کراچی میں اموات اور اخلاقی بحران کے بعد اصل امتحان

کراچی میں اموات اور اخلاقی بحران کے بعد اصل امتحان
کراچی میں اموات اور اخلاقی بحران کے بعد اصل امتحان

  

ساحل سمندر ، قیامت خیز گرمی اور بے پناہ لوڈ شیڈنگ ، مرنے والوں کی تعداد 1ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ ہم اخلاقی بحران کی اس نہج کو پہنچ چکے ہیں جہاں شہر کراچی کو وافر مقدار میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے والا’ کے الیکٹرک ‘خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے اور لوڈ شیڈنگ کا نزلہ گرتا ہے وفاق پر ۔ وفاقی حکومت 650 میگا واٹ فراہم کرنے کا احسان جتاتی ہے اور رہی سہی کثر سندھ کے بڑے ’سائیں ‘ پوری کرتے ہیں جو لوڈ شیڈنگ اور گرمی کے باعث ہونے والی اموات کے خلاف’کوٹ ‘اور ٹائی سمیت اظہار یکجہتی کرنے کے لیے دھرنا دے دیتے ہیں ۔ اس اخلاقی بحران نے عوام کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا اور انہوں نے لولہے لنگڑے واٹر بورڈ کی پائپ لائن جگہ جگہ سے توڑ دیں اور وہاں سے نکلنے والے پانی کو وقتی آبشار بنا کر اس کے نیچے نہا لیا ۔ لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس پائپ لائن کے ذریعے ان علاقوں کو پانی کی فراہمی کی جاتی تھی وہاں کے رہنے والوں نے یقینا پانی کے بغیر ہی اپنا روزہ افطار کیا ہو گا ۔

سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مرنے والے کون ہیں اور کراچی کی ہوا میں ایسا کیا شامل ہو گیا کہ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں رہ گئی ہیں ۔ ایک طرف تو کراچی میں جاری آپریشن کے باعث منشیات فروشوں کا دھندا مندے کا شکار ہے تو دوسری طرف نشیؤں کو جسمانی ضرورت جس کے وہ غلام بن چکے ہیں میسر نہیں ہو رہی ۔ اس کے علاوہ جب دہکتا سورج زمین سے قربت بڑھانے لگا تو ان نشیؤں سمیت عام عوام بھی برداشت نہ کر سکی اور کہیں ایک ایک تو کہیں گروپس بنا کر بارگاہ الٰہی میں پیش ہوتے گئے ۔ گو کہ مرنے والوں میں تمام لوگ نشئی نہیں ہوں گے لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

اخلاقی بحران سے اس گفتگو کا آغاز کیا گیا تو اصل کہانی ان افراد کے مرنے کے بعد شروع ہوئی ۔ شہر میں بڑے پیمانے پر ہونے والی اچانک اموات نے ہماری آنکھوں سے پردہ اٹھایا اور ہمیں ایک تلخ حقیقت سے روشناس کروایا ۔ جس میں ہمیں علم ہوا کہ شہر میں موجود قبرستانوں میں اب زندہ لوگ رہتے ہیں ۔ جی ہاں زندہ

اس کی وجہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایسا ٹاﺅن اور اس ٹاﺅن کا میں کوئی ایسا قبرستان نہیں جس کی زمین چائنہ کٹنگ کے ذریعے زندہ لوگوں کو عطاءنہ کر دی ہو ۔ اب ایک امتحان درپیش ہے کہ اس زمین سے زندہ کو نکال کر مردہ کو جگہ دی جائے لیکن ایسا کرنے سے زندہ کہاں جائے گا ؟ لاش کی تکریم بھی ضروری ہے کیونکہ ایک دن ہمیں بھی زندہ لوگوں کی صف سے نکل کر مردہ کی صف میں شامل ہونا ہے ۔ تو جناب حل یہ نکالا گیا گیا کہ کسی بھی شخص کی موت کے بعد اس کا پہلا حق یعنی دو گز زمین پر تو قبضہ کر لیا گیا ہے اب ان کے کفن کی جیب بھی ٹٹولی جائے ۔

جی ہاں ! ہم نے تو یہ سنا تھا کہ کفن کی جیب نہیں ہوتی لیکن کراچی میں مرنے کے لیے کفن میں نہ صرف جیب بلکہ اس جیب میں کم سے کم 40 ہزار اور زیادہ سے زیادہ کی کی کوئی حد مقرر نہیں ، ڈال لیں تاکہ مرنے کے بعد آپ کو قبر حاصل کرنے کے لیے مردہ خانوں کے چکر نہ لگانے پڑیں ۔

اس صورتحال کے پیش نظر مجھے بہادر شاہ ظفر کا اسیری کے دوران کہا گیا شعر شدت سے یاد آ رہا ہے کہ

کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

مزید :

بلاگ -