاءکمیونٹی نے اصغر حمید کی غیر معمولی شخصیت کو غیر معمولی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ساہیوال بار ہال میں اصغر حمید کے چیمبر کے سامنے والے دروازے کو ”باب اصغر حمید“ کا نام دیا ہے۔ احمد شہاب خان اور حسن انور خان نے ساہیوال میں اس پیشے سے تعلق رکھنے والے افراد کے ذہنوں میں اصغر حمید کا نام زندہ رکھنے کے لئے 50 سال کی محنت سے بنائی جانے والی ذاتی لائبریری بھی ساہیوال بار ایسوسی ایشن کو عطیہ کردی۔ اصغر حمید نے اس فانی دنیا میں اپنی زندگی بے چینی کے عالم میں گزاری، خدا سے دعا ہے کہ آخرت میں ان کی روح کو اطمینان اور راحت نصیب ہو۔

مزید :

کالم -