قومی سیاست میں موروثیت

قومی سیاست میں موروثیت
قومی سیاست میں موروثیت

  

سیاست میں موروثیت الیکشن 2018ء کا ایک ایشو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس ایشو کو وہ جماعت ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر ابھارنے کی کاوشیں کر رہی ہے، جس کی ابھی تک نہ تو کوئی سیاسی وراثت بن پائی ہے اور نہ ہی اس پارٹی لیڈر کی وراثت پانے والے اس کے کہنے سننے میں ہیں یعنی قیادت کی جائز اولاد بھی اس کے پاس نہیں ہے، اس لئے وہ سیاست میں موروثیت کو ایک بہت بڑے ایشو کے طور پر متعارف کرانے اور اپنی مد مقابل قیادت کو بدنام کرنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔

ویسے تو ان صاحب کو قائد کہنا ابھی تک طے نہیں ہے، سیاست کی ڈکشنری میں سیاسی قائد کی شاید کسی بھی شرط پر وہ پورے نہیں اترتے، پاپولیرٹی تو کوئی حتمی اشاریہ نہیں ہے۔ شیخ رشید کتنے پاپولر ہیں لیکن ان کی پارٹی ٹانگے کی سواری ہے ائیر مارشل اصغر خان کی پاپولیرٹی کسی شک و شہبے سے بالاتر تھی لیکن عوام نے انہیں کبھی بھی اپنی قیادت کرنے کا حق نہیں دیا۔

سیّد عطاء اللہ شاہ بخاری ، برصغیر پاک و ہند کی سطح پر جانے ، مانے اور پہچانے جاتے تھے ان کا تقویٰ، للہیت، لوگوں کو متاثر کرنے اور قائل کرنے کی صلاحیت لاریب تھی وہ عشاء کے بعد قرآن سنانا شروع کرتے تو فجر کی اذانیں ہو جاتی تھیں کوئی فرد مجمع چھوڑکر نہیں جاتا تھا وہ سامعین پر سحر طاری کر دیا کرتے تھے لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے ووٹ کے ذریعے اپنا حق نمائندگی، ایک ایسے شخص کو سونپا جو ان کی زبان بھی نہیں بول سکتا تھا۔ محمد علی جناح کو ہندی مسلمانوں نے قائداعظم بنایا انہوں نے یعنی مسلمانوں کی اجتماعی دانش نے محمد علی جناح کو اپنا قائد بنایا۔ 

پاپولیرٹی ، کوئی حتمی اشاریہ نہیں ہے اگر آپ کمیونیکشن سائنس سمجھتے ہیں اور جدید آلات / ٹولز کا استعمال کرنا جانتے ہیں تو آپ کسی بھی حد تک پاپولر ہو سکتے ہیں ہمارے عمران خان فی الحقیقت ایک پاپولر "نوجوان " ہیں وہ دنیائے کرکٹ کے ہیرو ہیں وہ خواتین پر سحر طاری کرتے رہے ہیں اور اب بھی کر رہے ہیں وہ ورلڈ کپ جیت کر پاکستان لائے ۔

انہوں نے کینسر کا بہت بڑا اسپتال بنایا ۔ قوم نے انہیں اس کام کے لئے پیسے بھی دئیے لیکن دو دھائیوں سے وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ وہ قوم کا حق نمائندگی بھی ادا کر سکتے ہیں ۔ ک

ے پی کے میں ان کا پانچ سالہ دور حکمرانی، ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا " سفید ثبوت " ہے پھر الیکشن کے انعقاد کے لئے نگران وزیراعظم اور نگران وزیراعلیٰ (کے پی کے) کے مسئلے پر انہوں نے جس بچگانہ پن کا ثبوت دیا ہے اس سے بھی ان کی " قائدانہ صلاحیتیں" کھل کر سامنے آگئی ہیں۔

سیاست میں غیر معیاری تنقید اور بدزبانی کے فروغ میں انہیں یدطولیٰ حاصل ہے کنفیوژن پھیلانے میں بھی انہیں مہارت حاصل ہے شادی بیاہ کے معاملات سے لے کر پارٹی معاملات تک انہوں نے سچ کی بیخ کنی کی ہے جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ انہیں کمیونیکشن سائنس سے واقفیت حاصل ہے کمیونیکشن ٹولز کا استعمال کرنا بھی جانتے ہیں اس لئے وہ جھوٹ کو بظاہر سچ میں چھپا کر اس کی اشاعت کرتے اور ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور خوب کرتے ہیں۔

اڈولف ہٹلر کے ابلاغ عامہ کے شہ دماغ گوئیبلز کے مطابق جھوٹ کو اس قدر مہارت اور تکرار کے ساتھ بولو کہ عوام کو وہ سچ لگنے لگے ۔ پی ٹی آئی کے ابلاغِ عامہ کے ماہرین بھی اسی فارمولے پر عمل کرتے رہے ہیں لیکن گوئیبلز نے اڈولف ہٹلر کو جرمن قوم کا " مسیحا" اور نجات دہندہ ثابت کرنے کے لئے پروپیگنڈے کا ہتھیار استعمال کیا تھا اور حیران کن حد تک جرمن قوم نے ہٹلر کو اپنا نجات دہندہ تسلیم کر کے ووٹ کے ذریعے اپنا رہبر بھی بنا لیا تھا۔

جرمنوں نے ہٹلر کے دکھائے گئے خواب بھی سچ مان لئے تھے جرمن قوم کی برتری اور عالمی غلبے کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے ہٹلر نے قوم کی صف بندی کی۔ جرمن قوم کو تیار کیا اور پھر وہ پوری دنیا سے ٹکرا گیا۔

فتح اور شکست الگ مسئلہ ہے جرمن قوم نے ابھی تک ہٹلر کے فلسفے کو رد نہیں کیا۔ ہٹلر کے حق میں بات کرنے پر پابندی ہے لیکن ہٹلر کے خلاف بھی کوئی جرمن بات نہیں کرتا ہے ۔

ہٹلر نے اپنے کردار اور عمل سے اپنے افکار کی تصدیق کی تھی اس کی اصول پسندی ، اپنی قوم کے لئے سچا درد اور اس کی قائدانہ صلاحیت کسی شک و شبہ سے بالاتر تھی۔ اس نے جنگ عظیم اول ) 1914-18ء ( میں شکست خوردہ اور 1930-32ء کے عالمی کساد بازاری کی ماری ہوئی قوم کو دیکھتے ہی دیکھتے تھوڑے ہی عرصے( 1939ء) میں دنیا کے مقابل کھڑا کر دیا تھا۔

یہاں نقل تو گوئیبلز کے فلسفے اور طرزِ عمل کی ماری جا رہی ہے لیکن جواب ویسا نہیں آرہا ہے۔ قوم دو دھائیوں سے عمران خان صاحب کو "نجات دہندہ" ماننے کو تیار نہیں ہوئی ہے الیکشن 2018ء میں بھی 2013ء کی طرح ان کے پاس قوم کو دکھانے اور رجھانے کے لئے کچھ بھی موجود نہیں ہے کیونکہ انہوں نے کے پی کے میں کچھ بھی نہیں کیا۔

گزرے دس سالوں (2008-2018ء )کے دوران بالعموم اور پانچ سالوں (2013-2018ء) کے دوران بالخصوص نواز شریف اور شہباز شریف کی ٹانگیں کھینچنے کے لئے دھرنے دینے اور ڈانس پارٹیوں کے سوا کچھ نہیں کیا۔ سیاست میں دروغ گوئی ، بدزبانی، بد کلامی اور ہُلڑ بازی کے کلچر کے فروغ کا سہرا پی ٹی آئی کا کریڈٹ ہے۔ 70 کی دھائی میں یہی کام پیپلز پارٹی بھی کر چکی ہے۔

سیاست میں موروثیت کو قومی سیاست میں ایک برائی اور ایشو کے طور پر ابھارنے کی کاوشیں پی ٹی آئی کی ایسی ہی عادتوں کا نتیجہ ہے کیونکہ 2018ء کے انتخابات میں عوام کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں ہے، اس لئے وہ نان ایشو کو ایشو بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے:ہماری قومی سیاست میں موروثیت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے یہ حقیقت سیاسی جماعتوں کی حد تک نہیں ہے: بلکہ انفرادی خاندانی سطح پر بھی ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھٹو خاندان کی پارٹی ہے ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو ایک ریاست کے دیوان (وزیراعظم ) تھے ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی بنا کر اس وراثت کو آگے بڑھایا پھر ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو اور اس کے بعد ان کے بیٹے بلاول بھٹو میدان سیاست میں ہیں گویا چوتھی نسل مسلسل سیاست میں ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے محمد نواز شریف اور محمد شہباز شریف 3 دھائیوں سے قومی میدان سیاست میں ہیں اب ان کے بیٹے بیٹیاں ، حمزہ شہباز اور مریم نواز کی صورت میں اپنی سیاسی وراثت کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن، اپنے والد مولانا مفتی محمود کی جمعیت العلمائے اسلام کو لے کر آگے چل رہے ہیں۔ ان کے دو بھائی بھی سیاست میں متحرک ہیں۔ باچا خان کا خاندان ، ولی خان اور پھر اسفند یار ولی کی صورت میں تیسری نسل میں آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان میں واحد سیاسی و دینی پارٹی ، جماعت اسلامی ہے جو موروثیت پر عمل پیرا نہیں ہے ان کا اپنا شورائی نظام ہے، جس کے ذریعے پارٹی صدر (امیر ) کا چناؤ کیا جاتا ہے مولانا مودودی کا کوئی بیٹا یا بیٹی قیادت کے منصب پر فائز نہیں ہے،لیکن اس نے بھی لاہور کے دو حلقوں میں میاں بیوی کو امیدوار بنا دیا ہے۔مرکزی سطح پر تو ’’موروثیت‘‘ نہیں، لیکن اس کی نرسری کا آغاز ضرور ہو گیا ہے،شاید خربوزوں کو دیکھ کر خوبوزے نے رنگ پکڑ لیا ہے۔

