رس چوسنے والے کیڑوں سے بچاؤ کیلئے کپاس کی فصل کا باقاعدہ معائنہکریں

رس چوسنے والے کیڑوں سے بچاؤ کیلئے کپاس کی فصل کا باقاعدہ معائنہکریں

لاہور(کامرس رپورٹر)ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ کپاس کی فصل کے اگاؤ سے لے کر چنائی تک مختلف اوقات میں مختلف اقسام کے نقصان دہ کیڑے فصل پر حملہ کرکے نقصان پہنچاتے ہیں جس سے پیداور میں بہت زیادہ کمی واقع ہوتی ہے۔ سفید مکھی، سبز تیلا، تھرپس، سست تیلا اور نباتاتی جوئیں فصل کے پتوں کا رس چوس کر ان کی خوراک بنانے کی صلاحیت کم کردیتے ہیں جبکہ کپاس کی سرخ اور مٹیالی بھونڈیاں پھلدار حصوں سے رس چوس کر ان کے گرنے کا سبب بنتی ہیں نیز کپاس اور اس کے بیج کی کوالٹی پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں۔ سفید مکھی چھوٹے سے سفید پروانے کی شکل کا کیڑا ہوتا ہے اس کے بچے بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ بالغ اور بچے دونوں ہی پتے کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں۔ اس کیڑے کے جسم سے لیسدار مادہ خارج ہوتا ہے جس پر پھپھوندی لگتی ہے اور پتوں کا رنگ کالا کردیتی ہے جس سے ان کی خوراک بنانے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔

اور شدید حملہ کی صورت میں پتے گرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ نیز کھلے ہوئے ٹینڈوں کی کپاس کالی اور روئی کی کوالٹی گر جاتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ کیڑا کپاس کی پتہ مروڑ وائرس (CLCV) کو پھیلانے کا باعث بھی بنتا ہے۔ چست تیلا تکون نما شکل کا کیڑا رنگ میں سبز ہوتا ہے اس کے بچے بالغ سے بہت مشابہت رکھتے ہیں اس کے بچے اور بالغ دونوں ہی پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں اور بہت چست ہوتے ہیں۔ زیادہ حملے کی صورت میں پتے کناروں سے گہرے پیلے اور بعد میں سرخ ہوکر اندر کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ اس کیڑے کا سب سے زیادہ حملہ اس وقت ہوتا ہے جب موسم گرم اور ہوا میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے مزید بتایا کہ ان رس چوسنے والے کیڑوں کے حملہ سے بچنے کیلئے کاشتکار کپاس کی فصل کا باقاعدگی سے معائنہ کریں اور اگرتھر پس کا حملہ 8 تا10 بالغ یا بچے فی پتا،سبز تیلے کا حملہ ایک بالغ یا بچہ فی پتا،سفید مکھی کا حملہ 5 بالغ یا بچے فی پتا یا دونوں کو ملا کر پانچ عددفی پتا،جوئیں نقصان کی علامات ظاہر ہونے،سست تیلا اوپر والی کونپلوں پر واضح نقصان،گدھیڑی کھیت میں حملہ نظر آنے پر اور ڈسکی کاٹن بگ 100 فٹ لمبی قطارمیں15 بگز مشاہدہ میں آئے توکاشتکار محکمہ زراعت توسیع یا پیسٹ وارننگ کے مقامی عملے سے مشورہ کریں اور ان کیڑوں کے تدارک کیلئے سپرے کریں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ کیڑوں کا حملہ اگر زیادہ رقبہ پر پھیل جائے تو کنٹرول پانا مشکل ہوجاتا ہے لہذٰا کاشتکار ابتدائی سٹیج پر ان پر قابو پائیں اور کپاس کی فصل کو نقصان سے بچائیں۔سیکرٹری زراعت پنجاب ڈاکٹر واصف خورشید کی ہدایت پرمحکمہ زراعت کی ٹیمیں کاشتکاروں کی راہنمائی کیلئے موجود ہیں اور کاشتکاروں کی ہرممکن معاونت کررہی ہیں

مزید : کامرس