میڈیا، وفاقی انجمن؟

میڈیا، وفاقی انجمن؟
 میڈیا، وفاقی انجمن؟

  

دو تین روز قبل ایک ٹی وی نیٹ ورک پر فوٹیج دیکھی، اس میں اسی میڈیا گروپ کی سپانسرڈ پی ایف یو جے والے کشمیر کے حوالے سے یقین دہانی کرا رہے تھے کہ بھارت کے قبضہ سے کشمیر کو آزاد کرانے کیلئے خبروں کو مربوط انداز میں پیش کیا جائے گا۔ دوسری طرف کراچی کی بی ڈی ایم میں منتخب صدر کی زیر قیادت متوقع بڑے نیٹ ورک کے ملازمین کا مظاہرہ بھی ہو رہا ہے۔ اس میں یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس چینل کو بحال کیا جائے جو ابھی ٹیسٹنگ بھی شروع نہیں کر سکا تھا کہ اس کے مالکان ڈگری کیس میں ملوث ہو کر تفتیش اور عدالتی کارروائی کا سامنا کررہے ہیں، تیسرے دستور گروپ والے ہیں جو خاموش دیکھے چلے جا رہے ہیں اور کبھی کبھار ان کا کوئی بیان نظر سے گزرتا ہے۔ہم جو اس تاریخ ساز پی ایف یو جے کے ادنیٰ کارکن اور پرانے ہو گئے ہیں، یہ سب دکھ اور افسوس سے دیکھ اور سن رہے ہیں کہ یہ وہ تنظیم ہے ،جس نے 1970ء میں آمریت اور انتہا پسندی کا مقابلہ کیا، کارکنوں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے اور پھر یہی وہ تنظیم ہے جس نے 1974ء میں مئی جون کی تپتی دوپہروں میں مساوات کے کارکنوں کی ناجائز برطرفیوں اور ان کی بحالی کے لئے طویل جدوجہد کی۔ ڈنڈے کھائے اور جیلیں بھگتیں، یہ وہی تنظیم ہے، جس نے 1977ء کے مارشل لاء کے بعد اخبارات کی بندش اور آزادی اظہار کے لئے جدوجہد کی اور کامیابی حاصل کی۔ پھر اسی وفاقی یونین نے 1978ء میں سنسرشپ اور اخبارات کی بندش کے خلاف طویل جدوجہد کی، جیلیں اور کوڑے کارکنوں کے مقدر میں لکھے گئے، تاہم ان کو کامیابی ملی۔

اس پی ایف یو جے کے اصولوں میں تحفظ روزگار اور آزادی اظہار اول ترجیح رہے ہیں اور اس کے لئے کبھی کسی مصلحت سے کام نہیں لیا گیا۔1970ء کی ہڑتال (17روز) متحدہ پاکستان کی فیڈریشن نے ریفرنڈم کے بعد کرائی۔ ان دنوں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) والے کے ۔جی مصطفےٰ صدر تھے۔1971ء میں سانحہ مشرقی پاکستان اور سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ یونین فعال تھی۔ یہ درست کہ جب یہ متحد تھی تو اس وقت بھی اس میں دو مختلف نظریات کے حامل حضرات تھے اور پینل کا پینل سے مقابلہ ہوتا تھا۔ پھر 1970ء میں جب نیشنل یونین آف جرنلسٹس بن گئی، تب بھی جدوجہد جاری رہی اور پھر بالآخر دوبارہ مصالحت ہوئی اور پی ایف یو جے ایک ہو گئی جو 1977ء تک رہی، اس مارشل لاء کے بعد ہی جدوجہد کے دوران رشید صدیقی گروپ وجود میں آیا جو بعد ازاں خود اپنے اندرونی مسائل اور اختلاف کے باعث دو حصوں میں بٹا اور ایک دوستور گروپ بن گیا جو آج بھی ہے، البتہ رشید صدیقی والا دھڑا معدوم ہو چکا۔

اس بات میں الجھے بغیر کہ کون کیا اور کس طرح ہوا۔ آگے بڑھیں تو معلوم ہو گا کہ پی ایف یو جے کا وجود اور جدوجہد ہمیشہ رہی اور اصول بھی ساتھ چلتے رہے، ان دنوں صورت حال یہ تھی کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف جدوجہد جاری رہی اور جنرل ضیاء بھی اس فیڈریشن کے پیچھے پڑے رہے، ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ منہاج برنا ملازمت سے برطرف کر دیئے گئے تھے۔ نثار عثمانی قائد تھے اور ہمیشہ آواز بلند کرتے رہے ایک بار جنرل ضیاء الحق لاہور ایئرپورٹ آئے، لاؤنج کے باہر ہی میڈیا سے بات چیت ہو گئی تو نثار عثمانی نے منہاج برنا اور دوسرے برطرف لوگوں کی بحالی کی بات کی تو جنرل ضیاء الحق برہم ہو گئے اور زمین کی طرف اشارہ کرکے کہا میرا بس ہو تو میں برنا کو وہاں پھانسی لگاؤں۔ ظاہر ہے کہ نثار عثمانی نے بھی جواب دیا اور بات چیت یہاں تک ہی رہی۔

پی ایف یو جے کے حوالے سے ایک واقعہ یہ بھی یاد آیا کہ 1978ء کی تحریک کے نتیجے میں بی ڈی ایم نے فیصلہ کیا کہ کوئی سرکاری دعوت قبول نہیں کی جائے گی کہ جب بھی یونین کی مجلس عاملہ یا پھر انتخابات کے لئے پی ڈی ایم کے اجلاس ہوتے تو میزبان یونین ظہرانے، عصرانے اور عشائیوں کا انتظام کرتی، اس سلسلے میں حکومت بھی دعوت دینی تھی ،لیکن 1978ء کی تحریک کے باعث یہ فیصلہ ہو گیا ہوا تھا کہ کوئی سرکاری دعوت قبول نہیں کی جائے گی اور یہ سلسلہ جاری تھا، ایسے میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں سول حکومت بنی اور محمد خان جونیجو اس کے پہلے وزیراعظم بن گئے، ان کی کابینہ میں ہمارے محترم اقبال احمد خان بھی تھے، جن کو ابتدا میں وزارت اطلاعات کا شعبہ بھی دیا گیا تھا۔

اس دور میں پی ایف یو جے کے انتخابات کا وقت آیا، راولپنڈی میں بی ڈی ایم ہونا طے پائی تھی، جب راولپنڈی پریس کلب لیاقت باغ میں اجلاس شروع ہوا تو آر یو جے کی طرف سے بتایا گیا کہ عشائیہ محترم اقبال احمد خان کی طرف سے ہوگا، یہ اطلاع برادر ہمایوں فر (مرحوم) نے دی کہ ہمایوں اور احمد حسن علوی (مرحوم) بہت متحرک تھے، اس پر میٹنگ میں بہت ہنگامہ ہوا کہ بی ڈی ایم کے فیصلے سے روگردانی کی گئی۔ اس ہنگامے کو منہاج برنا نے دوبارہ بی ڈی ایم میں تحریک پیش کرکے منظوری لے کر دورکرایا اور عشائیہ میں شرکت کی گئی۔ یہ کچھ صرف یاد دہانی کے لئے ہے ورنہ تفصیل میں تو بہت کچھ ہے(انشاء اللہ کتاب لکھوں گا) یہ بھی اپنا دکھ سنانے کے لئے تائید کی غرض سے تحریر کیا ہے۔

آج ہم اس مخمصے میں ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ دکھ تو یہ ہوتا ہے کہ تحفظ روزگار اور آزادی صحافت کے اصول کب کے ہوا ہو گئے اب تو یہ فیڈریشن بھی میڈیا گروپوں کے حوالے سے تقسیم ہو گئی۔ ایک بڑے میڈیا گروپ نے شکست خوردہ حضرات کو فیڈریشن بنا کر قبول کر لیا اور وہ اس سہارے بزعم خود انجمن ہیں، جبکہ دوسری طرف منتخب مہربانوں کو کسی نے اعلانیہ گود تو نہیں لیا، لیکن یہ دوسرے میڈیا گروپ کی اعانت کے ’’ملزم‘‘ ٹھہرائے جا رہے ہیں، درمیان میں ضیاء الدین اور حسین نقی جیسے لوگوں نے سب دھڑے ایک کرنے کی کوشش کی۔ میں نے حسین نقی پر واضح کیا کہ وہ ایسا نہیں کر سکیں گے کہ بات کسی اصول اور جذبے کی نہیں، مفادات کی ہے اور ایسا ہی ہو، اب ہم جیسے لوگوں کو مجبوراً حالات دیکھ کر جی جلانا پڑتا ہے کہ کیا سے کیا ہوگیا ہے اور کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہوگا، یہی وجہ ہے کہ اب حیثیت ایک آبزرور کی اختیار کر لی ہے، اللہ سب کو فراست و فہم اور عقل عطا فرمائے۔

نوٹ: بہت احتیاط سے جذبات کا اظہار کیا کہ شاید اسی سے آج کے قائدین کو کارکنوں اور پیشے پر رحم آ جائے اور یہ اصولوں پر ایک ہو جائیں اور میڈیا گروپوں کی چپقلش سے آزاد ہو جائیں۔

مزید :

کالم -