افغان خفیہ ایجنسی کی پاکستان پر الزام تراشی

افغان خفیہ ایجنسی کی پاکستان پر الزام تراشی

  

پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان خفیہ ایجنسی کا یہ موقف سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ پاکستان انٹیلی جنس افسر نے افغان پارلیمنٹ پر حملے میں طالبان کی مدد کی، افغان خفیہ ایجنسی نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی پشاور میں تیار ہوئی، پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ افغانستان نے اس طرح کا الزام لگایا ہو، جبکہ پاکستان کی پالیسی اس حوالے سے بڑی واضح ہے کہ افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے افغانستان کے دوروں کے دوران اپنی یہ پالیسی واضح کر دی تھی اور تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کا عہد بھی کیا تھا۔ پاکستان نے واضح کر دیا تھا کہ وہ افغانستان کا استحکام اور وہاں امن و امان چاہتا ہے۔ اس سلسلے میں ماضی قریب میں پاکستان کا کردار واضح رہا ہے، لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ افغان خفیہ ایجنسی نے پاکستان پر الزام تراشی کرکے ایک بار پھر تعلقات کی بہتری کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے، پاکستان کا تو اب بھی یہ موقف ہے کہ طالبان کو صدر اشرف غنی کی حکومت کو تسلیم کرکے امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے، ضرورت اس امر کی ہے کہ صدر اشرف غنی کو اپنی حکومت کے افسروں پر یہ واضح کر دینا چاہئے کہ وہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتر ہونے دیں اور حامد کرزئی کے دور کی طرح الزام تراشی کی روش ترک کر دیں۔

مزید :

اداریہ -