نیم،ماحول دوست پودا

نیم،ماحول دوست پودا
نیم،ماحول دوست پودا

  


طبی نقطہ نظر سے نیم کے پیڑ کے بارے میں خاصی اہمیت بتائی گئی ہے۔ نیم ذائقہ میں اگرچہ کڑوا ہے مگر اس کا استعمال بڑا ہی مفید اور بیماریوں کے لیے تیر بہ ہدف ہوتا ہے۔ اس کے پیڑ سے چھن کر آنے والی ہوائیں بہت سی بیماریوں کو آپ سے دور رکھتی ہیں۔ یہ وہ واحد پیڑ ہے جس کا ہر حصہ انسان کے کسی نہ کسی کام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ خواہ پھل ہوں یا پھول پتے ہوں یا شاخیں‘ جڑیں ہوں یا چھال‘ غرض کہ پورے کا پورا درخت بے حد کار آمد ہے۔

نیم کے درخت سے چھن کر آنے والی ہوائیں بڑی صحت بخش ہوتی ہیں۔ چنانچہ گھر کے آس پاس نیم کا درخت ہونا ہمیشہ ضروری سمجھا گیا ہے گوکہ آج کے دور میں یہ بات خواب ہوتی جا رہی ہے۔ دور شباب میں چہروں پر کیل اور پھنسیاں نکل آتی ہیں۔ اگرچہ یہ ایک قدرتی عمل ہے مگر پھر بھی لوگ ان سے پریشان ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ پھنسیاں چہرے کے حسن کی سب سے بڑی دشمن ہیں۔ دراصل خون صاف نہ ہونے کی بناء پر یہ پھنسیاں نکلتی ہیں۔ وقت پر ان کا علاج نہ ہو تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیاں نیم کے پتے استعمال کریں۔ نیم کے دو تین پتوں کے ساتھ ہلدی پیس کر روزانہ سویرے خالی پیٹ اگر کھا لیں تو خون صاف ہو جائے گا اور چہرے پر کیل مہاسے پیدا نہ ہوں گے۔ مضبوط اور چمک دار دانت بھی حسن کے ضامن ہوتے ہیں۔ اگر نیم کا مسواک استعمال کریں تو مسوڑھے مضبوط ہونگے‘ دانتوں کا حسن برقرار رہے گا۔ منہ جراثیم سے پاک رہے گا اور بدبو بھی خارج نہ ہوگی۔ بارش کے دنوں میں معدے کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں اس سے بچنے کے لیے نیم کی جڑ اور چھال کا استعمال ضروری ہے۔ مقوی غذا نہ ملنے کے سبب جسمانی کمزوری بڑھنے لگتی ہے۔ اکثر لوگوں کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں متاثرہ لوگ اگر روزانہ نیم کے خشک پتوں کا سفوف نہار منہ استعمال کریں تو تیزابیت کی شکایت جاتی رہے گی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بھوک کا احساس ہونے کے باوجود بھی کھانے کو دل نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں سوجی کے حلوے میں نیم کے پتوں کا تھوڑا سا سفوف شامل کرکے استعمال کریں تو غذا سے رغبت پیدا ہو جائے گی۔ ملاوٹی غذا کے استعمال اور دیگر جسمانی پیچیدگیوں سے اکثر لوگوں کے بال چھوٹی عمر میں سفید ہو جاتے ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ نیم کے بیج کا تیل بالوں میں لگائیں۔ بال کالے بھی ہوں گے اور گھنے بھی۔تیل کی صورت اسکایہ نسخہ انتہائی کارگر ہے۔

بخار میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بدن میں حرارت رہتی ہے مگر علم نہیں ہوتا۔ البتہ طبیعت سست ہو جاتی ہے۔ 200 ملی گرام نیم کے پتے کے سفوف میں نصف چمچہ شہد ملا کر استعمال کرنے سے بخار اتر جاتا ہے۔ پیلیا کی شکایت ہو تو نیم کے پتوں کا رس شہد میں ملا کر نہار منہ پینا چاہیے۔ پیلیا کا یہ تیربہ ہدف علاج ہے۔ بواسیر ہونے کی حالت میں نیم کے دو تین عدد بیج کا مغز پانی میں ملا کر پیس لیں اور استعمال کریں۔ بعض لوگ رات کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پاتے اس مرض کو Night Blindness کہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو چاہیے کہ نیم کا پھول فرائی کرکے کچھ دن استعمال کریں۔ ہاضمہ میں خرابی ہو تو زبان کھٹی ہو جاتی ہے۔ منہ میں بار بار لعاب آتا ہے۔ جی متلاتا ہے ایسے میں نیم کی چھال رات کے وقت پانی میں بھگولیں اور سویرے اس پانی کو نہار منہ پی لیں۔ ہاضمے کی خرابی دور ہو جائیگی۔ کبھی کبھی بلا وجہ قے ہونے لگتی ہے جتنی کوشش کرو یہ رکتی نہیں ایسے میں آدھا چمچہ نیم کے پتوں کا رس دودھ میں ملا کر پی لیں۔ قے فورا بند ہو جائے گی۔*

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