الطاف حسین کی تقریر، متحدہ کا جواب، پھسپھسا ہے

الطاف حسین کی تقریر، متحدہ کا جواب، پھسپھسا ہے

  

تجزیہ :چودھری خادم حسین:

کراچی میں گرمی سے ہونے والی اموات کے بعد چرچا متحدہ کے خلاف الزامات اور کرپشن کے الزام میں گرفتاریوں کا ہے اور یہ سب رینجرز کے ہاتھوں ہو رہی ہیں، سندھ حکومت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ موقف یہ ہے کہ رینجرز کو یہ اختیارات قانونی طور پر خود حکومت ہی نے دیئے اور ان سے تجاوز نہیں کیا جا رہا، ادھر متحدہ کی طرف سے جو دفاع کیا گیا وہ کمزور گردانا گیا اور خود الطاف حسین کی تقریر میں بھی وہ دم خم نہیں تھا ان کی تقریر کے دو اہم نکات تو یہ ہیں کہ وزیر دفاع پاکستان کو دفع کرنے کے درپے ہیں اور وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’متھا نہ لگاؤ‘‘ ان دو کے علاوہ یہ کہ میرے وکلاء بی بی سی کی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں، اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا گیا اور نہ ہی یہ کہا کہ بی بی سی کے خلاف دعویٰ کیا جائے گا یا اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ وزیرداخلہ نے دانہ ڈالا کہ متحدہ میں سبھی ایک سے نہیں، محب وطن بھی ہیں۔

اس وقت سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں اور جمہوریت نواز احباب کو فکر دامن گیر ہے کہ ایک بار پھر مجموعی طور پر سیاست کٹہرے میں ہے، اب تو متحدہ اور پیپلزپارٹی ہدف ہیں، جلد ہی رخ دوسری جماعتوں کی طرف بھی ہوگا البتہ یہ حیرت ضرور ہے کہ محترم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا رہا ، اب تو وفاقی سیاسی قیادت اور عسکری قیادت ایک صفحہ پر نظر آ رہی ہیں تو کیا گند صرف دو جماعتوں میں نظر آیا ہے اور کسی جماعت میں نہیں۔ ان صفحات میں ایک سے زیادہ مرتبہ گزارش کی گئی تھی کہ قومی اسمبلی میں زیر التواء احتساب بل کو چھان پھٹک کر منظور کرایاجائے تو ایک نیا احتسابی ادارہ بن جائے جو خود مختار، آزاد اور بااختیار ہوتاکہ کرپشن کے حوالے سے بلا امتیاز کارروائی کا آغاز ہو جومسلسل جاری رہے اس طرح انتقامی کارروائی یا صرف ایک دو کو ہدف بنانے کے الزام سے بچ جاتے۔ اب تو صورت حال یہ ہے کہ ملک بھر میں سیاسی حکومت کا نام ہی نام ہے ورنہ کارروائی تو ادارے کررہے ہیں، اب یہ معجزہ ہے کہ چودھری نثار کو پھر سے وقت مل گیا ہے۔ پوچھا یہ بھی جا رہاہے کہ سارے چور اگر دو جماعتوں میں ہیں تو کیا باقی سب فرشتے ہیں۔

ایک بات اور بھی پیش نظر رہے کہ عوام کرپشن کے خلاف ضرور ہیں اور وہ امن کے لئے کی جانے والی کوششوں کے بھی ساتھ ہیں لیکن ان کی ضرورت صرف یہی نہیں، ان کو بجلی، پانی ، صحت اور اشیاء ضرورت چاہئیں وہ لوڈشیڈنگ سے اتنے ہی تنگ ہیں جتنا ان کو مہنگائی نے پریشان کر رکھا ہے، اب بھی سیاست دان ہی نشانے پر ہیں، کہتے ہیں کہ انصاف ہونا تو ہے لیکن ہوتا نظر بھی آنا چاہیے اور یہ مکمل احتساب سے ممکن ہے اس لئے نیا احتسابی ادارہ بنانے کے لئے قانون کی ضرورت تو ہے اور اسے جلد منظور کرانا چاہیے۔

دوسری بات یہ کہ بھارتی رویے پر بہت بے چینی پیدا ہوئی ہے، دوستانہ تعلقات کے دعویدار ’’بغل میں چھری منہ میں رام رام‘‘ کا راگ شروع کر چکے ہیں۔ ہماری مسلح افواج چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں تاہم ان کی توجہ ضرب عضب کے علاوہ بلوچستان کی طرف بھی ہے۔ ہم بھارت کی ریشہ دوانیوں کو دیکھ رہے ہیں، بتا رہے ہیں کہ ’’را‘‘ ملوث ہے۔ بھارت نے تو بین الاقوامی پلیٹ فاموں پر پاکستان کے خلاف سازش شروع کر رکھی ہے۔ پاکستان کیوں نہیں، اقوام عالم سے رجوع کرتا کہ ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی ہیں، وہ تو چین حق دوستی ادا کررہا ہے تو حقائق کی روشنی میں ہی کیا جا رہا ہے، لیکن ہم عرصہ سے ’’را‘‘ کی مداخلت کا ذکر کرتے آ رہے ہیں لیکن کسی عالمی فورم پر بات نہیں کی جو پوری تیاری کے ساتھ ہونا چاہیے۔

پاکستان گوناگوں اندرونی مسائل اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے۔ خبردار رہنے کی ضرورت ہے تو قومی اتفاق رائے بھی بہتر ہوتا کہ تمام سیاسی جماعتیں بھی رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کرتیں اور سب کی مشاورت سے مہم شروع ہوتی اور یہ اسی طرح ممکن ہے کہ ’’احتساب ادارے‘‘ کے لئے احتساب بل منظور کرکے بلا تاخیر احتساب شروع ہوتا۔

مزید :

تجزیہ -