معاشرے کی ترقی وکمال کا راز

معاشرے کی ترقی وکمال کا راز
معاشرے کی ترقی وکمال کا راز

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اخلاقی قدروں کی فراوانی و پائیداری ور مہر و محبت کی مہک عام کرنے سے معاشرے مضبوط ہوتے اور ترقی کرتے ہیں ۔تدبر اور دلیل سے کامیابی کے امکانات روشن ہوتے ہیں، جبکہ الزامات کے پتھر مارنے سے بعض اوقات مارنے والے کی اپنی شخصیت زخمی اور داغدار ہو جاتی ہے ۔ جھاڑ جھنکار بونے سے خوشبو دار پھول نہیں اگتے۔

کانٹے اگتے ہیں، جو بعض اوقات بونے والوں کا دامن تار تار کر دیتے ہیں ۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان حاصل کرنے کے لئے بر صغیر کے مسلمانوں کی عظیم الشان تحریک برپا کی۔

انہیں ہندو اور انگریز کی شکل میں دو بڑی طاقتوں کا سامنا تھا، دونوں ہی مسلمانوں کی تہذیب و تمدن اور قوت کے احیا کے لئے الگ خطہ زمین دینے کو تیار نہ تھے، اس جنگ میں قائداعظمؒ نے فریق مخالف کو نیچا دکھانے کے لئے گالی گلوچ اور بہتان طرازی کا سہارا نہیں لیا ۔

قائداعظم نے تدبر ثابت قدمی اور بہترین حکمت عملی اختیار کی ۔جان نثارانہ جد و جہد اور دلیل کی طاقت کے سامنے دونوں بڑی طاقتوں کو ہتھیار ڈالنے اور قائداعظمؒ کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا۔

پاکستان وجود میں آ گیا تو اسے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے قائداعظمؒ کے فرمان پر عمل پیرا کاروباری طبقہ کاروبار بڑھانے اور پھیلانے میں مصروف ہو گیا،آج تک اس طبقہ کی جانفشانی اور محنت میں کمی نہیں آئی۔ سیاست سے بہت کم سروکار رکھتا ہے ،البتہ سیاست دانوں کے کاروبار دشمن رویوں، بے وقت احتجاجوں، زہریلی زبان استعمال کرنے سے کاروباری ماحول میں سست روی پیدا ہوتی ہے، اس لئے بزنس کمیونٹی کے رہنما گاہے گاہے سیاست دانوں کو شائستگی اختیار کرنے کے لئے توجہ دلاتے رہتے ہیں، کیونکہ سیاست افہام و تفہیم اور خدمت کا دوسرا نام ہے، اسے زیادہ سے زیادہ با مقصد بنانے کی بجائے اسے دشمنی کا ذریعہ نہ بنائیں۔اخلاقی قدریں اور شائستگی ختم ہو جائے تو معاشرے جنگل اور سیاست چنگیزیت بن جاتی ہے۔

2013 ء کے الیکشن کے نتیجے میں مرکزاور صوبوں میں حکومتیں بن گئیں، انہوں نے کام شروع کیا ہی تھا کہ بعض سیاست دانوں نے دھاندلی کا واویلا مچاتے ہوئے جلسے جلوس اور دھرنے شروع کر دیئے۔

اسلام آباد کے دھرنے میں ہر شام یہ سیاست دان کنٹینر پر چڑھ کر اعلان کرتے رہے کہ امپائر کی انگلی اٹھنے سے پہلے پہلے وزیر اعظم استعفا دے دیں۔ عوام اور پارلیمنٹ حیرا ن کہ کونسا امپائر ہے، جو بھاری مینڈیٹ سے کامیاب حکومت گرانا اور ملک میں افرا تفری سے کاروباری حالات خراب کرنا چاہتا ہے،اس موقع پران سیاست دانوں کی طرف سے روا رکھی جانے والی زبان شائستگی سے عاری تھی عوام نے سخت نفرت کا اظہار کیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سابق وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کے بعد ان کی سیٹ پر ان کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کو کھڑا کیا گیا۔ کاغذ داخل کراتے ہی انہیں کینسر کے موذی مرض کی وجہ سے لندن کے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ لاہور کے حلقہ 120 کی انتخابی مہم اکیلی مریم نواز نے چلاٰئی۔

مخالف سیاست دانوں نے ایڑی چوٹی کا زورلگایا، ان کی کمان میں تنقید کے جتنے تیر تھے، سب چلا لئے، لیکن عوام نے کارکردگی اور قائداعظم کے انداز سیاست کو پسند کیا اور محترمہ کلثوم نواز صاحبہ کو بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا۔

اپنی غلط حکمت عملی کا نتیجہ دیکھ کر سیاست دانوں کو اصلاح کی طرف رخ کرنا چاہئے تھا، ایسا نہیں ہوا،بلکہ انہوں نے فیس بک اور ٹویٹر پیغامات کے ذریعے کردار کشی کی مہم تیزکردی۔ کہا گیا کہ کلثوم نواز صاحبہ بیمار نہیں اور ڈرامہ کر رہی ہیں۔

متعلقہ ڈاکٹر بار بار اعلان کر رہے ہیں اور دنیا کو معلوم ہے کہ مریضہ موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ آرمی چیف اور دیگر اہم شخصیات سمیت عوام ان کی صحت یابی کے لئے دعائیہ پیغامات بھیج چکے ہیں، ایسے میں بعض سیاسی حلقوں کی طرف سے غلط پیغامات خبثِ باطن سے زیادہ کچھ نہیں۔

تمام سیاست دان اور دیگر محب وطن افراد و شخصیات پاکستان کو ویلفیئر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔کتنا اچھا ہوتا کہ اگر قطع نظر سیاسی گروپ کے پور ی قومی لیڈرشپ سابق وزیر اعظم پاکستان کی شدید علیل اہلیہ بارے غلط ٹویٹرپیغامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی تمام سیاست دانوں سے درخواست ہے کہ قائداعظمؒ کے فکر و فلسفہ کو اپنائیں۔

حالیہ الیکشن مہم کو گالی گلوچ اور الزامات کے گند سے پاک و صاف رکھیں کاروباری طبقہ او ر عوام موجودہ الیکشن میں فہم و فراست سے کام لیں گے۔ دشنام طرازیوں سے متاثر نہیں ہوں گے، کارکردگی شائستگی اور حب الوطنی کے جذبوں کی قدر افزائی ہوگی۔

مزید : رائے /کالم