اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کیلئے درخواست کی سماعت 14جولائی تک ملتوی

اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کیلئے درخواست کی سماعت 14جولائی تک ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے دائر درخواست کی سماعت 14جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیا۔جسٹس شمس محمود مرزا نے ڈاکٹر محمد شریف کی درخواست پرسماعت شروع کی تودرخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے ملک میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی زبان کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے قوم کی ذہنی نشوونما بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔دنیا کی تمام تر اقدام نے اپنی قومی زبان کو رائج کر کے ترقی کی منازل طے کیں۔انہوں نے کہا کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کر کے آئین پاکستان کی سنگین خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے لئے 6 رکنی کمیٹی قائم کی جا چکی ہے جو اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر اعظم و بھجوائے گی۔وزیر اعظم کی منظوری کے بعد ان سفارشات کو ایک بل کی شکل میں اسمبلی میں بھجوایا جائے گا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیاہے۔

مزید : صفحہ آخر