صحت مند بچے کی پیدائش کیلئے ماہرین نے دنیا بھر کے مردوں کو انوکھا مگر اہم ترین مشورہ دے دیا

صحت مند بچے کی پیدائش کیلئے ماہرین نے دنیا بھر کے مردوں کو انوکھا مگر اہم ...
صحت مند بچے کی پیدائش کیلئے ماہرین نے دنیا بھر کے مردوں کو انوکھا مگر اہم ترین مشورہ دے دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) جدید سائنس کی تحقیقات یہ ثابت کر رہی ہیں کہ جیسے جیسے مردوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے ان کے سپرم کی کوالٹی کم ہوتی جاتی ہے اور زیادہ عمر میں باپ بننے کی صورت میں بچے میں معذوری کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔ ایک برطانوی سائنسدان نے اس مسئلے کا عجیب و غریب حل تجویز کرتے ہوئے مشورہ دیا ہے کہ مرد اپنے سپرم 18 سال کی عمر میں منجمد کروا لیں تاکہ بعد میں وہ جس بھی عمر میں والد بننا چاہیں تو منجمد کئے ہوئے صحتمند سپرم کو استعمال کر سکیں۔ 

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ بڑی عمر میں باپ بننے کی صورت میں بچے میں آٹزم، شیزوفرینینا اور دیگر زہنی و جسمانی مسائل کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ابرٹے یونیورسٹی آف ڈنڈی کے سائنسدان ڈاکٹر کیون سمتھ نے برطانوی محکمہ صحت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو سپرم محفوظ کرنے کے لئے سپرم بینک کی سہولت فراہم کریں تاکہ اگر وہ بعد ازاں کسی وقت والد بننا چاہیں تو صحتمند سپرم کو استعمال کر سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بھی پرائیویٹ سیکٹر میں سپرم فریز کرنے کی سہولت دستیاب ہے لیکن اس کا خرچ تقریباً 200 پاﺅنڈ (تقریباً 32000 پاکستانی روپے) سالانہ ہے، جو کہ نوجوانوں کے لئے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے لہٰذا حکومت کو اس سلسلہ میں اپنی طرف سے اقدامات کرتے ہوئے سپرم بینک قائم کرنا چاہئیں۔

دوسری جانب فرٹیلٹی ماہرین نے ڈاکٹر سمتھ کی تجویز کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سمتھ نوجوانوں کو مصنوعی ولدیت کی طرف مائل کرنا چاہ رہے ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے مردوں میں والد بننے کی صورت میں ان کے بچوں کے لئے زہنی اور جسمانی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور اس کا قدرتی حل اوائل عمری میں باپ بننے کو ترجیح دینا ہے نا کہ سپرم کو فریز کر کے بعد میں استعمال کرنا۔ ڈاکٹر سمتھ نے اپنی متنازعہ تجویز مشہور سائنسی جریدے Medical Ethics میں لکھے گئے ایک مضمون میں دی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -