تحصیل ماڈل ٹاؤن ، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمو ں میں جعلسازی کے واقعات معمول

تحصیل ماڈل ٹاؤن ، غیر قانونی ہاؤسنگ سکیمو ں میں جعلسازی کے واقعات معمول

لاہور(اپنے نمائندے سے) تحصیل ماڈل ٹاؤن کے پٹوار سرکل کاہنہ میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں میں روزانہ کی بنیاد پر فراڈ جعلسازی کے واقعات عام ہو گئے متعلقہ پولیس سوسائٹی مالکان کی محافظ بن گئی ،شہریوں کی کثیر تعداد نے آئی جی پنجاب سے تھانہ کاہنہ میں تعینات پولیس اہلکاروں کی جعلسازوں کیساتھ گٹھ جوڑ اور آشیر باد کے خاتمے کی اپیل کر دی روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق تھانہ کاہنہ کی پولیس غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کی معاون بن گئی، بغیر نقشے ، این او سی کے بغیر غیر قانونی تعمیرات بھی تھانہ کاہنہ نو کی پولیس کے زیر نگرانی طے شدہ فیس وصولی کے بعد تعمیرات کی جانے لگیں،ہاؤسنگ سکیموں کے مالکان کی جانب سے گلیوں، محلوں، راستہ جات، پارکس، قبرستان اورمورٹ گیج کی جانے والی متنازعہ زمین فروخت کردی گئی جبکہ پولیس درخواستوں کو دباتے ہوئے جعلسازی ، دھوکہ دہی میں ملوث افراد کی پشت پناہی کرنے لگی ۔ معلومات کے مطابق کاہنہ کی حدود میں آنیوالی ہاؤسنگ سکیم ریحان گارڈن ،حمزہ گارڈن، حمزہ ٹاؤن، ظہور ٹاؤن، کمبیر پارک کاہنہ کینال ویو، مدینہ سٹی، مدینہ پارک، نور پارک، سعید پارک، ایلیٹ ٹاؤن اور گلش آباد سمیت 30,30کنال پر مشتمل چھوٹے چھوٹے ٹاؤنوں میں روزانہ کی بنیاد پر شہریوں سے فراڈ جعلسازی کے واقعات ہو رہے ہیں۔رہائشوں کا کہنا ہے کہ رواں برس کے دوران تھانہ کاہنہ میں دی جانے والی درخواستوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو تمام حقیقت آشکار ہو جائے گی کہ کتنے ملزمان کے خلاف اب تک کارروائی کی گئی ہے شہریوں نے آئی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ تھانہ کاہنہ نو میں تعینات ایس ایچ او سمیت پولیس اہلکاروں کی فوری ٹرانسفر کی جائے جو کہ یہاں عرصہ دراز سے ایک ہی جگہ تعینات ہیں اور نئے آنیوالے ملازمین کو بھی کام کرنے کی بجائے ہاؤسنگ سکیموں کے وزٹ کروانے اور پراپرٹی ڈیلری کا کام سکھانے میں مصروف ہیں جبکہ شہریوں کی داد رسی کیلئے بھی کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

پٹوار سرکل

مزید : میٹروپولیٹن 1