مقررہ وقت میں فیصلہ سنانے کی پابندی

مقررہ وقت میں فیصلہ سنانے کی پابندی

  

سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ماتحت عدالتیں اب مقررہ وقت میں فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔ بد ھ کوسپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے، جو جسٹس ثاقب نثار، جسٹس مقبول باقر اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل تھا، سندھ ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے خلاف دائر اپیل پر اپنا فیصلہ جاری کیا۔ تفصیلی فیصلہ جسٹس ثاقب نثار نے تحریر کیا ہے، جس کے مطابق ٹرائل ختم ہونے کے بعد سول کورٹس30 دن، ڈسٹرکٹس کورٹس45دن اور ہائی کورٹس90 دن کے اندر فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔اس کے ساتھ اسپیشل کورٹ اور تمام قسم کے ٹریبونلز بھی45 دن میں فیصلہ سنانے کے پابند ہوں گے۔ فیصلے میں اس پہلو کو بھی سامنے رکھا گیا ہے کہ کئی مقدمات کی سماعت بلا عذربار بار ملتوی کر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مقدمات لمبے عرصے تک چلتے رہتے ہیں۔مقدمات کی طوالت پر قابو پانے کے لئے اس فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ڈسٹرکٹ کورٹس اور اسپیشل کورٹس کے جج جب فیصلہ لکھیں گے تو اس کے آخر میں وقت کے ساتھ یہ بھی بتائیں گے کہ اس مقدمے کی کتنی سماعتیں ہوئیں اور کتنی بار اس کی سماعت ملتوی کی گئی، اس طریق�ۂ کار سے اس جج کی کارکردگی پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی اور کیس زیادہ لمبے عرصے تک لٹکایا نہیں جا سکے گا۔اگر کسی جج نے بغیر کسی ٹھوس وجہ کے مقررہ وقت میں فیصلہ نہ سنایا تو اس کی پچھلی کارکردگی کامکمل جائزہ لیا جائے گا اور پھر اس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی، یہ چیز ان کی اے سی آر میں بھی درج کی جائے گی۔فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ میں کام کی نوعیت باقی عدالتوں سے مختلف ہے اوراس کے معاملات زیادپیچیدہ ہوتے ہیں، بعض اوقات فیصلے پر بار بار غور کرنے کی بھی ضرورت پڑتی ہے جس کے لئے کافی وقت درکار ہوتا ہے اس لئے سپریم کورٹ کے ججوں کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے لئے ٹائم فریم کا تعین خود کریں۔فیصلے میں کہا گیا گو کہ سول پروسیجر کوڈ (Civil Procedure Code) میں توفیصلہ سنانے کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا، بلکہ صرف مناسب وقت کے اند ر فیصلہ سنانے کی بات کی گئی ہے، لیکن ظاہر ہے مناسب کا مطلب کئی مہینے اور سال ہرگز نہیں ہو سکتا، اس لئے اب تمام ماتحت عدالتیں مقررہ وقت کی پابند ہوں گی۔عدلیہ ریاست کا اہم ستون ہے اور اگر کسی عمارت کے ستون ہی ہل جائیں تو پھر وہ کیسے مضبوط رہ سکتی ہے۔

اس میں دو رائیں نہیں ہو سکتیں کہ انصاف میں تاخیر ، انصاف نہ دینے کے مترادف ہے۔ آئین اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر کوئی کام وقت پر پورا نہ ہو سکے تو اسے بعد میں پوراکر لیا جائے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کو ہر معاملے ہی میں لاگو کر لیا جائے۔ہمارے ہاں انتخابی دھاندلیوں کا جائزہ لینے کے لئے الیکشن ٹربیونل قائم کئے گئے تھے جو اپنا کام 120 دن میں مکمل کرنے کے پابند تھے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا جس کی وجہ سے پیچیدگیاں بڑھتی چلی گئیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو قومی ایکشن پلان بنایا گیا اس میں دو سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کی ضرورت عدالتی نظام میں موجود خرابیوں کی وجہ ہی سے پڑی۔المیہ ہے کہ مقدمات کا کئی کئی سال تک فیصلہ نہیں ہوتا اور مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔مقدمے کی سماعت مکمل ہو جانے کے بعدفیصلہ سنانے میں غیر معمولی تاخیر تو بالکل بلا جواز ہے۔ کسی بھی مقدمے کا ٹرائل ختم ہونے کا مطلب ہے کہ تمام تر گواہ پیش ہو چکے، ان کے بیانات ریکارڈ ہو گئے،وکلا دلائل دے چکے ، اب مزید دلائل و شواہد موجود نہیں ہیں، لہٰذا فاضل جج ان کی روشنی میں فیصلہ مرتب کرنے کے ذمہ دار ہیں،لیکن بعض اوقات اس میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ مقدمہ درج کرانے والاپہلے توکئی مہینے اور بعض اوقات سالہا سال اپنا مقدمہ لڑتا رہتا ہے،مخالف وکیل تاریخ پر تاریخ ڈلوائے جاتا ہے اور پھر جب سماعت مکمل ہو جاتی ہے تو جج فیصلہ محفوظ کر لیتے ہیں اور سنانے میں تاخیر برتتے ہیں۔ اگر ٹرائل ختم ہونے کے بعد مناسب وقت میں فیصلہ نہ سنایا جائے تو پوری کارروائی کی وقعت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ ایک جج کو ہر حال میں بے خوف و خطر فیصلہ سنانے کی ہمت رکھنی چاہئے، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اس کا مطلب ہے کہ عدالتی نظام غیر موثر اور غیر فعال ہے۔بعض اوقات فیصلوں میں تاخیر کے باعث ان کی اہمیت ہی باقی نہیں رہتی ،جو نقصان ہونا ہوتا ہے وہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کی بھر پائی مشکل ہو جاتی ہے۔ فیصلے وقت پر نہ ہونے سے معاشرے میں فرسٹریشن بڑھتی ہے، لوگ مقدمے درج کرانے سے گریز کرتے ہیں اور اس طرح قانون شکن عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بہت امید افزاء ہے، عدالتی نظام بہتر ہونے سے کئی مسائل کا علاج ممکن ہو سکے گا۔ جب کوئی اعلیٰ عدالت اپنی کسی ز یریں عدالت جیسے سپریم کورٹ ہائی کورٹ کو، ہائی کورٹ ڈسٹرکٹ کورٹ کو کوئی مقدمہ ایک خاص مدت میں نمٹانے کی ہدایت کرتی ہے، تو وہ اسے خاطر میں نہیں لاتیں، اسے ایک نصیحت سمجھ کر اپنی ڈگر پر کام کرتی چلی جاتی ہیں۔اب یہ فیصلہ تو ہو چکا ہے، لیکن سپریم کورٹ کو بہرصورت خیال رکھنا ہو گا کہ فیصلے کی روح کے مطابق اس کا اطلاق ہو تاکہ لوگوں کوبر وقت انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے اور عدالتی نظام پر ان کا اعتماد بحال ہو سکے۔

مزید :

اداریہ -