ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا, نجم سیٹھی

ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ...
 ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا, نجم سیٹھی

  

کراچی (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ برطانوی صحافی اون بینٹ جونز نے تمام باتیں سچ کہی ہیں اسی لئے ایم کیو ایم ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کررہی، ایم کیو ایم کے بارے میں پاکستانی اور برطانوی حکومت متفق ہیں، ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا، کوئی یہ نہیں چاہتا کہ ایم کیو ایم اور مہاجر ازم کی چھٹی کرادی جائے، ملٹری سٹیبلشمنٹ، وزیراعظم اور ان کی سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کو فارغ کیا جائے۔

نجم سیٹھی نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بی بی سی کی رپورٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ اون بینٹ جونز کی سٹوری میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن چونکہ یہ رپورٹ بی بی سی پر نشر ہوئی ہے اس لئے پاکستانی میڈیا میں اس پر اتنی زیادہ بات ہورہی ہے، اون بینٹ جونز نے تمام باتیں سچ کہی ہیں، ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی ساری بات کا پتا ہے اسی لئے انہوں نے بی بی سی پر ہتک عزت کا دعویٰ نہیں کیا ہے، اون بینٹ جونز کی سٹوری کی ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی سٹیبلشمنٹ نے سٹریٹجک فیصلہ کرلیا ہے کہ جہاں گڑ بڑ نظر آئے گی وہاں ایکشن کیا جائے گا، اس فیصلے کے تحت پہلا ٹارگٹ ایم کیو ایم ہے کیونکہ فوج سمجھتی ہے کہ ایم کیو ایم غیر قانونی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے، ایم کیو ایم اور دیگر سیاستدانوں کو اب اس حوالے سے جانا چاہیے، فوج کراچی کو صاف کرنا چاہتی ہے اس کا مطلب ایم کیو ایم سے جرائم پیشہ افراد کا صفایا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ عمران فاروق قتل کیس میں مولث دو افراد کی گرفتاری ظاہر کرنے سے لگتا ہے کہ پاکستان نے برطانوی حکومت سے کوئی لین دین کرلیا ہے، ایم کیو ایم کے بارے میں پاکستانی اور برطانوی حکومت متفق ہیں، ایک پلان بنا ہوا ہے کہ آگے کیسے بڑھنا ہے، تین ملزمان کو برطانیہ کیسے جانا ہے، لندن میں کیا ہونا ہے، یہ سب کچھ اسی منسوبے کے مطابق ہورہا ہے، ایم کیو ایم کے حوالے سے اس وقت انڈیا اینگل سامنے لانا بہت اہم ہے، بی بی سی کو یہ سٹوری دینے کا ایک مقصد تو ایم کیو ایم پر چڑھائی کرنا اور دوسرا مقصد انڈیا کو اس کی حد میں رکھنے کیلئے کاﺅنٹر اٹیک کرنا ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اون بینٹ جونز کی جو رپورٹ نشر ہوئی ہے اس کے شواہد پہلے انہیں دئیے گئے، اون بینٹ جونز نے وہ شواہد دیکھ کر خود کو اور اپنے ادارے کو مطمئن کیا جس کے بعد بی بی سی نے اس سٹوری کو چلانے کا فیصلہ کیا، اون بینٹ جونز کافی عرصہ بعد سٹوری کیلئے پاکستان آئے، اس کا مطلب ہے کہ انہیں کچھ سنگھایا گیا تھا تو وہ پاکستان آئے، اون بینٹ جونز یہ سٹوری دینے سے قبل برٹش ہائی کمشن سے ضرور ملے ہوں گے۔ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ پچھلی دفعہ جب بی بی سی نے سکاٹ لینڈ یارڈ کی سٹوری لگائی تھی تو ایم کیو ایم نے بی بی سی اور اون بینٹ جونز پر ہتک عزت کا دعویٰ کرنے کا کہا تھا جس میں یہ بھی تھا کہ آپ یہ سٹوری ویب سائٹ پر نہ لگائیے، اس کے بعد بی بی سی کی ویب سائٹ پر وہ سٹوری نہیں چھپی، اون بینٹ جونز نے چھوٹی سی نیوز رپورٹ تو نیوز نائٹ میں دیدی لیکن وہ سٹوری روک دی۔ سینئر تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پر پابندی لگانے کا نہیں سوچا جارہا، الطاف حسین اور ان کے قریبی ساتھیوں کو ٹارگٹ کیا جائے گا جس میں محمد انور بھی آجائیں گے کیونکہ برطانوی حکام نے ان سے کافی پوچھ گچھ کی ہے، ایم کی ایم کی اعلیٰ قیادت کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا لیکن کوئی یہ نہیں چاہتا کہ ایم کیو ایم اور مہاجر ازم کی چھٹی کرادی جائے، ایم کوی ایم کی موجودہ قیادت پر دہشتگردی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے الزامات ہیں، اسی لئے انہیں پاکستان کیلئے خطرہ سمجھا جارہا ہے، یہاں پر ایم کیو ایم کے خیالات اور مہاجر حقوق کے خلاف کوئی نہیں ہے، ملٹری سٹیبلشمنٹ ، وزیر اعظم نواز شریف اور سیاسی جماعتون کی یہی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کو فارغ کیا جائے۔

الطاف حسین کو لندن میں مسائل ہوں گے لیکن انہیں فوری طور پر گرفتار کئے جانے کا امکان نہیں ہے، آئندہ الیکشن میں تین سال باقی ہیں اور اس دوران ایم کیو ایم کی قیادت کے ساتھ بہت کچھ ہوسکتا ہے اور نئی قیادت بھی سامنے آسکتی ہے، عدالت میں ایم کیو ایم کو بھارتی فنڈنگ اور ٹریننگ کے الزامات بطور پارٹی ٹو ایم کیو ایم پر ثابت ہونا مشکل ہیں البتہ کچھ افراد کے خلاف ضرور کارروائی ہوگی۔ نجم سیٹھی نے بی بی سی کے حوالے سے اپنا واقعہ ناظرین سے شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بی بی سی نے 1990ءمیں میرا انٹرویو کیا جس میں مَیں نے نواز شریف پر الزام لگایا، یہ بات انٹیلی جنس بیورو اور نواز شریف کو پتا چل گئی اور انہوں نے مجھے گرفتار کرلیا، بی بی سی کو انہوں نے کہا کہ آپ نجم سیٹھی کا انٹرویو نہیں چلائیں گے مگر بی بی سی نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا، اس پر انہوں نے بی بی سی کو کہا کہ اگر آپ نے نجم سیٹھی کا انٹرویو چلایا تو ہم آپ پر ہتک عزت کا دعویٰ کردیں گے، جب یہ کیس عدالت میں گیا تو بی بی سی نے مسلم لیگ ن کی حکومت کے ساتھ مک مکا کیا کہ کیس واپس لے لیں ہم یہ پروگرام پاکستان اور انڈیا میں نہیں دکھائیں گے اور وہ پروگرام آج تک پاکستان میں نہیں دکھایا گیا ہے۔

مزید : کراچی