مشرق وسطیٰ کی صورت حال

مشرق وسطیٰ کی صورت حال
 مشرق وسطیٰ کی صورت حال

  

اس ماہ کے آغاز میں جب ایک طرف پیرس میں 20سے زائد ممالک کے اعلیٰ حکومتی نمائندوں نے اپنی اس ’’کامیابی‘‘کا دعویٰ کیا کہ داعش کے خطرے پر ’’کامیاب حکمت عملی ‘‘اختیا ر کی گئی ہے تو عین اس وقت زمینی صورت حال یہ تھی کہ دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ داعش عراق کے صوبے عنبر کے دارالحکومت رمادی پر بھی اپنا قبضہ مکمل کر چکی تھی۔ شام کا تاریخی شہر پالمیر بھی اس کے زیر کنٹرول جا چکا تھا، جبکہ اب داعش شام کے صوبے الیپوکی جانب بھی تیزی سے پیش قدمی کر رہی ہے۔ داعش کے اچانک مشرق وسطیٰ کے منظر نامے پر ابھرنے سے مشرق وسطیٰ میں کئی ایسی تبدیلیاں جنم لے چکی ہیں ، جن کا کچھ عرصہ پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ما ضی کے حریف جو ایک دوسرے کے وجود کو ختم کرنے کے در پے تھے، اب ایک دوسرے کے حلیف بنتے نظر آ رہے ہیں۔اس لئے مشرق وسطیٰ کے اہم اسٹیک ہولڈرز کی پالیسیوں میں تضادات بھی نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں ۔ جیسے امریکہ، شام میں داعش کے ساتھ ساتھ القاعدہ کی ایک مقامی شاخ النصرہ کے خلاف بمباری کر رہا ہے، مگر امریکہ کے اتحادی جیسے ترکی اور سعودی عرب النصرہ کو بھر پورما لی اور عسکری امداد فراہم کر رہے ہیں،کیونکہ النصرہ شام میں بشارالاسد حکومت اور ایران نواز حزب اللہ کے خلاف لڑائی کر رہی ہے۔

اِسی طرح یمن میں امریکہ گزشتہ کئی سال سے القاعدہ کی مقامی شاخ تنظیم القاعدہ فی جزیرہ العرب (AQAP)کے خلاف ڈرون حملے کرتا رہا ہے، حال ہی میں اس کا اہم رہنما ناصر الوہاشی بھی ان حملوں میں مارا گیا،مگر یمن میں بھی امریکہ کے اتحادی عرب ممالک القا عدہ فی جزیرہ العرب کو اس بناء پر امداد فراہم کر رہے ہیں کہ سعودی عرب یمن میں حو ثیوں کے خلاف جنگ کر رہا ہے اور القاعدہ فی جزیرہ العرب بھی حو ثیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے ۔شام، عراق، یمن اور لیبیا میں جاری حالات کے حوالے سے اس وقت مشرق وسطیٰ میں دو الگ الگ بڑی جنگیں برپا ہیں۔ایک طرف امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی داعش کے ساتھ ساتھ شام میں النصرہ اور یمن میں القاعدہ فی جزیرہ العرب کے خلاف بھی جنگ کر رہے ہیں، جبکہ عرب ممالک امریکہ کو القاعدہ کے ان گروپوں کے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح کی مدد، حتیٰ کہ انٹیلی جنس پر مبنی معلومات بھی فراہم نہیں کر رہے،بلکہ النصرہ اور القاعدہ فی جزیرہ العرب کو مالی اور عسکری امداد بھی فراہم کر رہے ہیں۔

دوسری طرف عرب ممالک اور ترکی، شام میں داعش سمیت بشار الاسد حکومت اور ایران کے حامی گروپوں کے خلاف جنگ کر رہے ہیں۔یہ بات باعث حیرت ہے کہ عالمی میڈیا مشرق وسطیٰ میں داعش کے ابھار اور اس کی کامیابیوں کو تو زیر بحث لا رہا ہے، مگر داعش کی کامیابیوں اور مشرق وسطیٰ میں بدلتے ہوئے حالات کے باعث القاعدہ کی تبدیل شدہ حکمت عملی پر خاص توجہ نہیں دی جا رہی۔ شام اور یمن میں القاعدہ کے دونوں گروپ، یعنی النصرہ اور القاعدہ فی جزیرہ العرب اور عرب ممالک کی حکومتوں کے مقاصد اب بالکل ایک جیسے ہو چکے ہیں۔ عرب ممالک کی طرح یہ دونوں تنظیمیں بھی بشار الاسد حکومت کا خاتمہ اور ایران نواز حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے لئے کارر وائیاں کر رہی ہیں۔ القاعدہ کے یہ دونوں گروپ اب اپنی پرانی حکمت عملی کو چھوڑتے ہوئے شہروں اور قصبوں پر باقاعدہ کنٹرول بھی حاصل کر رہے ہیں اور ان علاقوں کے لئے ان کی پالیسیاں داعش کی پالیسیوں سے بالکل مختلف ہیں۔

مثلاًداعش جن علا قوں پر بھی کنٹرول حاصل کرتی ہے، وہ ان علاقوں میں کسی اور گروپ کے اثرو رسوخ کو تسلیم نہیں کرتی،مگر النصرہ جن علاقوں کا کنٹرول حاصل کر رہی ہے، وہ وہاں پر بشار الاسد مخالف دیگر گروپوں کے ساتھ تعاون کر تی ہے، جیسے اس نے شمالی شام کے علاقوں میں اسد مخالف گروپ Army of Conquest کے ساتھ تعاون کیا۔ اِسی طرح داعش میں اکثریت شام سے باہر والے جنگجوؤں کی ہے، جبکہ النصرہ میں اکثریت ایسے جنگجوؤں کی ہے جن کا تعلق شام سے ہی ہے۔ اب النصرہ کے رہنما ’’الجزیزہ ‘‘ میں دیئے گئے انٹرویوز میں یہ موقف اپنا رہے ہیں کہ اب وہ مغرب کے خلاف کارروائیاں نہیں کریں گے اور ان کی جانب سے جہاد کا ایسا نظریہ سامنے آ رہا ہے، جس کو قوم پر ستی پر مبنی جہاد قرار دیا جا سکتا ہے، جس کے عالمی عزائم نہیں ہیں۔ اِسی طرح یمن کے اندر القاعدہ فی جزیرہ العرب کی پالیسوں میں بھی اب واضح فرق نظر آ رہا ہے۔القاعدہ کی اس شاخ نے یمن کے جنوب مشرقی صوبے حزرموت میں کنٹرول حاصل کر لیا۔ دارالحکومت مکالا کے بینک کو لوٹا اور پھر شہر خا لی کر دیا۔ شہر میں اپنی طرز کی شر یعت نافذ کر وانے کی بجائے شہر کو ایک مقامی کونسل کے حوالے کر دیا۔

یہاں قارئین کو یہ یاد دلانا دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ القاعد ہ نے اپنے وجود میں آنے کا پہلا جواز ہی یہ بتایا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ نواز عرب حکو متوں کے خلاف بھر پور کار روائیاں کرے گی، مگر آج کی بدلتی ہو ئی صورت حال میں یہی القاعد ہ انہی عرب ممالک کی حلیف نظر آرہی ہے اور یہ عرب شاہی حکومتیں بھی جو ، اب سے کچھ عرصہ پہلے القاعدہ کے اثرو رسوخ سے نہ صرف خائف رہتی تھیں، بلکہ اس کے خاتمے کے لئے بھی بھرپور اقدامات کر رہی تھیں،اب القا عدہ ہی کی شاخوں کو یمن اور شام میں مالی اور عسکری امداد فراہم کرنے میں بھی کو ئی قبا حت محسوس نہیں کر تیں، یعنی مشرق وسطیٰ کی اس تا زہ صورت حال نے صدیوں پرانے اس اصول کی صداقت کو ایک بار پھر درست ثا بت کر دیا کہ سیاسی حکمت عملی اپنانے میں نہ توکوئی مستقل دوست ہو تے ہیں اور نہ مستقل دشمن۔

حکمرانوں اور مسلح تنظیموں کی سیا سی حکمت عملیاں کچھ بھی ہوں، مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں رہنے والے عام انسانوں کو ان ممالک میں جاری جنگوں سے شدید نقصان ہوا ہے۔ صر ف شام میں بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش میں اب تک دو لاکھ 30ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 70لاکھ سے بھی زائد شامی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے آج کے جنگی حالات جہاں ایک طرف سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں تو دوسری طرف شاہی اور شخصی آمریتوں نے بھی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں خانہ جنگیاں برپا کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ نے جب 1991ء میں عراق پر حملے کی آڑ میں سعودی عرب میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے تو ردعمل میں القاعدہ وجود میں آئی، پھر جب 2003ء میں امریکہ نے عراق پر باقاعدہ قبضہ کیا تو اس کے ردعمل میں درجنوں جہادی تنظیمیں وجود میں آئیں۔افسوس ماضی کی ان پالیسیوں سے کچھ نہ سیکھتے ہوئے، جب امریکہ نے لیبیا میں قذافی اور شام میں بشارالاسد حکومت کے خلاف ایک بار پھر جہا دی تنظیموں کی مدد کرنا شروع کی تو داعش وجود میں آ گئی۔ مشرق وسطیٰ کے عام انسان آخر کب تک سامراجی پالیسیوں ،اپنی شاہی حکومتوں اور شخصی آمروں کی بنائی گئی پالیسیوں کی قیمت اپنے خون سے ادا کرتے رہیں گے؟ *

مزید :

کالم -