کاشتکاروں کو پودوں کی تعداد 23 سے35ہزار فی ایکڑ رکھنے کی ہدایت

کاشتکاروں کو پودوں کی تعداد 23 سے35ہزار فی ایکڑ رکھنے کی ہدایت

  

فیصل آباد (بیورورپورٹ) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ اگرانومی کے ماہرین زراعت نے کہاہے کہ موسمی کپاس سے بھرپور پیداوار کے حصول کیلئے کاشتکارپودوں کی تعداد 23 سے35ہزار فی ایکڑ رکھیں اور اس مقصد کیلئے فصل کی بجائی کے 25 سے30دن کے اندر چھدرائی کا عمل مکمل کرلیں نیز چھدرائی کے دوران کمزور اور فالتو و بیمار پودے بھی نکا ل دیئے جائیں تاکہ وہ صحت مند پودوں پر اثرانداز نہ ہوسکیں۔ ایک ملاقات کے دوران انہوں نے بتایاکہ پاکستان رقبے اور پیداوار کے لحاظ سے دنیا کے کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے ۔انہوں نے کہاکہ کاشتکار موسمی بی ٹی اقسام میں پھول نکلنے کے مرحلہ سے 15ستمبر تک تین بوریاں فی ایکڑ اقساط میں ڈالیں اورزمینوں میں زنک و بوران کی کمی کی صورت میں فصل کو ان کی مقدار ضرور ڈالیں کیونکہ ان کے استعمال سے فصل کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جڑی بوٹیاں کپاس کی پیداوار میں کمی کا سبب بنتی ہیں کیونکہ یہ جڑی بوٹیاں کپاس کے پودے کی کھاد، خوارک ، روشنی اور پانی حاصل کرتی ہیں جن کی بروقت تلفی بہت ضروری ہے۔انہوں نے بتایاکہ 50سے 60 دن تک اگر جڑی بوٹیوں سے کپاس کو بچالیا جائے تو اس کے بعد فصل خود بخود ان جڑی بوٹیوں پر کنٹرول حاصل کرلیتی ہے جبکہ اس سلسلہ میں کپاس کی فصل کو گوڈی بھی فائدہ دیتی ہے ۔

کیونکہ اس سے بھی جڑی بوٹیاں تلف کرنے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے کاشتکاروں کو مزیدہدایت کی کہ وہ کھیتوں میں بارشوں کے دوران بارشی پانی کو کپاس کی فصل میں کھڑا نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے فصل کو سخت نقصان پہنچنے کااحتمال ہے۔

مزید :

کامرس -