متحدہ کیخلاف تحقیقات کیلئے پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرار داد منظور

متحدہ کیخلاف تحقیقات کیلئے پنجاب اسمبلی میں متفقہ قرار داد منظور

  

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے بارے میں متفقہ قرارداد منظور، قرارداد پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال نے پیش کی جسے معمولی ترمیم کے بعد منظور کر لیا گیا، پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے8ویں جماعت کی کتاب میں سرائیکستان اور صوبہ ہزارہ کے حوالے سے نقشے چھاپنے پر اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی طرف سے تحریک التوائے کار ایوان میں پیش، جومحکمہ سے جواب آنے تک موخر کردی گئی ۔گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی میاں اسلم اقبال کی طرف سے ایک قرارداد ایوان میں پیش کی گئی جس میں یہ کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کا یہ ایوان متحدہ قومی موومنٹ کے بارے میں غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کرتا ہے اور رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔ایم کیو ایم پر دہشت گردوں کی مدد کرنے اور انڈیا کی ایجنسی ’’را‘‘سے تربیت حاصل کرنے کے الزامات پہلے بھی لگ چکے ہیں لہٰذایہ ایوان وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا جائے اور اگرالزامات سچ ثابت ہوں تو آرٹیکل (6) کے تحت الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کاٹرائل کیا جائے۔یہ قرارداد متفقہ طور پر منظو ہوگئی۔ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی جانب سے ایوان میں ایک تحریک التوائے کار پیش کی گئی جس میں نشاندہی کی گئی کہ آٹھویں جماعت کی جغرافیہ کی کتاب میں ٹیکسٹ بک بورڈ نے سرائکستان اور ہزارہ صوبہ کے نقشے شائع کردیے ہیں۔اور کشمیر کے مقبوضہ حصے کو آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر اجازت لئے متنازعہ لکھ دیا ہے اور اشاعت کے لئے منظوری بھی نہیں لی۔اس حوالے سے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ، اور مطالبہ کیا ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں میں ایسا بے بنیاد اور پاکستان دشمن مواد چھاپنے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔اس تحریک التوائے کار کو محکمہ سے جواب آنے تک موخر کردیا گیا ۔

لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب اسمبلی نے سال 2014--15ء کے 39ارب97کروڑ29لاکھ18ہزار روپے مالیت کے ضمنی بجٹ کی منظوری دیدی،اپوزیشن کی طرف سے4کٹوتی کی تحریکوں میں سے صرف2پر ہی مشکل سے بات ہو سکی،باقی 2رولز144/4گلوٹین کے تحت فارغ کردی گئیں بعدازاں ایجنڈے کی کارروائی مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا۔گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس 55منٹ کی تاخیر سے 9بجکر55منٹ پر سپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں ضمنی بجٹ کی منظوری کے حوالے سے مطالبات زر پر بات شروع ہوئی ،ضمنی بجٹ کے40مطالبات زر جن کی ایوان نے منظوری دی ، پہلا صوبائی آبکاری کی مد میں5کروڑ44لاکھ26ہزار،اسٹامپ کی مد میں 29کروڑ 70لاکھ9ہزار ،ٹیکس و محصولات کی مد میں 14کروڑ3لاکھ93ہزار،انتظام عمومی کی مد میں92کروڑ92لاکھ89ہزار ،بسلسلہ صحت کی مد میں4ارب97کروڑ7لاکھ82ہزار،بسلسلہ صنعت کی مد 2کروڑ86لاکھ97ہزار،بسلسلہ متفرق اخراجات کی مد میں 12کروڑ91لاکھ46ہزار،بسلسلہ سول ورکس کی مد میں 56کروڑ11لاکھ38ہزار،بسلسلہ ریلیف کی مد میں18ارب57کروڑ99لاکھ68ہزار،بسلسلہ اسٹشنری و پرنٹنگ کی مد میں 37لاکھ39ہزار،بسلسلہ متفرق اخراجات کی مد میں 1ارب62کروڑ78لاکھ56ہزار،میڈیکل سٹور اور کوئلے کی سرکاری تجار ت کی مد میں 75لاکھ84ہزار روپے،بسلسلہ زرعی ترقیاتی و تحقیق42لاکھ25ہزار،بسلسلہ شاہرات و پل9ارب12کروڑ68لاکھ83ہزار،بسلسلہ قرضہ جات برائے میونسپلیٹیزکی مد میں2ارب51کروڑ17لاکھ57ہزار،بسلسلہ افیون کی مد میں ایک ہزاربسلسلہ مالیہ ااضی،جنگلات،رجسٹریشن،اخراجات برائے قوانین موٹر گاڑیاں،آبپاشی وبحالی اراضی،نظام عدل،جیل خانہ جات و سزایافت گان کی بستیاں،پولیس،عجائط گھر،تعلیم،خدمات صحت،زراعت،ماہی پروری،ویٹرنری،امداد باہمی،مواصلات،شہری دفاع، سبسڈی،محکمہ ہاؤسنگ اینڈ فزیکل پلاننگ،غلے اور چینی کی سرکاری تجارت،ڈویلپمنٹ،تعمیرات آبپاشی،ٹاؤن ڈویلپمنٹ،اور سرکاری عمارت کی مد میں ایک ایک ہزار روپے کی منظوری دی گئی۔اس طرح پنجاب اسمبلی کے ایوان نیسال 2014--15ء کے 39ارب97کروڑ29لاکھ18ہزار روپے مالیت کے ضمنی بجٹ کی منظوری دیدی،اپوزیشن کی طرف سے4کٹوتی کی تحریکوں میں سے صرف2پر ہی مشکل سے بات ہو سکی،باقی 2رولز144/4گلوٹین کے تحت فارغ کردی گئیں۔ قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ضمنی بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے جماعت اسلامی کے سید وسیم اختر نے کہا پنجاب کے بجٹ میں تمام نوازشیں لاہور پر ہوئی ہیں،جنوبی پنجاب کو یکسر نظر انداز کردیا گیا ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے ،پنجاب حکومت نے اپنے سابقہ دورحکومت میں قرارداد منظور کی تھی اس پر عمل درآمد کیا جائے،انہوں نے مزید کہا پنجاب حکومت نے ضمنی بجٹ میں اربوں روپے رکھے ہیں ،اخراجات کا تخمینہ لگانے والا کوئی نہیں ہے ،یہ حکمرانوں کی کمزوری ہے،موجودہ حکمران غیر جمہوری ہیں،غریب آدمی کے ٹیکسوں کو ہوا میں اڑا دیا جاتا ہے،مری کیلئے پنجاب حکومت نے 200ارب روپے رکھے ہیں اور جنوبی پنجاب کیلئے 50لاکھ کیا یہ گڈ گورنس ہے،تحریک انصاف کے میاں اسلم نے کہا رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہیں پکڑ دھکڑ شروع کردی جاتی ہے، ٹی ایم اوز کو خصوصی ٹاسک دے دیے جاتے ہیں غریب ریڑھی بانوں کو بلاوجہ پریشان کیا جاتاہے ،مگر ان سب سے حاصل ونے والی کمائی ٹی ایم ایز بند کمروں میں بیٹھ کر بھندربانٹ کرلیتے ہیں،گلیوں میں لگنے والی لائٹ میں بھی کروڑوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے ،ایل ڈی ایک خود مختار ادارہ ہے اس کا بھی آڈٹ کیا جائے اس میں بھی حکومت کی ملی بھگت سے کرپشن کی جارہی ہے،مراد راس نے کہا گلبرگ میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے اور نہ ہمارے حلقوں میں ترقیاتی کام کرائے جارہے ہیں ہمیں ہمارا حق دیا جائے،وقاص حسن موکل نے کہا صوبے میں کمپنیوں کا ٹرینڈ چل گیا ہے ہر ادرے کی کمپنی بنائی جارہی ہے،گوشت ،دودھ،زراعت سمیت دیگر اداروں کی کمپنیاں بنادی گئی ہے ،ایک غیر ملکی کمپنی جو لاہور کی صفائی کرتی ہے اس کو پیچھلے سال ایک ارب میں ٹھیکہ دیا گیا تھا اس سال 9ارب روپے میں ٹھیکہ دیا ہے اس کی کیا وجہ ہے کیا ان اداروں کو کوئی پوچھنے والا ہے ،خدیجہ عمر نے کہا پیچھلے سات سال سے لوکل گورنمنٹ کے دفاتر کو تالے لگے ہوئے ہیں50ہزار عوامی نمائندے فارغ بیٹھے ہیں ان کی جگہ 37افسران صرف ڈیوٹی دے رہے ہیں ان سب کا بھی کنٹرول فرد واحد کی بند مٹھی میں ہے ،سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود بھی یہ بند مٹھی نہیں کھل رہی ہے ،بلدیاتی الیکشن کرانے میں حکومت کو کیا خوف ہے ،وزیر اعلیٰ کبھی لاہور ،اسلام آباد یا مری سے باہر نکل کر دیہاتوں کی حالت بھی دیکھ لیں،قاضی احمد سعید نے کہا ٹی ایم اے لیاقت پور میں صفائی کو کوئی انتظام نہیں ہے وہاں صفائی کرنے والا عملہ ہی موجود نہیں ہے اس کے علاوہ اس کے ساتھ ہی ایک علاقہ ہے میں بھی کچرے کے ٹھیر ہیں حکومت لاہور سے توجہ ہٹا کر جنوبی پنجاب کی عوام کی طرف بھی توجہ دے۔

مزید :

صفحہ اول -