عدالت میں پیش نہ ہونے پر ڈی جی ایل ڈی اے کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری

عدالت میں پیش نہ ہونے پر ڈی جی ایل ڈی اے کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری

 لاہور (نامہ نگار خصوصی ) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے مسجد کی جگہ پر قبضے کے خلاف دائر درخواست میں پیش نہ ہونے پر ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے 22جولائی کو طلب کرلیا ہے جبکہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے عبدالجبار شاہین سے تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ عدالتیں افسران کی عزت کرتی ہیں اورانہیں سزاء نہیں دینا چاہتیں بلکہ چاہتی ہیں کہ افسران اپنی نوکری جاری رکھیں لیکن ان کے رویوں سے اب عدالت کا پیمانہ صبر لبریز ہو رہا ہے،کیا عدالتوں نے اپنے نوٹسز کی تعمیل ڈنڈے لے کر کروانی ہے،محکمہ ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر لاء کو بھی تبدیل کیا جانا چاہیے ان کی جگہ کسی نوجوان افسر کو تعینات کریں قومی خزانے سے اتنی بڑی تنخواہ لیتے ہیں لیکن عدالتی نوٹس کو ایک پارسل کی طرح ڈیل کرتے ہیں جس سے عوام کا وقت فضول چیزوں پر ضائع ہو تا ہے حالانکہ اگر نوٹس سول کورٹ سے بھی آئے تو آپ کے محکمے کو فوری حرکت میں آ جانا چاہیے اور بجلی کی سی تیزی سے کام ہونا چاہیے۔ گزشتہ روز توہین عدالت کیس کی سماعت کے آغاز پر عدالت نے ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور سابق ڈی جی ایل ڈی اے عبدالجبار شاہین کو طلبی کے بار بار نوٹس کے باوجود پیش نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نیئر عباس رضوی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ وزیر اعلیٰ کے ہمراہ اسلام آباد میں ہیں، اس سے قبل ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت سے ڈی جی ایل ڈی اے کو ایک روز کے لئے عدالت میں پیش نہ ہونے کی مہلت دینے کی استدعا کی جس کو عدالت نے مسترد کر دیا ،ایل ڈی اے کے وکیل وقار اے شیخ ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ڈی جی ایل ڈی اے وزیر اعلی پنجاب کے ہمراہ اسلام آباد میں ہیں اور پیش نہیں ہوسکتے انہیں پیش ہونے کے لئے مہلت دی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پہلے عدالت کو بتایا گیا کہ احد چیمہ بیما رہیں اب کہاجا رہا ہے کہ اسلام آباد میں ہیں۔ عدالت کے ساتھ حیلے بہانے نہیں چلیں گے ڈی جی ایل ڈی اے 2بجے تک پیش نہ ہوئے تو اسلام آباد پولیس کے ذریعے گرفتار کر کے عدالت میں بلایا جائے گا اور مزید سماعت 2بجے دوپہر تک ملتوی کردی۔2 بجے دوبارہ سماعت کے آغاز پر عبدالجبار شاہین تو عدالت کے روبروپیش ہوگئے لیکن احدچیمہ کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں ہیں اور ایک اجلاس میں شرکت کے باعث پیش نہیں ہو سکے لیکن اگر سماعت سوموار تک ملتوی کر دی جائے تو ہر صورت عدالتی حکم کی تعمیل ہو جائے گی۔جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ احد چیمہ اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں لیکن عدالت کے روبروپیش نہیں ہو سکتے۔پہلے بھی انہیں معاف کر چکے ہیں لیکن اب وہ دوبارہ یہی کر رہے ہیں۔عدالتیں اپنے احکامات پر عمل درآمد کروانا جانتی ہیں ہم نے احد چیمہ سے پوچھنا ہے کہ انہوں نے اپنے محکمہ کے ملازمین کو اس طرح ٹرینڈ کیا ہے کہ وہ عدالتی نوٹسز کی تعمیل نہیں کر رہے جبکہ ڈی جی بار بار کی طلبی کے باوجود عدالت میں پیش نہیں ہوتے۔ عدالت نہیں چاہتی کہ افسران کو سزائیں دیں لیکن ان کے روئیے سے اب عدالت کاپیمانہ صبر لبریز ہو رہاہے۔سابق ڈی جی ایل ڈی اے نے پیش ہو کر بتایا کہ مجھے عدالتی طلبی کا علم ہی نہ تھا بلکہ مجھے آج ساڑھے 10بجے اسکا علم ہوا ہے تو میں پیش ہو گیا ہوں۔عدالت نے ان کے روئیے پر برہمی کا اظہار کیا تو انہو ں نے بتایا کہ میں روزے سے ہوں اور سچ بول رہا ہوں کہ مجھے آج سے پہلے توہین عدالت اور عدالتی طلبی کاکوئی علم نہیں تھا بلکہ مجھے آج ہی پتہ چلا تو میں وزیر اعلی کے ساتھ میٹنگ میں تھاجس پر میں نے چٹ بھجوائی کہ مجھے عدالت میں جانا ہے اجازت دیں تو انہوں نے چیف سیکرٹری کے ذریعے ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ کیا عدالت میں پیشی کے وقت میں کچھ مہلت مل سکتی ہے تو مجھے بتایا گیا کہ2 بجے کاٹائم ہوگیا ہے جس پر میں میٹنگ سے فارغ ہو کر عدالت میں پیش ہو گیا ہوں۔