انقرہ ، فوجی افسروں کا ٹرائل ، دستوری عدالت نے صدر کے اختیارات محدود کر دیئے

انقرہ ، فوجی افسروں کا ٹرائل ، دستوری عدالت نے صدر کے اختیارات محدود کر دیئے

  

انقرہ(آئی این پی )ترکی کی اعلیٰ دستوری عدالت نے فوجی افسروں کے عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق صدر کے اختیارات محدود کردیے ۔ترک روزنامے حریت کی رپورٹ کے مطابق دستوری عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ صدر کے بجائے کونسل آف اسٹیٹ سپریم کورٹ میں جن کمانڈروں کا ٹرائل کیا گیا ہے،ان کی معطلی سے متعلق حتمی فیصلہ دے گی۔دستوری عدالت نے یہ حکم حزب اختلاف کی بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کی جانب سے فوجی قانون میں شامل کی گئی ایک ترمیمی دفعہ کے خلاف دائرکردہ اپیل پر جاری کیا ہے۔دستوری عدالت 14 جنوری کو اس ترمیم کو منسوخ کرچکی ہے۔اس کے تحت فوجداری کیسوں سے متعلق صدر کو حتمی اختیار دے دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ترکی کی حکمراں آق پارٹی اسی ماہ کے اوائل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں اپنی اکثریت کھو بیٹھی ہے اور اب اس کو نئی حکومت بنانے کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔اس شکست کے بعد دستوری عدالت کا یہ فیصلہ اس کے لیے دوسرا بڑا دھچکا ہے۔توقع ہے کہ صدر اردگان آیندہ ہفتے وزیراعظم اور آق کے لیڈر احمد داؤد اوغلو کو باضابطہ طور پر مخلوط حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔اگر داؤد اوغلو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو پھر صدر پارلیمان میں دوسری بڑی جماعت ری پبلکن پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے۔اگر یہ دونوں جماعتیں نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام رہتی ہیں تو صدر ملک میں قبل از وقت انتخابات کرانے کا اعلان کرسکتے ہیں۔رائے عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق ترک پہلے کی طرح اپنے سابقہ جماعتوں ہی کو ووٹ دیں گے اور نئے انتخابات کی صورت میں ان کی رائے یا انتخابی فیصلے میں تبدیلی کا بہت کم امکان ہے۔

مزید :

صفحہ اول -