کیا عوام بیدار ہوچکے ہیں؟

کیا عوام بیدار ہوچکے ہیں؟
کیا عوام بیدار ہوچکے ہیں؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اللہ کرے عوام اس وقت جس طرح جاگے ہوئے ہیں، پولنگ والے دن بھی جاگے رہیں، اور اپنا ووٹ سوچ سمجھ کر کاسٹ کریں۔ ایک بڑے سیاستدان کانوں کو ہاتھ لگا کر کہہ رہے تھے، اس بار الیکشن لڑنا بہت مشکل ہے، لوگ تو اب گریبان پکڑنے تک آگئے ہیں۔ جو پہلے رکن اسمبلی تھے ان کی حالت زیادہ بری ہے، ان سے تو پانچ برس کا حساب مانگا جارہا ہے، کیا کیا، کہاں رہے؟ حلقے میں کون سے کام کرائے، کتنی بار حلقے میں آئے، جو ان سوالوں کا جواب نہیں دے پاتا، اس کا حال سکندر بوسن، جمال لغاری، جاوید لطیف، شاہد خاقان عباسی اور ان جیسے دوسرے لوگوں جیسا ہوتا ہے، جنہیں اپنے حلقے میں جانے پر شدید رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پہلا موقع ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں پر ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے چڑھ دوڑے ہیں، وگرنہ ہوتا یہی تھا کہ سیاسی جماعتیں جنہیں ٹکٹ جاری کردیتی تھیں، کارکن اور حلقے کے لوگ قبول کرلیتے تھے۔

یہی وجہ تھی کہ کھمبوں کو ٹکٹ دینے کا محاورہ بھی تشکیل پایا کہ فلاں لیڈر اتنی مقبولیت رکھتا ہے کہ اگر کھمبوں کو بھی ٹکٹ دے دے تو لوگ انہیں ووٹ ڈالیں گے، مگر اب کھمبے تو کیا، جیتے جاگتے نامی گرامی لوگوں کو بھی قبول کرنے کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے۔

اس وقت دو ہی سیاسی جماعتیں پورے انتخابی عمل پر چھائی ہوئی ہیں۔۔۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن)۔۔۔ انہی کے ٹکٹوں پر گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، شہر شہر مزاحمت ہورہی ہے، اور ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر شور و غل جاری ہے۔

جنہیں ٹکٹیں ملی ہیں ان کا حلقوں میں جانا مشکل ہورہا ہے، اور کارکن ان کے وہ تمام عیوب سامنے لا رہے ہیں جن کی وجہ سے وہ ان کے لئے قابل قبول نہیں رہے۔ یہ بھی پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور قائدین کے گھروں پر دھرنے دیئے جارہے ہیں، گویا اب ٹکٹوں کی تقسیم بھی کوئی صوابدیدی اختیار نہیں رہا، بلکہ اسے مشاورت اور زمینی حقیقتوں کے بعد ہی جاری کیا جاسکتا ہے۔

یہ سیاسی شعور ایک بدلے ہوئے منظر نامے کو ظاہر کررہا ہے۔ ابھی تو جب انتخابی جلسے ہوں گے اور جھوٹے سچے وعدوں کی کھچڑی پکے گی تو عوامی رد عمل کا صحیح اندازہ ہوگا۔ شہباز شریف نے کراچی جا کر جو خواب دکھائے ہیں، ان پر سوشل میڈیا کے ذریعے جو عوامی رد عمل سامنے آیا ہے، وہ شہباز شریف تک ضرور پہنچنا چاہئے۔

خود انہوں نے بھی اپنا فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے، انہیں اندازہ ہوگا کہ کراچی کو ایک طرف پیرس اور دوسری طرف لاہور بنانے کا جو اعلان انہوں نے کراچی کے جلسے میں کیا ہے، اس پر ان کے چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدوں کی گرد پڑ گئی ہے، لوگ ان کے وعدوں پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں، پھر کراچی کی طرف پچھلی وفاقی حکومت نے جو خود مسلم لیگ( ن) کی تھی، کوئی توجہ نہیں دی، وہاں کے پانی و بجلی کے مسائل حل نہیں کئے، صوبائی حکومت یہ کہتی رہی کہ اسے این ایف سی ایوارڈ کے مطابق وفاق سے پیسے نہیں مل رہے، اس آڑ میں پیپلز پارٹی نے ملنے والے پیسوں کا بھی حساب نہیں دیا اور کراچی سمیت پورا سندھ اس وقت پسماندگی کی بد ترین مثال بنا ہوا ہے۔

اس وقت شہباز شریف کو بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔

صاف پانی کیس میں راجہ قمر الاسلام اور سی ای او اوصاف علی کی گرفتاری اس سکینڈل کی سنگینی کو ظاہر کررہی ہے۔ اگرچہ نیب نے یہ کہہ دیا ہے کہ انتخابات سے پہلے شہباز شریف کو دوبارہ نہیں بلایا جائے گا، لیکن یہ سائیڈ لائن پر جوگرفتاریاں ہوتی رہیں گی، ان کے شہباز شریف کی ذات اور ساکھ پر بے شمار اثرات ضرور مرتب ہوں گے۔

عمران خان کے جلسوں میں عوام بھی بڑی تعداد میں آئیں گے اور ان کی تقریریں بھی بہت دھواں دھار ہوں گی، مگر ایک بات جو ان کا پیچھا کررہی ہے، وہ ان لوگوں سے متعلق ہے جو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور جنہیں عرف عام میں الیکٹیبلز کہا جاتا ہے۔

عمران خان اپنے ہر انٹرویو میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش تو کرتے ہیں، مگر مخالفین اسے جس طرح اچھال رہے ہیں، اس کی وجہ سے ان کے نئے پاکستان کا تصور خاصا گہنا گیا ہے۔

ابھی تو یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ الیکٹیبلز جب اپنے حلقے میں جاتے ہیں تو انہیں کس قسم کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کئی حلقوں سے یہ اعلانات سامنے آچکے ہیں کہ پی ٹی آئی کے کارکن ان لوگوں کی حمایت نہیں کریں گے۔۔۔۔ مَیں نے ایک کالم میں لکھا تھا کہ ایسے لوگوں کو ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے کہ وہ لوگ جو انہیں ہمیشہ سے منتخب کرتے آئے ہیں، شاید اس بار مسلم لیگ(ن) چھوڑنے کی وجہ سے انہیں کم ووٹ دیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف والے بھی انہیں گھس بیٹھیے سمجھ کر ووٹ ڈالنے نہ آئیں، جس کا سراسر نقصان عمران خان اور تحریک انصاف کو ہوگا۔

اب اس متوقع صورتِ حال کا توڑ صرف عمران خان کی ولولہ انگیز تقریریں ہی کرسکتی ہیں، جن کے ذریعے وہ عوام کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہیں کہ آپ امیدواروں کو نہ دیکھیں، بلے کے نشان کو یاد رکھیں، کیونکہ اصل چیز لیڈر شپ ہے، وہ اگر ٹھیک ہے تو ساتھ والے سب لوگ خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کا ووٹر اس کشمکش کا شکار ضرور ہوگا، کئی جگہوں پر جو لوگ برسہا برس سے تحریک انصاف کے لئے کام کررہے تھے اور ان کے حلقے کے عوام سے رابطے بھی تھے، انہیں الیکٹیبلز کے آنے سے ٹکٹ نہیں ملے، وہ اگر پارٹی کا فیصلہ خوشدلی سے قبول نہیں کرتے اور اس سازش میں پڑ جاتے ہیں کہ وفاداری تبدیل کرکے آنے والے کو کامیاب نہیں ہونے دینا تو یہ تحریک انصاف کے لئے بہت بڑا سیٹ بیک ہوگا۔

اس کے علاوہ تحریک انصاف کی ٹاپ لیڈر شپ خود بھی تقسیم نظر آتی ہے۔ جب گروپ بندی ٹاپ سے لے کر نیچے تک آتی ہے تو سیاسی جماعتوں کو لے ڈوبتی ہے، خاص طور پر جنوبی پنجاب میں ،جہاں تحریک انصاف بہت زیادہ سیٹوں کی توقع لگائے بیٹھی ہے، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے کھلے انداز میں پارٹی کی یکجہتی کو پارہ پارہ کررکھا ہے۔

