عوام کو انصاف ملنا چاہئے ، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدر آمد ماتحت عدلیہ کا فرض ہے

عوام کو انصاف ملنا چاہئے ، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدر آمد ماتحت عدلیہ کا ...

  

 لاہور(نامہ نگار)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ٖفیصلہ دیا ہے کہ سماعت مکمل ہونے کے بعد ماتحت عدالتیں مقدمات کا فیصلہ سنائیں گی جس میں سول کورٹس 30روز ،ڈسٹرکٹ کورٹس 45روز اورہائی کورٹس 90روز میں فیصلہ سنائیں گی تاہم جو جج صاحبان اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہیں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔اس حوالے سے ملک کے آئینی اور قانونی ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ انصاف فوری اور سستا ہونا چاہیے عدالت عظمیٰ نے اچھا فیصلہ دیا ہے جس سے عوام کیلئے بہتری ہوگی۔اس حوالے سے جسٹس(ر)وجیہ الدین احمد نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم نہایت اہمیت کا حامل ہے البتہ آئین اور قانون میں فیصلہ سنانے کی مدت متعین نہیں ہے ،معروضی حالات کے پیش نظر فیصلہ دیا گیا ہے، سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد تمام ماتحت عدلیہ کا فرض بنتا ہے۔ مقدمات پر فیصلے سنانے میں تاخیر کی وجوہات ہوتی ہیں لوئر کورٹس میں کیسز کی بھر مار ہوتی ہے جس وجہ سے ججوں فیصلہ جلد سنانے میں دقت ہوتی ہے۔گواہوں کے پیش ہونے کے بعد بحث کو زیادہ نہیں لٹکانا چاہیے اور جو جج جان بوجھ کر غفلت کرے اس پر سپریم کورٹ کے حکم کیمطابق کاررائی ہو سکتی ہے۔اعلیٰ عدالت کا فیصلہ کسی صورت بھی رد نہیں ہو سکتا۔ماہر قانون دان اے کے ڈوگر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اچھا ہے آئین میں درج ہے کہ انصاف سستا اور جلد فراہم کیا جائے ،ہمارے ہاں مہنگا بھی ہے اور مقدمات کو لٹکایا بھی جاتا ہے ،مقدمات کے لٹکائے جانے کیوجہ جج صاحبان کا محنت نہ کرنا ہے ،جسٹس(ر)افتخار چوہدری کو دیکھا ہے کہ وہ رات 12سے ایک بجے تک کام کرتے تھے اور صبح اٹھ کر عدالت بھی آتے تھے۔سپریم کورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ سمیت تمام ماتحت عدالتوں اور ہر شہری کو ماننا پڑتا ہے۔ایڈووکیٹ ہائی کورٹ اظہر صدیق نے کہا کہ ماضی میں بھی ایسے عدالت عظمی کی جانب سے دیئے گئے گئے ہیں لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے ،انہوں نے مزید کہا کہ فیصلے سنانے والے ججوں کی پروٹیکشن بھی بہت ضروری ہے جس کے بغیر اس پر عمل درآمد نہیں کروایا جاسکتا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -