کینسر کی تشخیص میری زندگی کا بہترین تجربہ تھا کیونکہ۔ ۔ ۔ ‘ ایک خاتون کی سچی کہانی اور اس کے تاثرات نے ساری دنیا کو حیران کردیا

کینسر کی تشخیص میری زندگی کا بہترین تجربہ تھا کیونکہ۔ ۔ ۔ ‘ ایک خاتون کی سچی ...
کینسر کی تشخیص میری زندگی کا بہترین تجربہ تھا کیونکہ۔ ۔ ۔ ‘ ایک خاتون کی سچی کہانی اور اس کے تاثرات نے ساری دنیا کو حیران کردیا

  

دبئی سٹی (مانیٹرنگ ڈیسک) کینسر کی بیماری خوف اور دہشت کا دوسرا نام ہے لیکن دبئی سے تعلق رکھنے والی خاتون لاماریا شی کہتی ہیں کہ جب انہیں معلوم ہوا کہ وہ کینسر کی مریضہ ہیں تو یہ دن ان کیلئے خوفناک ترین ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی کا بہترین وقت بھی بن گیا۔ 

چھتیس سالہ ریائشی نے ”گلف نیوز“ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب انہیں بتایا گیا کہ وہ رحم کے کینسر میں مبتلا ہیں تو ان کے منہ سے بے اختیار ”نہیں، نہیں“ نکلا اور وہ دہشت زدہ رہ گئیں، لیکن پھر ان کی زندگی میں ایک انقلابی تبدیلی آ گئی اور وہ نئے ڈھنگ سے جینے لگیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ آپ کو یہ بات عجیب محسوس ہوگی لیکن سچ یہی ہے کہ میری بیماری نے مجھے زندگی کو نئی نظر سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا اور آج میں نہ صرف خود کینسر سے لڑ رہی ہوں بلکہ کینسر کے شکار دوسرے مریضوں کو بھی اس بیماری کے خلاف جنگ جیتنے کا حوصلہ دے رہی ہوں۔

ان کے جسم میں کینسر کی تشخیص ہونے کے ایک ماہ کے دوران ہی ان کے دو آپریشن کئے گئے اور کیموتھراپی بھی کی گئی۔ اس وقت ان کی شادی کو صرف آٹھ ماہ ہوئے تھے اور وہ اولاد کی خواہشمند تھیں لیکن ڈاکٹروں نے آپریشن کے دوران معلوم کیا کہ ان کی اوورسیز کینسر سے ناکارہ ہوچکی تھیں۔ ریاشی کہتی ہیں، ”میرے لئے یہ وقت بہت مشکل تھا لیکن میرا خاندان میرے ساتھ کھڑا رہا اور ہم پہلے کبھی اتنے قریب نہ تھے، اگرچہ میں اپنے بچے پیدا نہ کرسکتی تھی لیکن میں سمجھتی ہوں کہ اس بیماری نے میری زندگی میں رحمت نازل کی اور میں نے بچوں کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ میں نے کینسر کے مریضوں کی مدد کی ٹھانی۔ جب میں نے بریسٹ کینسر کی ایک مریضہ کی اپیل اخبار میں پڑھی تو اس کی مدد کا عزم کیا اور پھر یہ سلسلہ ایک مریضہ سے بڑھتا ہوا کینسر کے 80 مریضوں تک پہنچ گیا جو اب ایک گروپ کی صورت میں ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور ایک دوسرے سے حوصلہ پاتے ہیں۔ میں بہت خوش ہوں کہ کینسر نے مجھے نئی سوچ دی اور میں نے اپنے لئے جینا ترک کرکے دوسروں کے لئے جینا شروع کردیا۔ گزشتہ ایک سال سے میری اپنی بیماری میں بھی کمی آرہی ہے، لیکن دوسروں کو روبصحت دیکھ کر مجھے زیادہ خوشی ہوتی ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس