صدر اور وزیراعظم سرکاری تحائف کی کل قیمت کا 15 فیصد دیکر ملکیت حاصل کر سکتے ہیں

صدر اور وزیراعظم سرکاری تحائف کی کل قیمت کا 15 فیصد دیکر ملکیت حاصل کر سکتے ہیں

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پاکستان میں ہردور میں صدر ، وزیراعظم ،ممبران پارلیمنٹ اور سرکاری عہدیدار خلاف ضابطہ ملکی و غیر ملکی سطح پر وفود ،مہمانوں اور میزبانوں کی طرف سے ملنے والے سرکاری تحائف کو ذاتی سمجھتے رہے۔اور توشہء خانہ میں جمع کروانے کی بجائے انتہائی کم قیمت اداکرکے تحائف کو اپنے گھروں کی زینت بناتے رہے۔ صدر اور وزیر اعظم کے سوا تمام سرکاری عہدیدار وں اور عوامی نمائندوں پر تحائف وصول کرنے کے حوالے سے پابندی عائد ہے۔لیکن اس کے باوجود سرکاری حیثیت میں دھڑلے سے تحائف وصول کئے جاتے ہیں۔ اور ان تحائف کو قبضے میں رکھنے کے لیے بعض ریٹینشن منی ادا کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ معلوم ہواہے کہ ان دنوں سابق وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے ایک خبر میڈیا میں گردش کررہی ہے کہ انہوں نے ترک صدر کی اہلیہ کا قیمتی ہار حکومت کو واپس کرنے کی بجائے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے۔ میڈیا میں اس خبر کے آنے کے بعدیوسف رضا گیلانی یہ ہار واپس کرنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ذرائع کے مطابق گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ )رولز 1964اور 21اگست 2001کے کابینہ ڈویژن کے او ایم نمبر9/4/97-TKکے تحت سرکاری عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کو ملنے والے سرکاری تحائف فی الفور کابینہ ڈویژن کے ماتحت سرکاری تحائف کی تحویل کے مرکز توشہ ء خانہ میں جمع کروائے جانے لازمی ہیں۔اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا تو اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔بیرون ملک ملنے والے سرکاری تحائف کی فہرست ااور تحائف وصول کرنے والے حکومتی عہدیداروں کے ناموں کی تفصیل وفد میں شامل وزارت خارجہ کا چیف پروٹوکول افسر کابینہ ڈویژن کو پیش کرتا ہے۔ یاپھر متعلقہ ملک میں پاکستانی سفیر یا ھائی کمشنر یہ فرائض انجام دیتا ہے۔توشہ ء خانہ وزارت خارجہ کے ماتحت تھالیکن 1973میں اسے کابینہ ڈویژن کے ماتحت کردیا گیا۔صوبائی سطح پر سرکاری تحائف ایس اینڈ جی اے ڈی کے ماتحت کیبنٹ سیکشن کے قبضے میں رکھے جاتے ہیں۔بتایا گیا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم کے سوا تمام سرکاری عہدیدار وں اور عوامی نمائندوں پر تحائف وصول کرنے کے حوالے سے پابندی عائد ہے۔اور ناگزیر صورتحال میں ملنے والے تمام تحائف پہلی فرصت میں توشہ ء خانہ میں جمع کروائے جائینگے۔اور کیبنٹ ڈویژن ایسے تحائف کی قیمت کا تعین کرنے کے FBRکے علاوہ ٹیکسلا میوزیم ، نیشنل کونسل آف آرٹس وغیرہ سے تحفے کی نوعیت کے حوالے سے رجوع کرسکتی ہے۔جبکہ پرائیویٹ سطح پر بھی تحائف کی قیمت جانچی جاسکتی ہے۔قیمت کا تعین کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں پاکستان جیولری اینڈجم سٹونز ایسوسی ایشن کی نامزد ہونگی۔رولز کے مطابق ایسا تحفہ جس کی مالیت10 ہزار روپے تک ہو ۔وہ تحفہ کسی قیمت کے بغیر ہی حاصل کرنے والے کو دیدیا جاتا ہے۔ جبکہ ایسا تحفہ جس کی مالیت 10ہزار روپے سے زیادہ ہو وہ قیمت کا 15فیصد ادا کرکے حاصل کیا جاسکتا ہے۔جبکہ چار لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کا تحفہ صدر مملکت اور وزیر اعظم کے سوا کسی کو رعائتی قیمت پر نہیں دیا جاسکتا۔بلکہ ایسے تحائف کو سال میں دومرتبہ نیلامی میں بیچا جاتا ہے۔اور خریداری کے لیے پہلا موقع سرکاری عہدیداروں کو دیا جاتا ہے۔ اور باقی بچنے والے تحائف عوام کے روبرونیلامی کے لیے پیش کردیئے جاتے ہیں۔ البتہ نایاب اور نوادرات کا درجہ رکھنے والے تحائف کسی کو بھی نہیں بیچے جاسکتے ۔بلکہ عجائب گھر میں رکھے جاتے ہیں۔لیکن ذرائع سے معلوم ہواہے کہ پاکستان میں ہردور میں صدر ، وزیراعظم ،ممبران پارلیمنٹ اور سرکاری عہدیدار خلاف ضابطہ ملکی و غیر ملکی سطح پر وفود ،مہمانوں اور میزبانوں کی طرف سے ملنے والے سرکاری تحائف کو ذاتی سمجھتے رہے ہیں۔سابق صدر آصف علی زرداری ہوں یا پرویز مشرف ، رفیق تارڑ ، فاروق خان لغاری،غلا اسحاق خان، محمد خان جونیجو ، بے نظیر بھٹو ،ظفراللہ خان جمالی۔شوکت عزیز وغیرہ نے اپنے ادوار میں سرکاری سطح پر ملنے والے سینکروں تحائف انتہائی معمولی قیمت کے عوض توشہ ء خانہ میں جمع کروانے کی بجائے گھروں کی زینت بنائے۔ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے ایک سال میں سب سے زیادہ سرکاری تحائف خریدے بلکہ سابقہ صدور اور وزراء اعظم کو ملنے والے تحائف بھی خرید ڈالے۔ جبکہ ایوب خان اور بلخ شیر مزاری نے اوسطاً سب سے کم تحفے خریدے اور زیاد ہ سے زیادہ تحائف توشہ ء خانہ میں جمع کروائے۔

تحائف

مزید : صفحہ آخر