سندھ میں کرپٹ مافیا کیخلاف آپریشن شیر آیا، شیر آیاکے مصداق

سندھ میں کرپٹ مافیا کیخلاف آپریشن شیر آیا، شیر آیاکے مصداق

  

تجزیہ: مبشر میر :

سندھ میں کرپٹ مافیا کے خلاف گرینڈ آپریشن کا شور ،’’شیر آیا ،شیر آیا‘‘ کے مصادق ہے ۔الزامات کی زد میں آنے والے اکثر بااثرا فراد مختلف راستوں سے بیرون ملک فرار ہوچکے ہیں ۔باخبر ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ منظور قادر کاکا گلگت بلتستان کے راستے ہمسایہ ملک چین فرار ہوئے اور وہیں سے کینیڈا روانہ ہوگئے ۔ذرائع نے بتایا کہ منظور قادر کے پاس بلیو پاسپورٹ ہے ۔میڈیا کے بعض افراد یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ کرپشن مافیا کے خلاف آپریشن میں صرف فوج متحرک ہے ۔راہ فرار اختیار کرنے والے ان کی آشیرباد سے ہی ایسا کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں جبکہ یہ تاثر درست دکھائی نہیں دیتا کیونکہ احتساب کرنے کا مینڈیٹ افواج پاکستان کے پاس نہیں ۔ایف آئی اے اور نیب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے اور یہ ادارے سول حکومت کے ماتحت کام کرتے ہیں ۔سندھ میں کئی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے ضمانت قبل ازگرفتاری کروائی ہے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ عدالتیں دھڑ دھڑ ضمانتیں لے رہی ہیں کسی عدالت نے کسی سے استفسار نہیں کیا کہ آخر وہ کس خوف کے تحت ضمانت کروانا ضروری خیال کرتے ہیں ۔کیا انہیں ریاستی اداروں اور خاص طور پر عدالتوں پر اعتبار نہیں کہ ان کو بالآخر انصاف ملے گا ۔پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کا بیرون ملک چلے جانا بھی ایسا ہی تصور کیا جارہا ہے اور ڈیل کا تاثر دیا جارہا ہے ۔حالانکہ ان میں سے کسی کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں ہے ۔اگر واقعی کچھ لوگ مطلوب ہیں تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنا چاہیے لوگ محض افواہوں پر عمل کرتے ہوئے اپنی توانائی ضائع کررہے ہیں ۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی میں جتنی قربت دکھائی دیتی ہے اتنی ہی سیاسی رقابت بھی موجود ہے ۔تحریک انصاف کی کراچی سمیت سندھ میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کے مقابلے کے لیے مسلم لیگ ن میدان میں اترنا چاہتی ہے ۔وہ سندھ کی تیسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر خود کو منوانا چاہتی ہے ۔اس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں کراچی سے دو راہنما سلیم ضیاء اور نہال ہاشمی اور اسلام آباد کی نشست سے اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والی خاتون راحیلہ مگسی کو ممبر منتخب کروایا گیا ،صدر مملکت کا تعلق بھی کراچی سے ہے ۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت سندھ میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا بھرپور ارادہ رکھتی ہے ۔اپنے کیس کو مضبوط انداز میں پیش کرنے کے لیے وہ دعویٰ کرسکتی ہے کہ اس نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری پر قابو پانے میں بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ان کے فیصلوں کے نتیجے میں کراچی کا امن واپس لوٹ رہا ہے ۔کراچی کے تاجر وزیراعظم میاں نواز شریف کو آصف علی زرداری سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں ۔تاجروں کا پرزور مطالبہ تھا کہ کراچی سے لاہور تک موٹر وے جلد از جلد تعمیر ہو ۔کراچی میں میٹرو بس بھی وفاقی حکومت خود بنانا چاہتی ہے ۔انہوں نے یہ منصوبہ آصف زرداری کی خواہش کے باوجود سندھ حکومت کو نہیں دیا ۔آصف علی زرداری کی پارٹی کی اسٹریٹ پاور کی بحالی کی کوشش اگرچہ ناکام ہوگئی ہے لیکن وہ کچھ عرصہ بعد دوبارہ کوشش کریں گے ۔ان کے خیال میں ان کا اصل ترپ کا پتہ ان کی بیٹی آصفہ بھٹو زرداری ہے جسے وہ عام انتخابات سے کچھ عرصہ پہلے میدان میں اتاریں گے ۔بہرحال ابھی سیاسی آنکھ مچولی کم اور ایم کیو ایم پر گرفت مضبوط ہوئی دکھائی دے رہی ہے ۔

مزید :

تجزیہ -