بلوچستان: مسلح کارروائیاں ختم کرنیوالوں کیلئے عام معافی اور امداد کا اعلان

بلوچستان: مسلح کارروائیاں ختم کرنیوالوں کیلئے عام معافی اور امداد کا اعلان
بلوچستان: مسلح کارروائیاں ختم کرنیوالوں کیلئے عام معافی اور امداد کا اعلان

  

کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان اپیکس کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مفاہمتی پالیسی کے تحت جو نوجوان مسلح کارروائی ترک کرنے کا یقین دلائیں ان کو عام معافی دی جائے گی اور حکومت ان کی بحالی کے لیے مالی مدد بھی کرے گی۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ میں ہوا۔ اجلاس میں دہشت گردوں اور کالعدم مذہبی تنظیموں کے خلاف آپریشن مزید موثر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ، چیف سیکریٹری بلوچستان سیف اللہ چٹھہ، جنرل کمانڈنگ آفیسرز، آئی جی ایف سی، سیکریٹری داخلہ، آئی جی پولیس ، کمشنر کوئٹہ سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ لیا گیا اور دہشت گردوں اور شرپسندوں کے خلاف موثر کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال، متعلقہ اداروں کی اس حوالے سے تجزیاتی رپورٹوں اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ملکی سطح پر دینی مدارس کی تنظیم نو اور رجسٹریشن، افغان مہاجرین سے متعلق صوبائی حکومت کے موقف اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے فنڈز کی تحقیقات سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ مدارس کی رجسٹریشن کا عمل محکمہ تعلیم کے توسط سے مکمل کیا جائیگا، جبکہ افغان مہاجرین کے حوالے سے صوبائی حکومت کے موقف سے وفاقی حکومت کو آگاہ کیا جائے گا، ایف آئی اے، کسٹم، نیب اور پولیس کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے وسائل اور فنڈنگ کی تحقیقات کرائی جائے گی اور ان میں ملوث پس پردہ عناصر کو عوام کے سامنے لایا جائے گا اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلائی جائے گی۔ بعدازاں کمانڈر سدرن کماانڈر لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ نوجوانوں نے راہ راست پر آنا شروع کردیا ہے، پہاڑوں پر جانیوالے واپس آجائیں، بلوچستان کے حالات بہتر ہورہے ہیں، امن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ خوشحالی ہمارا حق ہے۔

مزید : کوئٹہ