عدالتی استفسار پرانہوں نے بتایا کہ مجھے آج سے پہلے کسی عدالتی نوٹس کا علم نہیں تھا بلکہ مجھے آج ہی اسکاپتہ چلا ہے جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کہا کہ بس اب آپ خاموش رہیں اور ایل ڈی اے کے وکیل سے پوچھا کہ آپ عدالت میں ان کی طرف سے شق وار جواب بھی داخل کر چکے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اس کیس کاپتہ ہی نہیں تھا۔یہ بتائیں کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں یا آپ جھوٹ بول رہے تھے۔کیوں آپ لوگوں نے عدالت کو ڈسٹرب کیا ہوا ہے۔اصل تصویر پیش کریں۔حالانکہ عدالت ٹاؤن پلانر کو بھی واضح احکامات جاری کر چکی تھی لیکن اب عدالتیں ایسے مقدمات سے صرف نظر نہیں کرسکتیں۔محکمہ کے سربراہ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ہے اور انہیں اطلاع ہی نہیں کی جاتی،ہمیں افسوس ہو رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے دوسرے آدمی(احد چیمہ ) کو بھی اطلاع نہ کی ہو۔عدالت نے قرار دیا کہ ستم ظریفی ہے کہ عدالت نے جس شخص کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرنی ہے آپ اسے بتا ہی نہیں رہے۔بعد ازاں عدالت نے عبدالجبار شاہین کو کہا کہ آپ جا سکتے ہیں اب عدالت کو آپ کی ضرورت نہیں۔فاضل عدالت نے ایل ڈی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ احد چیمہ لاہور میں ہیں یا اسلام آباد میں۔کبھی بتایا جاتا ہے کہ انہیں گیسٹرو ہے اور بیمار ہیں اور کبھی اجلاس میں شرکت کی بات کی جاتی ہے،اگر وہ اجلاس میں شرکت کر سکتے ہیں تو عدالت کے روبرو پیش کیوں نہیں ہو سکتے،کیامذاق ہے ،ایڈووکیٹ جنرل کو بھی بلایا جائے۔فاضل عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ ابھی چیف سیکرٹری سے رابطہ کر کے بتایا جائے کہ احد چیمہ کہاں ہیں وہ لاہور میں ہیں یا اسلام آباد میں،اس موقع پر ایل ڈی اے کے ڈائریکٹر لاء پیش ہوئے تو عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کو اپنے محکمے کے سابق سربراہ کی عزت کاکچھ خیال ہے ،ان کی خدمات کے بدلے میں ان کا کچھ حق نہیں بنتا،آپ نے انہیں اطلاع ہی نہیں دی،عدالت نے قرار دیا کہ اس ڈائریکٹر لاء کو بھی تبدیل کیا جاناچاہیے،ان کی جگہ کسی پڑھے لکھے نوجوان آدمی کو تعینات کیا جانا چاہیے۔جیسے ہم پولیس کے ڈائریکٹر لا ء کو تبدیل کروایا تھا،یہ لوگ ا پنے محکمہ کے سربراہوں کی عدالت میں بے عزتی کرواتے ہیں جس سے انصاف تاخیر کا شکار ہو تا ہے اور لوگوں کی پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔آپ کس گریڈ میں ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ میں گریڈ18میں ہوں تو عدالت نے قرار دیا کہ اس گریڈ میں اتنی بڑی تنخواہ بھی لے رہے ہوں گے اور سرکاری خزانے سے اتنی رقم لینے کے باوجود کیا کام کرتے ہیں کہ عدالتی نوٹس کوپارسل کی طرح ڈیل کرتے ہیں جس سے پبلک ٹائم فضول چیزوں پر ضائع ہو رہا ہے۔حالانکہ اگر نوٹس سول کورٹ سے بھی آ جائے تو آپ کے محکمے کو فوری حرکت میں آ جانا چاہیے اور بجلی کی سی تیزی سے کام کرنا چاہیے۔ فاضل عدالت نے ایل ڈی اے کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کامقام ہے کہ سابق ڈی جی کے نام نوٹس جاتے ہیں تو محکمہ کہتا ہے کہ عبدالجبار شاہین کون ہے ہم نہیں جانتے۔ان لوگوں کے یہ روئیے ہیں کہ وہ اپنے سابق سربراہ سے بھی لاعلمی کا اظہار کرتے ہیں۔احد چیمہ کیلئے نوٹس جاری کرتے ہیں تو محکمہ کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ بائی نیم ہیں ہم نوٹس وصول نہیں کر سکتے تو کیا عدالتیں ڈی جی کو نوٹس کی تعمیل ڈنڈے لے کر کروائیں،ہم نے ڈی جی سے پوچھنا ہے کہ انہوں نے اس طرح اپنے اہلکاروں کی تربیت کی ہے۔یہ ان لوگوں کا مجموعی روئیہ ہے،فاضل عدالت نے قرار دیا کہ ہم افسران کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ نوکری کرتے رہیں ہم نہیں چاہتے کہ انہیں سزاء دیں،عدالت نے پہلے بھی احد چیمہ کو عدالتی حکم عدولی پر معاف کیا تھا ،آپ بھول سکتے ہیں لیکن عدالت نہیں بھول سکتی۔فاضل عدالت نے باربار طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے پر احد چیمہ کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت22جولائی تک ملتوی کر دی جبکہ سابق ڈی جی ایل ڈی اے عبدالجبار شاہین سے آئندہ تاریخ سماعت تک تحریری جواب طلب کرلیاہے۔

ڈی جی ایل ڈی اے

مزید : صفحہ آخر