کراچی ، ہر محلہ سے جنازہ اٹھا،حکومت کا حکومت کے خلاف احتجاج

کراچی ، ہر محلہ سے جنازہ اٹھا،حکومت کا حکومت کے خلاف احتجاج

تجزیہ: نعیم الدین:

کراچی شہر میں گذشتہ چھ روز کے دوران ایک قومی سانحہ پیش آیا ، صوبائی حکومت نے اب تک کیا انتظامات کیے ہیں، عوام منتظر ہے۔ ہر محلے سے ایک جنازہ اٹھایا گیا ہے، کراچی میں سینکڑوں افراد کی جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ گرمی کی شدت میں قدرے کمی ضرور آئی ہے، لیکن جمعہ کو بھی 33 افراد ہیٹ اسٹروک سے لقمہ اجل بن گئے ۔ گذشتہ چھ روز کے دوران لو، حبس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے سبب اکثر لوگ بلڈ پریشر ہائی ہونے سے امراض قلب والے مریض اور کمزور افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جمعہ کے دن بھی مریضوں کی بڑی تعداد ہسپتالوں میں داخل ہوئی۔ قبرستانوں میں جنازوں کے تانتے بنے رہے۔ جبکہ گورکن صاحبان رات دن قبریں کھودنے میں مصروف رہے ۔ حکومت سندھ کو بحران پر قابو پانے کے بجائے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کس بات کی غمازی کرتا ہے، یہ سوچنے والی بات ہے کہ کبھی کسی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وفاق کے ساتھ مل کر مسائل حل کرے اور مشکلات سے نجات دلوائے۔ لیکن ایسا نہیں ہے شرمندگی کے بجائے بلکہ وفاقی حکومت کو شرمندہ کیا جارہا ہے ۔ اس وقت شہر کی بڑی آبادی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ ضرورت ہے اس بات کی ہے کہ آپس میں لڑنے کے بجائے بحران کا خاتمہ کیا جائے۔ رمضان کے مبارک مہینے میں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا ہوجانا انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ صوبائی حکومت نے شہر کو صرف رفاحی اداروں کے سپرد کررکھا ہے۔ اور خود بجائے بحران پر قابو پانے کے احتجاج میں لگی رہی۔ صوبائی حکومت اور سندھ پولیس کے پاس جو گاڑیاں ہیں، ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ حکومت چاہتی تو ایمبولینس کی کمی کو دیکھتے ہوئے سرکاری گاڑیاں بھی فراہم کرسکتی تھی، مگر اس نے ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔

مزید : تجزیہ