علم نجوم اپنی جگہ لیکن ہتھیلی پر لکیروں کا اصل مقصد کیا ہوتاہے؟سائنسدانوں نے بلآخر معمہ حل کردیا

علم نجوم اپنی جگہ لیکن ہتھیلی پر لکیروں کا اصل مقصد کیا ہوتاہے؟سائنسدانوں نے ...
علم نجوم اپنی جگہ لیکن ہتھیلی پر لکیروں کا اصل مقصد کیا ہوتاہے؟سائنسدانوں نے بلآخر معمہ حل کردیا

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) انسانی ہاتھ کی لکیریں ہمیشہ سے انتہائی توجہ کا مرکز رہی ہیں اور دست شناسوں نے تو ان لکیروں کو انسان کی قسمت سے بھی منسوب کررکھا ہے، لیکن ان کی اصل حقیقت کا انکشاف جدید سائنس نے کیا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق ہاتھ کی لکیریں، جنہیں Palamar flexion creases کہا جاتا ہے، قدرت نے ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کی ہیں۔ ان لکیروں کی وجہ سے ہاتھ کی جلد کو پھیلنے اور سکڑنے میں آسانی ہوتی ہے اور جب ہم ہتھیلی کو سکیڑتے ہیں تو لکیروں کی جگہ پر بل پڑتے ہیں اور ہاتھ کی جلد باآسانی اکٹھی ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ہتھیلی کھولنے پر جلد پھیل جاتی ہے۔ چونکہ ہم ہتھیلیوں کو کثرت سے بند کرتے اور کھولتے ہیں اسلئے صرف ہاتھوں پر ہی مخصوص لکیریں پائی جاتی ہیں اور انکے نیچے جلد کے فولڈ ہونے کیلئے عضلات موجود ہوتے ہیں۔ حمل کے تقریباً تیسرے ماہ بچے کے ہاتھ پر لکیریں بننا شروع ہوجاتی ہیں اور جب اس کی پیدائش ہوتی ہے تو ہاتھوں پر مکمل لکیریں موجود ہوتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہاتھ پر لکیریں موجود نہ ہوں تو ہتھیلی بند کرنے پر جلد ابھر جائے گی اور کسی بھی چیز کو تھامنا ممکن نہ ہوگا۔ یہ لکیریں انگوٹھے اور انگلیوں کے جوڑوں کے قریب زیادہ گہری ہوتی ہیں اور ہتھیلی پر عموماً تین بڑی لکیریں پائی جاتی ہیں، جبکہ ابنارمل افزائشکے شکار افراد کی ہتھیلی پر صرف ایک لکیر بھی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہاتھ کی لکیروں میں قسمت ڈھونڈنا جہالت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس