پنجاب حکومت اور چینی کمپنی میں 300میگاواٹ کے سولر منصوبے کا معاہدہ

پنجاب حکومت اور چینی کمپنی میں 300میگاواٹ کے سولر منصوبے کا معاہدہ

  

لاہور(پ ر)پنجاب حکومت اور چینی کمپنی کے مابین گزشتہ روز چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت 300 میگاواٹ کے سولر منصوبے کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ معاہدے کی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف تھے۔ معاہدے کے تحت چینی کمپنی ذو نرجی چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت قائداعظم سولر پارک بہاولپور میں 300 میگاواٹ کا منصوبہ 25 دسمبر 2015ء تک مکمل کرے گی۔0 5میگاواٹ کا سولر منصوبہ رواں برس 14 اگست کو بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا جبکہ 600 میگاواٹ کا سولر منصوبہ 2016ء کے اختتام پر تک بجلی مہیا کرے گا۔چینی کمپنیوں اور وفاقی حکومت کے مابین انرجی پرچیز اور امپلی منٹیشن کے معاہدوں پر بھی دستخط کئے گئے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چائنہ اکنامک کوریڈور کے تحت آج پہلے منصوبے کے معاہدے کی تفصیلی دستاویزات پر دستخط کئے گئے ہیں۔چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی یہ عظیم شروعات ہیں۔ ترقی اور خوشحالی کے طویل سفر کا یہ نقطہ آغاز ہے۔چین کے صدر، وزیراعظم، عوام ، پاکستان میں چینی سفیر، قونصل جنرل اور تمام متعلقہ ادارو ں کی انتھک محنت سے یہ خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہو ں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 33 ارب ڈالر صرف بجلی کے منصوبوں کیلئے رکھے گئے ہیں۔ آج کا معاہدہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔سی پیک کے تحت 900 میگاواٹ کے سولر منصوبے پر 140 ارب روپے کی چینی سرمایہ کاری ہوگی۔چینی حکومت کی طرف سے سولر منصوبے کا کنٹریکٹ ذونرجی کو دیا گیا ہے ۔ 900 میگاواٹ کے سولر منصوبے میں سوفیصد چینی سرمایہ کاری ہے۔ میں آج اس عظیم موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ چین کے صدر کے دورہ کے صرف دو ماہ بعد سی پیک کے تحت پہلے معاہدے پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔یوم آزادی پر 50میگاواٹ کا پہلا سولر منصوبہ بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔ قائداعظم سولر پارک میں 100 میگاواٹ کا سولر منصوبہ نیشنل گرڈ کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔ مجموعی طور پر قائداعظم سولر پارک میں ایک ہزار میگاواٹ کے سولر منصوبے لگیں گے اور یہ پارک خطے کا سب سے بڑا سولر پارک ہوگا۔ ساہیوال میں 1320 میگاواٹ کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔2017ء تک 320 1میگاواٹ کا کول پاور پراجیکٹ مکمل ہو جائے گا۔ دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ مل کر تاریخی سی پیک کے پیکیج کو حقیقت میں بدلیں گے۔سی پیک پر عملدرآمد سے ملک میں خوشحالی اور ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ چین کے صدر، وزیراعظم، عوام کے بے حد مشکور ہیں۔چین کی یہ سرمایہ کاری پاکستان کیلئے احسان عظیم ہے۔اب بال ہمارے کورٹ میں ہے۔ محنت، دیانت، امانت سے منصوبوں کو مکمل کریں گے۔ زراعت ترقی کرے گی، فیکٹریاں چلیں گی اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ چین کی قیادت نے وزیراعظم محمد نواز شریف اور 18 کروڑ عوام کے ساتھ لازوال محبت کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم محمد نواز شریف کے پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے کے خواب کو عملی جامہ پہنائیں گے۔میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ سی پیک کے تحت منصوبوں پر عملدرآمد پر کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے۔ اندھیرو ں کو روشنیوں میں تبدیل کرکے دم لیں گے۔140 ارب روپے کی سرمایہ کاری صرف ایک منصوبے کیلئے ہے۔ میری پاکستان کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی تجوریو ں کے منہ کھول دیں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں۔ عوام کی محنت سے کمائی گئی دولت پر پاکستان کے عوام کا پہلا حق ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے خلاف مکروہ سازشیں عوام ناکام بنا دیں گے۔پہلے بھی جھوٹا پراپیگنڈا کرکے کہا گیا کہ یہ چینی قرضے ہیں لیکن پوری قوم نے دیکھ لیا کہ حقائق برعکس نکلے۔ چند شرپسند لوگوں کی سازش کو 18 کروڑ عوام نیست و نابود کر دیں گے۔ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے مخلصانہ کاوشیں کی جا رہی ہیں۔ چین نے پاکستان کا محبت سے ہاتھ تھاما ہے۔2017-18 تک لوڈشیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہوگی۔بجلی کا بحران ایک دہائی کا بوجھ ہے اور اب اس بوجھ کو چین نے بانٹا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ چین کے تعاون سے منصوبے لگیں گے، اندھیرے دور ہوں گے اور روشنی آئے گی۔قوم جب تک متحد ہے ہمارا کوئی بال بیکا نہیں کر سکے گا۔ بجلی کی کمی دور ہو جائے تو پاکستان کی شرح نمو 2 فیصد خوبخود بڑھ جائے گی۔ٹرانسمیشن لائنز کی اپ گریڈیشن کیلئے وفاقی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ کراچی میں گرمی کے باعث ہونے والی اموات پر دلی دکھ اور افسوس ہوا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ کراچی میں ہونے والی ہلاکتوں پر سیاست کرنا بہت زیادتی ہے۔ ان اموات پر کسی صورت سیاست نہیں کرنی چاہیئے بلکہ ان خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیئے جن کے پیارے ان سے بچھڑ گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کو زرداری صاحب کے دور سے 650 میگاواٹ بجلی پیپکو سے مل رہی ہے۔مشترکہ مفادات کونسل میں 2 بار فیصلہ ہوا کہ کے ای ایس سی کی 350 میگاواٹ بجلی کاٹ لی جائے اور صرف 300 میگاواٹ دی جائے لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

لاہور(این این آئی)وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ2018ء تک صوبہ پنجاب کے ہر بچے کے سکول داخلے کا ہدف مقرر کیا گیاہے ،بچوں کے سکول داخلے کے ہدف کو ہر قیمت پر حاصل کرنے کیلئے سخت محنت اورعزم سے کام کرنا ہوگا، ’’پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب‘‘ پروگرام کے تحت طلبا وطالبات کو معیاری تعلیم دینے کا ہدف بھی مقرر کیا گیاہے،پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت آئندہ تین برس کے دوران 28لاکھ بچوں کوزیورتعلیم سے آراستہ کیا جائے گا،انتہاء پسندی کے رحجانات کے خاتمے اورملک سے غربت اورجہالت کے اندھیرے دور کرنے کیلئے تعلیم انتہائی موثر ہتھیار ہے،تعلیم ترقی کا واحد زینہ ہے،تعلیم کی اسی اہمیت کے پیش نظر پنجاب حکومت نے صوبے میں فروغ تعلیم کیلئے انتہائی موثر اورتاریخی اقدامات کیے ہیں۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار یہاں اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،جس میں ’’پڑھو پنجاب، بڑھو پنجاب ‘‘پروگرام پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سکولوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر ز کوکارکردگی کی بنیاد پر اضافی الاؤنس دینے کی منظوری دی گئی۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے موثر حکمت عملی اپنائی ہے۔سکولوں میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر اربوں روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔سکولز ریفارمز روڈ میپ پر عملدر آمد کے تعلیمی شعبے کی بہتری پر انتہائی دوررس اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اساتذہ قوم کے معماروں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردارادا کررہے ہیں۔اساتذہ سے اضافی ڈیوٹی نہیں لی جائے گی اور اساتذہ سے ڈیوٹی نہ لینے کے فیصلے پر سختی سے عملدرآمدکرایاجائے گا۔اس ضمن میں خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کروں گا ۔اساتذہ اورتدریسی عملے کی پرفارمنس مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے اوراس ضمن میں باقاعدہ مانیٹرنگ میکانزم بھی مرتب کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کارکردگی بہتربنانے کے لئے سزا او رجزا کا نظام انتہائی ضروری ہے۔وزیراعلیٰ نے مقررکردہ تعلیمی اہداف کے حصول میں ناکامی پر ڈی سی او راجن پور او رڈی سی او ڈیرہ غازی خان کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ جو اچھا کام کرے گا اس کی بھر پور ستائش کی جائے گی۔خراب کارکردگی پر سخت بازپرس ہوگی۔دونوں ڈی سی اوز کو کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں تعلیمی اہداف کے حصول کے حوالے سے اچھی کارکردگی دکھانے والے پہلے تین اضلاع اور خراب کارکردگی والے تین اضلاع کے انتظامی افسران کو بلایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے امتحانات کے طریقہ کار میں بہتری لانے کیلئے اقدامات پر پوری ٹیم کو شاباش دی اور کہا کہ سکولوں میں معیاری تعلیم کے فروغ کیلئے اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز کو اضافی الاؤنس کارکردگی کی بنیاد پر ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے سکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی فوری تعمیر و مرمت کیلئے وسائل فراہم کردےئے گئے ہیں اوراس ضمن میں تیزرفتاری سے عمارتوں کی تعمیر ومرمت کا کام مکمل کرایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ 2018ء کے تعلیمی اہداف کے حصول کیلئے محنت،دیانت اورلگن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد، چیف سیکرٹری ، چیئرمین پنجا ب ایجوکیشن فاؤنڈیشن ، انجینئر قمر اسلام راجہ، پارلیمانی سیکرٹری سکولز ایجوکیشن ، وائس چیئرمین پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ، ماہرین تعلیم، برطانیہ کے بین الاقوامی ادارہ ڈیفڈ کے پاکستان میں سربراہ رچرڈ منٹگمری ، دیگر عالمی اداروں کے حکام اور سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے افسران نے شرکت کی۔

مزید :

صفحہ اول -