الیکٹیبلز کی سیاست یا متناسب نمائندگی

الیکٹیبلز کی سیاست یا متناسب نمائندگی
الیکٹیبلز کی سیاست یا متناسب نمائندگی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اس وقت پورا ملک الیکٹیبلز فنامنہ (Electables Phenomenon) سے گونج رہا ہے ویسے تو ہر پارٹی الیکٹیبلز کی تلاش میں رہتی ہے، کیونکہ اقتدار میں آنے کی یہی ضمانت ہے، لیکن اس وقت الیکٹیبلز کا بہاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہے اور وہاں ان کا خیر مقدم بھی کیا جا رہا ہے اور بقول عمران خان یہ انتخابات کی سائنس جانتے ہیں۔

ظاہر ہے چند انتخابات کی مشق سے گزر کر عوام اس قدر ’’باشعور‘‘ ہو گئے ہیں کہ انہیں پتہ چل جاتا ہے کہ اب اقتدار میں کس کی باری ہے، کیونکہ اقتدار سے نکالنے اور اقتدار میں لانے کی ’’ٹیکنالوجی‘‘ اب کوئی راز نہیں رہا ،ہاں تھوڑی بہت ترمیم ہوتی رہتی ہے اس لئے زیادہ تر لوگ چھلانگ لگا کرآنے والی پارٹی میں شامل ہوجاتے ہیں، بلکہ اس کام کے لئے مقابلہ شروع ہوجاتا ہے، کیونکہ کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں رہناچاہتا ۔اس میں البتہ ایک استثنا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ کسی پارٹی یا پارٹی لیڈرکے ساتھ ایک حد تک زیادتی برداشت کرتے ہیں۔

مثلاً بھٹو کی پھانسی کے بعد پیپلزپارٹی کے حق میں ہمدردی کی شدید لہر کی مثال ہمارے سامنے ہے، جس کے نتیجے میں آج تک پیپلزپارٹی کسی حد تک اقتدار میں شامل ہے۔ پھر جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں میاں نواز شریف کے ساتھ جس طرح زیادتی کی گئی، انہیں اٹک جیل میں ڈالاگیا، طیارہ اغواء کے مقدمے میں سزا دی گئی سابق بیورو کریٹ مرحوم امین اللہ چودھری نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ یہ دُنیا کا انوکھا کیس تھا،جس میں ایک شخص نے زمین پر بیٹھ کرطیارہ اغواء کیا پھر طیارے میں انہیں ہتھ کڑی لگائی گئی۔چودھری شجاعت حسین نے اپنی آپ بیتی ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں لکھا ہے کہ اٹک قلعے میں نواز شریف کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی گئی، بلکہ انہیں گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت تھی کاش چودھری صاحب طیارے میں ہتھ کڑی لگانے والے واقعے اور اسلام آباد ائیر پورٹ پر انہیں دھکّے مار کر جہاز میں سوار کرانے کے واقعات پر بھی اظہارخیال کر دیتے اور اِن معاملات میں بھی کلین چٹ جاری کر دیتے۔ ان واقعات کے نتیجے میں نواز شریف کے حق میں بھی عوامی ہمدردی کی لہر اُٹھی تھی اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب سے واپسی کے بعد تقریباً ایک ماہ کی انتخابی مہم کے نتیجے میں انہیں قومی اسمبلی کی90 نشستیں ملیں۔

بہرحال الیکٹیبلزکا سفر مسلم لیگ(ن) سے مسلم لیگ(ق) پھر ن لیگ اور اب پاکستان تحریک انصاف کی طرف بڑا معنی خیزہے اس مشق نے لوگوں کے ذہنوں میں بڑے سنجیدہ سوال پیدا کر دیئے ہیں۔

بہت سارے لوگ جو تحریک انصاف کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ الیکٹیبلز کے غلبے کی وجہ سے ان میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے ان کے خیال میں پی ٹی آئی ہمارے سیاسی کلچر میں ایک خوشگوار جھونکا تھا، لیکن اب انہیں اس اندیشے نے گھیر لیاہے کہ الیکٹیبلز اِسے بھی دوسری پارٹیوں کی طرح سٹیٹس کو کی نمائندہ پارٹی بنادیں گے اور یوں حقیقی تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ ان نئے آنے والوں کی اکثریت ایسی ہے، جن کی سوچ اوران کا ماضی کسی طرح تحریک انصاف سے لگّا نہیں کھاتا۔تحریک انصاف پڑھے لکھے نسبتاً نوجوانوں کی پارٹی تھی بھلا اس میں راجہ ریاض،گوندلز اور جنوبی پنجاب کے زمیندار ٹولے کی گنجائش کہاں بنتی ہے۔

یہ بات طے ہے کہ ایسے لوگ مُلک میں کسی انقلابی تبدیلی کے لئے تحریک انصاف میں نہیں آئے،بلکہ انہوں نے سونگھ لیا ہے کہ آئندہ اقتدارکا ہما عمران خان کے سر پر بیٹھنے لگا ہے اس سلسلے میں بڑی دلچسپ باتیں ہو رہی ہیں مثلاً ایک صاحب نے سوشل میڈیا پر دکھ کا اظہار کیا کہ وہ مختلف حالات میں مختلف پارٹیوں سے ہمدردی رکھتے رہے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر دفعہ ان کے حلقے میں امیدوار جعفر لغاری ہی ہوتا ہے پارٹی خواہ کوئی ہو پھر امیدواروں کی اکثریت اور پرانے مخلص پارٹی ورکرز اور نئے پیراٹروپرز کے درمیان جنگ نے پارٹی اورخود عمران خان کے لئے بڑی پیچیدہ صورتِ حال پیدا کردی ہے، اب ایسا نظرآتا ہے کہ شاید عمران خان برسراقتدار تو آجاتے، لیکن نیچے پارٹی وہ نہیں ہو گی، جس کو لے کر وہ اس سفر پر نکلا تھا کسی نے خوب کہاہے کہ جب انتخابات کے نتیجے میں نئی قومی اسمبلی وجود میں آئے گی تووہ دراصل وہی پرانی اسمبلی ہو گی صرف کچھ لوگوں کی نشستیں تبدیل ہو جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آئے گی،بلکہ قوم کو پتہ نہیں کتنی دہائیوں تک بے اُصولی وراثتی سیاست اور وی آئی پی کلچر کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔

تو پھر اس صورتِ حال کا حل کیاہے؟ یہ توقع رکھنا کہ پارٹیاں مستقبل میں اپنے منشور اورنظریاتی کارکنوں کو ساتھ لے کرچلیں گی اور ساتھ ساتھ نئے آنے والوں کی صورت میں نیا خون شامل کرنے کی جدوجہد جاری رکھنی چاہئے، لیکن یہ عوام کی خواہش تو ہوسکتی ہے، سیاست کی معروضی حقیقتوں کے ساتھ اس کا کوئی تعلق بنتا نظر نہیں آتا۔

پہلی بات یہ کہ نئے لوگ کہاں سے آئیں گے اور پھر ایسے لوگ جن میں آگے بڑھنے کی امنگ بھی ہو وہ کوئی نظریہ بھی رکھتے ہوں اور سیاسی ماحول کی نزاکتوں کو بھی کسی حد تک سمجھتے ہوں، کیونکہ بالکل نئے لوگ اپنے حلقوں میں پرانے سیاسی کھلاڑیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہمارے ہاں اب تک یہ ہوتا آیا ہے کہ نئے لوگ فوج لے کر آتی رہی ہے یہ پنیری جتنی پرانی ہوجائے طعنے سے جان نہیں چھڑا سکتی۔ اس کے علاوہ جینوئن نئے لوگوں کے آگے آنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ملک میں سیاسی جمہوری عمل بغیر کسی مداخلت کے چلتا رہے بنیادی جمہوریتوں کا ادارہ بھی اس معاملے میں معاون ثابت ہوسکتاہے، لیکن اول تو ہماری سیاسی حکومتیں بنیادی سطح پر انتخابات کرانے سے پرہیزکرتی ہیں اور پھر انتخابات ہو بھی جائیں تو انہیں اختیارات نہیں دیئے جاتے، بلکہ ان کے اختیارات صوبائی حکومتیں اور ترقیاتی فنڈز پارلیمنٹ کے ارکان استعمال کرتے ہیں پھر تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونیز بھی سیاسی نرسری کا کام دیتی تھیں لیکن ان پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے یوں نئے لوگوں کی سیاست میں شمولیت کے راستے مسدودکردیئے گئے ہیں۔

ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم اپنے سیاسی نظام کی ری سٹرکچرنگ کریں بعض لوگ صدارتی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔

افتخار محمد چودھری کی سیاسی پارٹی کا یہی مطالبہ ہے شاید جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد بھی یہی رائے رکھتے ہیں ،ڈاکٹر عطاء الرحمن صدارتی نظام کے نفاذ کی بڑی دہائی دیتے رہے ہیں،لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ صدارتی نظام ہماری فیڈریشن کے لئے شاید موزوں نہیں اور پھر یہ ہمارے آئینی ڈھانچے کے خلاف ہے اور آئین کی بنیادی سکیم کے خلاف کوئی قانون یا آئینی ترمیم مشکل ہے۔

ایک حل یہ ہے کہ انتخابی نظام میں تبدیلی کرکے متناسب نمائندگی کا نظام اپنالیاجائے یہ نظام الیکٹیبلز کی مجبوری سے بھی آزاد کردے گا اور کسی حد تک صدارتی نظام کی اس خوبی کا بھی حامل ہوگا کہ اس میں معاشرے کے قابل آدمی الیکشن کی قباحتوں سے بچ کر مُلک اور معاشرے کی بھلائی میں اپنا حصہ ڈال سکیں گے یہ نظام اس وقت ناروے،فن لینڈ،سویڈن،سپین روس اور اسرائیل میں کسی نہ کسی شکل میں نافذ ہے متناسب نمائندگی کے نظام میں انتخابی حلقوں میں انتخاب لڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی،بلکہ لوگ پروگرام دیکھ کر پارٹیوں کو ووٹ ڈالیں گے اور کسی پارٹی کوڈالے گئے ووٹوں کے تناسب سے اسے پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل ہوں گی ۔پارٹیوں کے سربراہوں کو البتہ اختیار ہوگا کہ وہ اپنی پسند کے لوگوں کو رکن منتخب کرواسکیں گے۔

مزید : رائے /کالم