ٹھارویں ، اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ

ٹھارویں ، اکیسویں آئینی ترمیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ ...

  

 اسلام آباد(اے این این)سپریم کورٹ نے اٹھارویں ، اکیسویں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کی ۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اس بات کی تشریح ہم کرینگے کہ آرٹیکل 63 اے پارلیمانی جمہوریت کیلئے موزوں ہے یا نہیں، آئین کا کوئی بنیادی خاصہ ہو سکتا ہے تو وہ پارلیمانی جمہوریت ہے، کسی شخص پر بطور سربراہ کوئی جماعت اعتماد کرتی ہے تو اس میں کیا خرابی ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل نہیں رہا ، آمروں نے سیاسی جماعتوں کو تقسیم کر کے کنگ پارٹیاں بنائیں ۔ مشرف دور میں رکن پارلیمنٹ کیلئے بی اے کی شرط لگا دی گئی، قیام پاکستان کے وقت بی اے کی شرط ہوتی تو قائد اعظم بھی نا اہل ہو جاتے کیونکہ ان کے پاس بیرسٹر کی ڈگری تھی ۔ بی اے کی شرط کے باعث بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ بھی نا اہل ہوگئے جنہوں نے سیاسی بحرانوں کے حل میں ہمیشہ کردار ادا کیا ۔ اٹارنی جنرل سلمان بٹ نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا انتخاب جمہوری عمل سے ہوتا ہے ۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے ذریعے سیاسی جماعتیں اپنے سربراہ کا انتخاب کرتی ہیں ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ عوام اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں ۔ عوامی نمائندوں کو ججوں کی تقرری کے عمل میں بھی کردار دیاگیا ہے ۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے کہ پوری قوم دہشتگردی کا جلد از جلد خاتمہ چاہتی لیکن وفاقی حکومت کے طریقہ کار سے دہشتگردوں کو سزائے دینے میں تاخیر ہوگی ۔ اس سے مزید تاخیر ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف کون سے مقدمات فوجی عدالتوں میں بھجوانے ہیں یہ فیصلہ وفاقی حکومت کرے ۔فل کورٹ نے آئینی ترامیم اور فوجی عدالتوں کیخلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے ۔ عدالت کا کہنا ہے کہ محفوظ کیا گیا فیصلہ مناسب وقت پر سنایا جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -