شہید باپ کی یتیم بیٹی کی پکار

شہید باپ کی یتیم بیٹی کی پکار
شہید باپ کی یتیم بیٹی کی پکار

  

میرے پاپا سب انسپکٹر عبدالمجید شہید پنجاب پولیس میں اپنی ڈیوٹی بخوبی احسن طریقے اور ایمانداری سے سرانجام دے رہے تھے۔ 29-5-2015 بروز جمعتہ المبارک رات تقریباً آٹھ بجے کے قریب میرے پاپا نے دوران کرکٹ میچ ڈیوٹی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خودکش بمبار کو فیفا گیٹ فیروز پور روڈ پر قذافی سٹیڈیم داخل ہونے سے روکا جس پر خودکش بمبار نے اپنے آپ کو اُڑا لیا۔ میرے پاپا نے مہمان ٹیم کی حفاظت کرتے ہوئے حکومت پاکستان، خصوصاً حکومت پنجاب اور ملک اور قوم کے تحفظ کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور جامِ شہادت نوش کیا۔ اس واقعہ میں میرے پاپا موقع پر شہید ہونے والے واحد پولیس افسر تھے۔ اگر دہشت گرد سٹیڈیم کے گیٹ کے اندر داخل ہو جاتا تو دھماکے کے علاوہ بھگڈر سے بہت سی جانیں جانے کا اندیشہ تھا لیکن جب تک شہید عبدالمجید جیسے افسران و سپوت اس دھرتی پر موجود ہیں دشمن کبھی اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

میں حکومت پاکستان، خصوصاً حکومت پنجاب (وزیراعلیٰ پنجاب) سے سوال کرتی ہوں کیا شہید کے ورثاء کی داد رسی کے لئے یہ طریقہ رائج ہے کہ ایک صوبائی وزیر کو تعزیت کے لئے بھجوا دیا جائے اور وہ رسماً دو جملے بول کر چلا جائے۔ کیا وزیراعلیٰ پنجاب صرف ان ہی جگہوں پر جاتے ہیں جن کی بھرپور میڈیا کوریج ہو کیا میرے پاپا کی قربانی اتنی چھوٹی تھی جو آپ کو نظر نہیں آتی۔ مہر خلیل نے سری لنکا ٹیم کو بچایا میرے پاپا نے زمبابوے کرکٹ ٹیم کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان دی تو پھر اتنا فرق کیوں؟ میرے پاپا میڈیا کی زینت تو نہ بن سکے لیکن بحیثیت سربراہ آپ کا فرض ہے کہ ہم یتیم بچوں کے سروں پر دست شفقت رکھیں اور ہماری کفالت کا ذمہ لیں۔ کیا آپ کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ اپنے پڑوس میں واقع شہید سب انسپکٹر عبدالمجید کے گھر والٹن روڈ لاہور جو آپ کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن لاہور سے صرف پانچ منٹ کی مسافت پر ہے، آپ تشریف لاتے جس سے ہمیں ایک نیا ولولہ اور ہمت ملتی لیکن ہماری آنکھیں اب تک آپ کی منتظر ہیں۔ آپ کا ہیلی کاپٹر تقریباً روزانہ ہی جب شہید عبدالمجید کی چھت کے اوپر سے گزرتا ہے تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا میرے پاپا نے اس ملک کی خاطر ہی اپنی جان کی قربانی دی ہے؟ کہ آپ اوپر اوپر سے ہی گزر جاتے ہیں۔ ہمدردی کے دو بول بولنے شہید کے گھر نہیں آسکتے۔

میں بھی آپ کی بیٹیوں کی طرح ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمیشہ ہم بیٹیوں کے سروں پر قائم و دائم رکھے، اللہ تعالیٰ آپ کو مزید عزت و مرتبہ عطا کرے اور ہر آفت وبلا سے محفوظ رکھے آمین!

انکل مجھے پاپا کی بہت یاد آتی ہے، ان کی باتیں یاد آتی ہیں، ان کا پیار یاد آتا ہے، ان کی گھر میں کھڑی خالی موٹر سائیکل دیکھتے ہیں اور روتے رہتے ہیں، اس رمضان المبارک اور عید پر ہمارے پاپا ساتھ نہیں ہوں گے، وہ بہت دور جاچکے ہیں۔ ہمیں عید پر کپڑے کون لے کر دے گا، مجھے موٹر سائیکل پر کون سیر کروائے گا پھر خود ہی دل کو تسلی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جوانی میں ہی شہادت کے لئے پسند فرمایا۔ اللہ تعالیٰ ماہ رمضان المبارک کے صدقے میرے پاپا کے درجات مزید بلند فرمائے، آمین!

انکل آپ ملک کے کونے کونے میں داد رسی کے لئے پہنچتے ہیں لیکن شہداء کے بچوں کا خیال رکھنا بھی آپ کی حکومت کا فرض ہے، ہم تمام بہن بھائی چھوٹے ہیں، میرے پاپا ہمارے خاندان کے واحد کفیل تھے، ان کی شہادت کے بعد ہارے پاس کسی قسم کا ذریعہ معاش نہیں ہے، جس کی وجہ سے ہمیں شدید مالی مسائل کا سامنا ہے۔ ایسا خاطر خواہ انتظام کر دیا جائے کہ ہم کسی قرابت دار کے آگے ہاتھ پھیلانے اور مالی پریشانیوں سے بچ جائیں۔ ہم تمام اہل خانہ اور اہل علاقہ آپ کی آمد کے منتظر ہیں۔ آپ کے نہ آنے کی وجہ سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کی عزت اور مرتبے میں مزید بلندی عطا فرمائے

آپ کی درازی عمر کی دعاگو!

بختاور مجید بیٹی شہید عبدالمجید

سب انسپکٹرپنجاب پولیس

مکان نمبر 23/11-D، گلی نمبر 2، شمع کالونی اسلام نگر، نزد مسجد البدر شریف مارکیٹ سٹاپ، والٹن روڈ لاہور کینٹ

Cell # 0323-4954434

مزید : علاقائی