مودی حکومت انتہاپسند ہندو مجرموں کو کس طرح تحفظ دیتی ہے؟اپنی ہی اعلیٰ سرکاری افسر نے دوغلا پن بے نقاب کر دیا

مودی حکومت انتہاپسند ہندو مجرموں کو کس طرح تحفظ دیتی ہے؟اپنی ہی اعلیٰ سرکاری ...
مودی حکومت انتہاپسند ہندو مجرموں کو کس طرح تحفظ دیتی ہے؟اپنی ہی اعلیٰ سرکاری افسر نے دوغلا پن بے نقاب کر دیا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت کا پاکستان کے خلاف تعصب اور ہندو شدت پسندوں سے محبت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہ اپنے تعصب میں کس قدر اندھا ہوچکا ہے اس کا انکشاف ایک اعلیٰ سطح کی بھارتی اہلکار کے حالیہ چشم کشا انکشافات سے ہوا ہے۔

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق ریاست مہاراشٹرا کی سپیشل پبلک پراسیکیوٹر روہنی سالیان نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بھارت کی متعصب ذہنیت کا بھانڈہ پھوڑ دیا ہے۔ روہنی نے بتایا کہ ہندوشدت پسندوں کے مقدمات میں اسے خصوصی طور پر حکام کی طرف سے ہدایات جاری کی گئیں کہ ان شدت پسندوں کے ساتھ نرمی برتی جائے اور انہیں اپنے قانونی فرائض اور انصاف کے تقاضوں کے خلاف کام کرنے کی ہدایت کی گئی۔ روہنی کو جن شدت پسندوں کے ساتھ نرمی برتنے کو کہا گیا ان میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس میں ملوث ہندو دہشت گرد بھی شامل تھے۔

روہنی نے اخبار کو بتایا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت بننے کے جلد ہی بعد انہیں ایک فون آیا اور ملاقات کرنے کو کہا گیا۔ جب ایک صاحب ان سے ملنے آئے تو کہا کہ ان کیلئے پیغام ہے کہ ہندوشدت پسندوں کے ساتھ نرمی برتی جائے۔ ان کے پاس پیغام لانے والے شخص کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ہندوشدت پسندوں کے خلاف تحقیقات کرنے والے ادارے NIA کا اعلیٰ افسر تھا۔ روہنی کا کہنا ہے کہ اس غیر اخلاقی دباﺅ کے بعد انہوں نے درخواست کی کہ انہیں NIA کے مقدمات سے علیحدہ کردیا جائے تاکہ وہ دیگر مقدمات پر کام کرسکیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -