پی ٹی آئی کی سیاست:  فائدہ کس کو؟

پی ٹی آئی کی سیاست:  فائدہ کس کو؟

مکرمی!پی ٹی آئی کے سپورٹوروں کا خیا ل ہے کہ دوسری جماعتوں کی وکٹیں گرا کرانہیں اپنی پارٹی میں شامل کر لینے سے وہ کامیاب ہوگئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی میں مکس سبزی بننے جا رہی ہے۔پی ٹی آئی کے کارکن اب جگہ جگہ احتجاج کرتے دکھائی دے رہے ہیں،کیا عمران خان بھی ایسے لوگوں کے بہکاؤے میں تو نہیں آ گئے، جو اپنی پارٹی میں چلے ہوئے کارتوس شامل کر رہے ہیں۔کہاں گیا وہ نظریہ اور کہاں گئی وہ تبدیلی؟ عوام کی امید کا کیا بنے گا؟ ان لوگو ں کا کیا بنے گا،جو اس سونامی میں عمران خان کی قیادت میں سرجھکائے ساتھ رہے۔ 

خیر یہ مان لیا جائے کہ عمران خان ان الیکٹیبلز کے ذریعے اگر اقتدار میں آجاتے ہیں تو اس بات کی کون گارنٹی دے گا کہ عمران خان ان کے چنگل سے نکل پائیں گے۔شاید عمران خان کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ یہ لوگ کتنے شاطر ہیں جہاں ان کو فائدہ ہو اور سیاست چمکانے کا بہترین پلیٹ فارم مل سکے تویہ لوگ آج ایک پارٹی میں ہیں اور کل دوسری پارٹی میں ہوتے ہیں۔نئے پاکستان کا نعرہ لگاتے بالآخر عمران خان یہ بات ماننے مجبور ہو گئے ہیں کہ ان کا نیا پاکستان ان کے موجودہ نوجوان ووٹروں اور نوجوان الیکشنی امیدواروں کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔ تحریک انصاف بھی اس بات پر مجبور ہو گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ٹکٹ دے جن کی کامیابی یقینی ہو، جبکہ ماضی میں وہ امیدوار کیا تھے کون تھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بس عمران خان ان کی بدولت وزارتِ عظمیٰ کا حلف اُٹھاسکیں گے۔عمران خان صاحب نے 100دن کا پلان تشکیل دیا ہے،جبکہ سوچنے کی بات ہے کہ ملک میں اندرونی مسائل بہت زیادہ ہیں معیشت مکمل طور پر گر چکی ہے اور قرضوں کے انبار لگ ہیں۔

تحریک انصاف میں اب کرپٹ لوگوں کی لائن شامل ہے۔عمران خان صاحب اندرونی مسلئے حل کریں گے یا بیرونی؟ پانچ سالوں میں کے پی کے حالات درست نہیں ہوسکے سو دن میں پورے پاکستان میں کیا تبدیلی آئے گی؟اگر کے پی کے میں تھوڑی بہت بہتری آئی بھی ہے تو وہ جماعت اسلامی کے چند وزراء کی بدولت آئی،جو پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت تھی اور اس نے وہاں اپنی کارکردگی بھرپور دکھائی۔ تحریک انصاف آنے والے وقت میں کس حدتک کامیاب ہوتی ہے یہ تو آئندہ کے انتخابات میں پتہ چلے گا، لیکن تحریک انصاف کو اپنے پرانے وژن اور نظریہ سے ہٹ کرسیاست نہیں کرنی چاہئے۔

عمر فاروق، ملتان روڈ، لاہور

مزید : رائے /اداریہ