رمضان بازار، چینی کے لئے لمبی قطاریں!

رمضان بازار، چینی کے لئے لمبی قطاریں!

  

معاصر کی خبر کے مطابق رمضان بازاروں میں چینی کے سٹالوں پر لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں ختم ہونے کو نہیں آ رہیں، ان سٹالوں کے منتظم حضرات چینی لینے کے لئے آنے والوں کے ساتھ بدتمیزی بھی کر رہے ہیں اور اپنے من پسند افراد کو چھ چھ آٹھ آٹھ کلو چینی بھی دے دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کی سخت ہدایات اور وزراء کے علاوہ اراکین اسمبلی کے دوروں کے باوجود منتظمین کے رویے میں کوئی فرق نہیں آیا اور اب لوگوں نے رمضان بازاروں میں جانا کم کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے3.5ارب روپے کی رمضان سبسڈی دی، آٹے کا تھیلا310روپے اور چینی52روپے فی کلو مہیا کرنے کی ہدایت کی اور سخت نگرانی کا حکم بھی دیا۔وزیراعلیٰ کی کاوش اپنی جگہ،حالات کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ گزشتہ روز پرائس کنٹرول کے اجلاس میں خود وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ٹماٹر جیسی سبزی کے نرخوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ رمضان بازار لگانے اور اشیاء ضرورت و خوردنی سستی کرنے کے اعلان کے باوجود ابھی تک عوام کومطلوبہ سہولت میسر نہیں آئی۔ اب عوام یہ پوچھ رہے ہیں کہ اربوں روپے کی اس سبسڈی کا کیا فائدہ جو قومی خزانے میں سے دی گئی ہے۔ اگر عوام نے خوار ہی ہونا ہے تو بہتر ہے کہ بازار میں لٹتے رہیں، چنانچہ سفید پوش طبقہ تو پہلے ہی ان سستے رمضان بازاروں کی بجائے ایسے سٹوروں پر جا رہا تھا، جہاں معیار بہتر اور دام بھی مناسب ہوتے ہیں، چنانچہ وہ380 روپے میں دس کلو کا آٹا اور65سے68 روپے فی کلو چینی خریدنا پسند کر رہے ہیں۔ البتہ گھروں میں استعمال کم کر دیا گیا ہے۔ اب تو یہ احساس اجاگر ہو گیا کہ سبسڈی بھی کام نہیں آئی۔ وزیراعلیٰ کو ان سب امور کا نوٹس لینا ہو گا اور یہ خود ان کا اپنا کام نہیں، ضلعی انتظامیہ کے وہ اہلکار جن کی ذمہ داری ہے ان کو اپنے فرائض دیانت داری سے سرانجام دینا چاہئیں۔ *

مزید :

اداریہ -