مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور ناشکراپن

مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور ناشکراپن
مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور ناشکراپن

  

پوری دنیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقل و شعور سے حالات کا تجزیہ کرکے اپنا آنے والا کل خوشحال بنا رہی ہے، لیکن بدقسمتی سے برصغیر میں ’’قحط الرجال‘‘ کی صورت حال ہے، جس کا کریڈٹ الیکٹرانک میڈیا کو تھوڑا بہت ضروردیا جا سکتا ہے۔ دور کی بات نہیں ہے، ابھی چند ہفتے پہلے گرمی سے بھارت میں تین ہزار سے زیادہ افراد لقمہ ء اجل بنے۔ کراچی میں بھی گرمی کی وہی شدت پیدا ہوئی تو ایک ہزار سے زیادہ اموات واقع ہوئیں۔ حیرت ہے بھارت میں کسی نے لوڈشیڈنگ یا بجلی کے نہ ہونے کو اموات کی وجہ قرار نہیں دیا، لیکن پاکستان میں ان اموات کا ذمہ دار لوڈشیڈنگ کو قرار دے دیا گیا، اگر واقعی لوڈشیڈنگ سے اموات ممکن ہوتیں تو پھر دنیا بہت پہلے ختم ہو چکی ہوتی۔

روزے 2ہجری میں فرض ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے کہ روزے پہلی امتوں پر بھی فرض ہوتے رہے ہیں، کیونکہ روزے کے ذریعے ہی انسانی جسم کی صفائی ہونے کے ساتھ ایک صحت مند جسم بھی وجود میں آتا ہے، اس زمانے کے عرب کا اندازہ لگائیں، جب مسلمانوں پر روزے فرض ہوئے۔نہ تو فرج اور ایئر کنڈیشنر تھے، نہ پنکھوں کا رواج تھا، ٹھنڈے پانی کے لئے برف بھی موجود نہیں تھی۔ انواع و اقسام کے پکوان بھی میسر نہیں تھے۔ موسم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صحرا کی گرمی میں ریت اتنی زیادہ گرم ہوجاتی ہے کہ اس پر آسانی سے مکئی بھونی جا سکتی ہے، لیکن کبھی صرف اس وجہ سے کوئی موت نہیں ہوئی کہ وہاں پر اس زمانے میں بجلی نہیں تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر لوڈشیڈنگ کو انسانی اموات کا ذمہ دار قرار دیا جائے تو پھر انسانی ارتقاء اور انسانی تہذیب کا وجود ختم ہو جانا چاہیے تھا۔بجلی کا تصور یا جتنی آسانیاں اس وقت ہمیں میسر ہیں، ان کا تصور ماضی بعید میں کہاں موجود تھا، لیکن اس وقت الیکٹرانک میڈیا نہیں تھا، جس کی وجہ سے لوگ ہنسی خوشی وسائل کے بغیر بھی خوشحال اور مطمئن زندگی بسر کرتے تھے، آج ہم ناشکرے پن میں تمام اقوام کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظرانداز کرکے جہالت کی ایک نئی دنیا آباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زندگی موت تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے، وہ اس سے ایک منٹ زیادہ بھی زندہ نہیں رہ سکتا، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم بیماروں یا مصیبت زدگان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ اللہ نے سب سے بڑی طاقت جدوجہد کی دی ہے، جس کی وجہ سے آج کا انسان اتنی آسودہ زندگی بسر کر رہا ہے۔

ضرورت تو اس امر کی تھی کہ جس وقتنیپال کے پہاڑوں میں زلزلہ آیا تھا تو کم از کم سارک ممالک کے جغرافیہ دان اور سائنسدان فوراً اکٹھے ہو کر زلزلے کی وجہ سے موسمی تغیرات کا جائزہ لیتے، کیا اس سے پہلے بھی کبھی بھارت میں تین ہزار سے زیادہ اموات گرمی کی وجہ سے ہوئی تھیں یا پاکستان میں ایک ہزار افراد گرمی سے مرے تھے۔کیا لاہور کی جون کی بارشیں پچھلے برسوں میں بھی ایسی ہی ہوا کرتی تھیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان فوراً نوٹس لیتی کہ بھارت میں یکایک اتنی شدید گرمی کیسے پیدا ہو گئی ہے کہ تین ہزار سے زیادہ اموات واقع ہو گئی ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ انڈیا میں بھی بجلی کی شدید کمی ہے اور وہاں بجلی کی سہولت ایک ارب بیس کروڑ آبادی میں سے نصف کے پاس بھی نہیں، لیکن گرمی کی وجہ سے پہلے تو کبھی اتنی زیادہ اموات واقع نہیں ہوئی تھیں۔ دوسرا اہم مسئلہ مہنگائی کا ہے، جس کا واویلا کر کے الیکٹرانک میڈیا نے ناظرین کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف شاباش کے مستحق ہیں کہ انہوں نے بہت کامیاب حکمت عملی سے روزوں میں مہنگائی کو کنٹرول کر کے دکھایا۔ اگر محمد شہبازشریف مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بروقت اقدامات نہ کرتے تو ہر چیز کی قیمت ڈبل سے بھی زیادہ ہو چکی ہوتی۔ ایک چھوٹی سی مثال کافی ہے۔ تین روز پہلے شادمان کے سستے بازار میں جانے کا اتفاق ہوا تو حیرت ہوئی کہ بہترین اعلیٰ نسل کا پیاز چھتیس روپے کلو فروخت ہو رہا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ روزوں سے تین روز پہلے مَیں سبزی اور پھل منڈی گیا تو اس وقت پیاز تھوک میں پچاس روپے کلو فروخت ہو رہا تھا، سستے بازاروں میں قیمتوں کو کنٹرول کرکے پنجاب حکومت نے عام دکانوں پر بھی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ الیکٹرانک میڈیا نے واویلا مچایا ہوا ہے کہ معیاری اشیائے خورونوش ان سستے بازاروں میں دستیاب نہیں ہیں۔ کتنا اچھا ہو اگر رپورٹنگ کرنے والے اعلیٰ اور معیاری اشیائے خورونوش کی تشریح تو کر دیں کہ وہ کہاں پائی جاتی ہیں۔ کیا وہ کسی دوسری دنیا میں پیدا کی جاتی ہیں۔ عام انسانوں کے معیار کے عین مطابق تمام اشیائے خورونوش ان سستے بازاروں میں دستیاب ہیں، ہمیں اپنی ناشکری کی عادت چھوڑ دینی چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ بازاروں میں کسی چیز کی کوئی کمی نہیں اور مارکیٹیں نعمتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ *

مزید :

کالم -