تیونس میں ہوٹلوں پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

تیونس میں ہوٹلوں پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی
تیونس میں ہوٹلوں پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تیونس(مانیٹرنگ ڈیسک) تیونس کے ایک ساحلی تفریحی مقام سوسہ کے 2 ہوٹلوں پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تیونس میں دہشت گرد حملے میں غیرملکیوں سمیت کم از کم 39 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق داعش کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مسلح شخص کی شناخت ابو یحییٰ القیراوانی کے نام سے کی گئی ہے، "جو خلافت کا سپاہی" تھا اور جس نے "جہادی گروپ" کے دشمنوں کو نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تیونس کے وزیراعظم حبیب اسد کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعے کو تیونس کے ساحلی تفریحی مقام پر ’ہوٹل امپیریئل مرحبا‘ کے سامنے ہونے والے اس حملے میں 38 افراد ہلاک ہوئے جبکہ وزرات صحت نے 38 افراد اور ایک حملہ آور کی ہلاکت کی تصدیق کی۔

مقامی میڈیا کے مطابق دوسرے حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم اس خبر کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کی جاسکی۔حملے میں ہلاک ہونے والوں میں برطانیہ کے ساتھ ساتھ جرمنی، بلغاریہ اور فرانس کے شہری بھی شامل ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق دہشت گردوں نے جمعے کو دوپہر کے وقت ساحلی مقام پر حملہ کیا جب ساحل پر سیاحوں کا کافی رش تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ شروع میں تو ایسا لگا جیسے آتشبازی ہورہی ہے اور لوگ خوشی منارہے ہیں مگر جلد ہی لوگوں میں افراتفری کے آثار دیکھ کر حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔اس حملے کے بعد سے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے تھے اور سیکیورٹی ہائی الرٹ پر تھی۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں