پاکستان اور افغانستان تعلقات

پاکستان اور افغانستان تعلقات
 پاکستان اور افغانستان تعلقات

  

پاکستان اور افغانستان دو برادر مسلمان ہمسایہ ممالک ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے ایک دوسرے سے تاریخی روابط ہیں۔ دونوں ملکوں کے پیچ میلوں لمبی سرحد ہے، جس کے دونوں جانب سے آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا اور دونوں ملکوں کے لوگ دوسرے ملک میں تجارت اور رہائش بھی رکھتے رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے معاشی اور معاشرتی معاملات ملتی جلتی نوعیت کے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ حالات و معاملات کا تبدیل ہوتے رہنا ایک فطری عمل ہے۔ پاکستان کے ایک اور ہمسایہ ملک بھارت نے بھی افغانستان کے ساتھ تعلقات استوار کر رکھے ہیں، جس پر کسی کو بھی اعتراض کی ضرورت نہیں تھی۔ یہاں تک کہ اس نے اپنے ان تعلقات کو وہاں کے لوگوں کے دلوں میں پاکستان مخالفانہ جذبات کو ہوا دینے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ بھارت اپنے دل میں پاکستان کے لئے جو کینہ رکھتا ہے، اسے وہ ہر جگہ پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے ضرور استعمال کرتا ہے ،ایسا ہی اس نے افغانستان میں اپنے اثر ورسوخ کی بناء پر کیا۔ اس کے بعد افغانستان میں پہلے روس کا غلبہ، اس کے خلاف جنگ میں پاکستان ،افغانستان سرحد کے دونوں جانب کے لوگوں کی شرکت ،اس موقع پر امریکی کردار اور اس کے بعد ستمبر 1911ء میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو بنیاد بنا کر امریکہ کی افغانستان میں مداخلت اور ایک شدید اندرونی جنگ کا آغاز اس علاقے میں تیز رفتاری سے تبدیلیاں لے کر آیا۔

افغانستان کے اندر جاری اندرونی جنگ سے اس کا متاثر ہونا لازمی تھا، لیکن اس تمام معاملے میں پاکستان بہت بُری طرح متاثر ہوا۔ خراب اندرونی حالات کی بناء پر افغان مہاجرین کا ایک بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں داخل ہونا ایک مسئلے کی صورت اختیار کر گیا،ان مہاجرین کی آڑ میں بہت سے پاکستان دشمن عناصر بھی یہاں داخل ہو گئے، جن کی پرورش صرف پاکستان کے دشمن ملک نے کی تھی۔ یہ تمام معاملات پاکستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا موجب بنے اور پاکستان ان تمام مصائب سے بہت زیادہ متاثر ہوا، ہر ممکن ان کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔ وقت نے کروٹ بدلی ہے اور غیر ملکی فوجوں اور اتحادیوں نے افغانستان سے نکل جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سلسلہ شروع ہو چکا ہے اور ہنوز جاری ہے، لیکن ابھی تک غیر ملکی فوجوں کی ایک بڑی تعداد افغانستان میں موجود ہے، جسے بالآخر وہاں سے نکلنا ہوگا اور افغانستان بتدریج ہر قسم کے غیر ملکی تسلط سے آزاد ہو جائے گا۔ آنے والے وقت کو مدنظر رکھتے ہوئے افغانستان کے اندر موجود قوتیں اپنے اپنے حصے کا اقتدار اور طاقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہو چکی ہیں، جو بے شک ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ انتخابات کے سلسلے شروع ہوئے ہیں اور فی الوقت افغانستان میں برسراقتدار آنے والی قوتیں پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی خواہشمند ہیں۔

پاکستان اور افغانستان پچھلے تین عشروں سے بدامنی اور دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ دونوں جانب کے عوام اب ان مصائب سے نجات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان اور مسلح افواج کے سربراہ کا دورۂ افغانستان امن کی بحالی کی خواہش کا اظہار ہے۔ اسی طرح افغان سربراہان نے بھی پاکستان کا دورہ کیا اور کم و بیش ایسے ہی جذبات کا اظہار کیا ہے۔ تھوڑا عرصہ قبل ہی دونوں ملکوں نے انٹیلی جنس شیئرنگکی بنیاد پر دونوں ملکوں کی مشترکہ سرحد پر تخریب کاروں سے نمٹنے کا متفقہ فیصلہ کیا جو یقیناًدونوں ملکوں کے مفاد میں ہے اور دہشت گردوں کو قابو کرنے میں مددگار ہوگا، لیکن وہ طاقتیں جو دونوں ملکوں کے درمیان امن کی بحالی کی دشمن ہیں، انہوں نے انٹیلی جنس شیئرنگ کے خلاف جذبات ابھارنے شروع کر دیئے ہیں، لیکن یہ سلسلہ بہت دیر تک نہیں چلے گا، کیونکہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے فطرتی اتحادی ہیں اور دونوں کے مفادات مشترکہ ہیں۔ پاکستان علاقے کی ایک انتہائی اہم طاقت ہے اور اسے چین جیسے مخلص دوست ملک کا تعاون بھی میسر ہے۔ دشمن طاقتیں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی قسم کی خلیج پیدا کرنے میں ناکام رہیں گی، پاکستان اور افغانستان کا بتدریج متحد ہو جانا ایک یقینی امر ہے، اس لئے دشمن کو بہت سوچ سمجھ کر کوئی سازش تیار کرنی چاہیے، کیونکہ یہ وار ان پر الٹ بھی سکتا ہے۔ *

مزید :

کالم -