اس کے علاوہ قیام پاکستان کے بعد سے کئی خاندان ، قومی و علاقائی سیاست پر غالب نظر آتے ہیں۔ بہت سی برادریاں لغاری، ٹوانے، دریشک ، نوانی، بلوچ ، وغیرہ 70 سالوں سے اپنی اپنی سیاست کر رہے ہیں،ان کے حلقے اور آبائی نشستیں محفوظ و مامون ہیں۔ ایم کیو ایم بھی ایک ایسی پارٹی ہے ( تھی) جو موروثیت پر نہیں چلتی تھی بلکہ اپنے اندورنی نظام کے ذریعے قیادت چنتی تھی لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ جماعت فسطائیت اور ریاست دشمنی کی شکار ہو کر اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔

سیاست میں موروثیت صرف پاکستان میں ہی نہیں ہے دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت بھارت میں بھی ہے۔ اس کی 70 سالہ قومی تاریخ میں نہرو خاندان چھایا نظر آتا ہے تقسیم ہند سے پہلے موتی لعل نہرو اور جواہر لعل نہرو تحریک آزادی ہند کے درخشاں ستارے تھے کانگریس کے پلیٹ فارم سے ہندوؤں نے جو آزادی کی جنگ لڑی اس میں نہرو خاندان صف اول میں کھڑا نظر آتا ہے آزادی کے بعد جواہر لعل نہرو آزاد ہندوستان کی قیادت پر فائز ہوئے آزادی کے بعد 70 سالوں میں سے 45/50 سال تک ہندوستان کی قیادت کے منصب پر نہرو خاندان فائز رہا ہے۔

کانگریس اور ہندوستان اسی طرح لازم و ملزوم ہیں جس طرح کانگریس اور نہرو خاندان لازم و ملزوم ہیں نہرو خاندان جواہر لعل نہرو سے لے کر اندراگاندھی، راجیو گاندھی ، سنجیو گاندھی اور اس کے بعد راھول گاندھی ہمیں بھارتی قیادت کے منصب پر فائز نظر آرہے ہیں۔

منموھن سنگھ ہندوستان کے وزیراعظم تھے اس دور میں کہا جاتا تھا کہ ہندوستان کی اصل حکمران، راجیو گاندھی کی اطالوی بیوی سونیا گاندھی ہیں جو آج کل کانگریس کی صدر ہیں اور ان کا بیٹا راھول گاندھی سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

نہرو خاندان کی پانچویں نسل ہندوستان کے سیاسی منظر اور پس منظر پر چھائی ہوئی ہے اور ہندوستان کو عظیم سلطنت / مملکت بنانے میں مصروف ہے۔ کسی ہندوستانی شہری ، سیاستدان یا لیڈر نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا بلکہ وہ کانگریس اور اس کی قیادت کی پالیسیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مستعد رہتے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ ہندوستان عالمی منظر پر چھا جانے کی تیاری میں ہے۔۔۔

لیکن یہ افسوس ناک پروپیگنڈہ ہمارے ہاں ہی کیا جانے لگا ہے کہ " سیاست میں موروثیت ایک برائی ہے جس کے باعث پاکستان ترقی نہیں کر رہا ہے۔۔۔ " یہ بات قطعاً غلط ہے پاکستان کے ترقی نہ کرنے کی بہت سی دیگر وجوہات ہیں ۔

رائج جمہوری نظام کی بہت سی کمزوریاں ہیں۔ سیاسی عمل میں بھی کئی خامیاں ہیں۔ ہمارے سیاست دانوں میں بھی برائیاں ہیں، لیکن تمام کمزوریوں کو چھوڑ کر "موروثی سیاست" یا موروثیت کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دینا قوم کو بیوقوف بنانے کی بھونڈی کوشش ہے۔

عمران خان صاحب کی سیاسی تاریخ کا ریکارڈ ایسی ہی "لاعلمیوں" سے " روشن" ہے۔ جھوٹ اور مکر کی سیاست کے ذریعے وہ قوم کو بیوقوف بنانے کی حتمی کاوشیں کر چکے ہیں جن کا نتیجہ 25 جولائی 2018ء کو نکلے گا۔ اجتماعی ذھانت ہمیشہ درست فیصلے کرتی رہی ہے قوم اپنے ووٹ کے ذریعے اپنی قیادت کا چناؤ کر ے گی اور وہ یقیناًدرست ہو گا۔ 

مزید : رائے /کالم