سندھ اور کراچی طوفانوں کی زد میں

سندھ اور کراچی طوفانوں کی زد میں
 سندھ اور کراچی طوفانوں کی زد میں

  

سندھ میں ہر طرف طوفان ہی طوفان ہے۔ گرمی کا طوفان۔ ایم کیو ایم کے حوالے سے طوفان۔ پیپلزپارٹی میں لیڈروں کے بھاگنے کا طوفان۔ بی بی سی کی رپورٹ کا طوفان۔ لوڈ شیڈنگ کا طوفان۔گرمی کے طوفان پر بالآخر وفاقی حکومت کو بھی ہو ش آگیا۔ اور وفاقی وزراء کے ایک گروپ نے کراچی کا دورہ کر ہی لیا۔ جس دن یہ وزراء کراچی کا دورہ کر رہے تھے ۔ اس دن بھی کراچی میں ہلاکتوں کی تعداد 33 ہے۔ انہوں نے ہسپتالوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزراء کے گروپ لیڈر لیفٹنٹ جنرل (ر) عبد القیوم نے کہا کہ کراچی کی ہلاکتوں کے ہم سب اجتماعی طور پر ذمہ دار ہیں۔ اب کون پوچھے ان وزیر موصوف سے کہ اگر آپ اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ تو براہ مہربانی اپنے لئے سزا بھی تجویز کردیں۔ یہ کیسی منطق ہے کہ آپ ہلاکتوں کی ذمہ داری تو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ لیکن اس کی سزا قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایک مصنوعی دورہ تھا۔ کیونکہ جانے والے وزراء کے پاس اہل کراچی کے لئے کوئی ریلیف پروگرام نہیں تھا۔ ان کے پاس تو ہسپتالوں کی ابتر صورتحال کو ٹھیک کرنے کا بھی کوئی پروگرام نہیں تھا۔ کوئی ہنگامی پیکج نہیں تھا۔ شائد وفاقی حکومت نے گرمی کی اس شدت کے خلاف خود کو بے بس مان لیا ہے۔ اور اسے اللہ کی مرضی سمجھ لیا ہے۔ اس لئے اہل کراچی کے لئے صرف صبر کا ہی پروگرام تھا۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ سندھ کی حکومت بھی گرمی کی اس شدت کے خلاف عوام کو کوئی ہنگامی ریلیف دینے میں نا کام ہو گئی ہے۔ لیکن اس میں سندھ حکومت کی سیاسی مجبوریاں بھی ہیں۔ رینجرز نے ان کا ناک میں دم کر کے رکھا ہوا ہے۔ مرکزی قیادت یک دم ملک سے باہر چلی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر محترم شرجیل میمن کے دبئی کے ریذیڈنٹ ویزہ کی کاپی موجود ہے۔ جس میں انہیں ایک کمپنی کا مینجر دکھا یا گیا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ شرجیل میمن نے بھی وزارت کے بعد دبئی میں مستقل سکونت کا انتظام کر لیا ہے۔ اس لئے جو حکومت دوڑنے کے پروگرام میں ہو۔ جہاں ہر وقت گرفتاری کا خدشہ ہو۔ وہاں حکومت کی پرفارمنس اچھی کیسے ہو سکتی ہے۔ اس لئے کراچی میں سینکڑوں ہلاکتوں پر سندھ حکومت سے سوال نہیں بنتا۔ یہ تو ایسا ہی کہ ایک آدمی جس کو اپنی زندگی کے لالے پڑے ہوں اس سے دوسرے کی جان بچانے کے بارے میں پوچھا جائے۔

کراچی کے ہسپتالوں کی صورتحال پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی صحت کی سہولیات کا تماشہ بنا رہی ہے۔ مریضوں کے لئے بستر نہیں۔ لیکن اس مسئلہ کا حل بھی کسی کے پاس نہیں۔ چلو گرمی تو رب کا معاملہ ہے۔ لیکن ہسپتالوں کی صورتحال کا معاملہ تو حکومت کے بس میں ہے۔ لیکن وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں ہی اس معاملہ میں بے بس نظر آرہے ہیں۔ اسی طرح کراچی میں جب گرمی کی لہر اس قدر شدید ہے تو کم از کم کچھ دنوں کے لئے کراچی کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ کرنے کی ضرورت ہے۔ سارے ملک کو کراچی کے لئے قربانی دینا ہو گی۔ وفاقی وزیر خوا جہ آصف نے کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔ وہ ٹھیک ہے لیکن پہلے عوام کی جانیں بچانے کی ضرورت ہے۔ جان ہے تو جہان ہے۔اگر لوگ ہی نہیں ہونگے تو یہ حکمران حکومت کس پر کریں گے۔ تنازعات کیا لوگوں کی جانوں سے زیادہ اہم ہیں ۔ اس لئے فوری طور کراچی کو ایک ہنگامی ریلیف کی ضرورت ہے۔

اپوزیشن نے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجا ج شروع کئے ہیں۔ چلو شکر ہے ۔ کہ پاکستان کی اپوزیشن کوبھی عوامی مسائل کا خیال آیا ہے۔ ورنہ ابھی تک تو اپوزیشن غیر عوامی مسائل میں ہی مصروف تھی۔ وزیر اعظم نے بھی بجلی پر اجلاس کئے ہیں۔ لیکن معاملہ ابھی کنٹرول میں نہیں۔

مرکزی حکومت نے بی بی سی کی رپورٹ پر برطانوی حکومت کو حقا ئق جاننے کے لئے خط لکھ دیا۔حالانکہ برطانوی حکومت سے حقائق جاننے کی بجائے اپنے راؤ انوار سے ہی پوچھ لیتے تو حقائق پتہ چل جاتے۔ مگر گھر کی مرغی دال برابر والی بات ہے۔ جب اپنے ایس ایس پی راؤ انوار نے یہ الزامات لگائے تو سب اس بیچارے کے پیچھے پڑ گئے۔ اس کا تبادلہ بھی کر دیا گیا۔ کسی نے کہا کہ اس نے کسی کے کہنے پر یہ پریس کانفرنس کی ہے۔ اس لئے ہم مغرب کی بات پر زیادہ اعتبار کرتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے ۔

حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنا چاہئے کہ اگر انہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کرنی تو اس سارے پراپیگنڈہ کا منفی اثر بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سب کا ایم کیو ایم کو فائدہ ہو جائے۔ جس طرح صولت مرزا کے کیس میں اس کی ویڈیو نے ایم کیو ایم کو نقصان دینے کی بجائے فائدہ دے دیا۔ اس لئے قانون نافذ کرنے والے ادارے دیر کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ پاکستان میں نظام انصاف کا دروازہ کھٹکھٹا یا جائے ۔ ورنہ یہ الزامات اپنی اہمیت کھو دیں گے۔ اور حقا ئق کی بجائے ایک پراپیگنڈہ مہم لگنے لگیں گے۔ایم کیو ایم تو ٹھیک کر رہی ہے ۔ کہ وہ وقت گزار رہی ہے۔ کیونکہ اس کی قیادت کو علم ہے کہ ہر گزرتا وقت ان کے لئے بہتر ہے۔

مزید :

کالم -