یہ چیز اگر پولنگ والے دن تک برقرار رہتی ہے تو پھر نقصان کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ملتان میں مسلم لیگ(ن) بھی شدید انتشار کا شکار تھی، خاص طور پر قومی حلقہ نمبر 155 کے حوالے سے جماعت میں ایک واضح تقسیم تھی، کیونکہ اسی حلقے سے ایک طرف جاوید ہاشمی لڑنے کے لئے بضد تھے اور دوسری طرف شیخ طارق رشید، جو پہلے بھی ایم این اے رہے، ہر قیمت پر ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے تھے، تیسرا کردار گورنر رفیق رجوانہ کے بیٹے آصف رجوانہ کا درمیان میں آگیا۔۔۔ شیخ طارق رشید نے واضح کردیا تھا کہ اگر اس حلقے سے جاوید ہاشمی یا آصف رفیق رجوانہ کو ٹکٹ دی گئی تو پورا ملتان ان کی مخالفت کرے گا۔ حمزہ شہباز شریف نے صورت حال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے مداخلت کی، جاوید ہاشمی کو انٹرویو کے لئے بلایا گیا، مگر انہیں ٹکٹ نہ دی گئی، جبکہ طارق رشید کو ٹکٹ جاری کرکے ان کے نیچے ایم پی اے کی ٹکٹ آصف رفیق رجوانہ کو دے کر یہ ہدایات بھی جاری کیں کہ اب کسی اختلاف کا شکار نہیں ہونا اور کھل کر ایک دوسرے کو سپورٹ کرنی ہے۔ ادھر جاوید ہاشمی نے بھی خلاف روایت و توقع اس فیصلے کو قبول کرلیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی مکمل حمایت کریں گے، یہی بہتر حکمت عملی تھی، لیکن یہ حکمتِ عملی پی ٹی آئی کے ہاں نظر نہیں آتی، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی تقسیم ہوئے ہیں تو نیچے تک کارکن بھی تقسیم ہوگئے ہیں۔ وہ عمران خان یا تحریک انصاف کو دیکھنے کی بجائے اس گروپ بندی کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں، جس کا فائدہ لا محالہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو ہوگا۔

سکندر حیات بوسن کو پی ٹی آئی نے ٹکٹ دے کر واپس لے لی، یہ بھی ان کے حلقے کا فیصلہ نہیں، تاہم فیصلہ جو بھی ہو، سکندر حیات بوسن کے ساتھ ان کے حلقے میں جو کچھ ہوا، اور جس طرح اس کی وڈیو سوشل میڈیا پر، بعد ازاں کئی ٹی وی چینلز پر چلتی رہی، اس سے اندازہ ہوگیا ہے کہ ان کے حالات کچھ زیادہ ساز گار نہیں، شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ 31 مئی 2018ء تک حکومت میں شامل رہے، اس کے بعد وہ تحریک انصاف میں جانے کی کوشش تو کرتے رہے، مگر ابھی تک ان کی شمولیت کا باقاعدہ اعلان نہیں ہوا، پھر ان کے مخالف امیدوار احمد حسن ڈہیڑ کے حامیوں کا شدید رد عمل بھی ان کے راستے کی دیوار بنتا رہا ہے۔

شاید انہیں ٹکٹ مل جائے، مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اب سیاسی جماعتوں کے سپورٹر اور کارکن بھی مٹی کے مادھو نہیں رہے، وہ فیصلہ آنکھیں بند کرکے قبول نہیں کرتے، بلکہ غلط فیصلے پر مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ خدا کرے کہ کارکنوں کا یہ جذبہ انتخابات کے بعد بھی برقرار رہے، وہ اپنے منتخب نمائندوں پر نظر رکھیں اور غلط کام پر ان کا گھیراؤ کرتے رہیں، اسی طرح یہ شکایت ختم ہوسکے گی کہ عوامی نمائندے منتخب ہونے کے بعد مڑ کر نہیں دیکھتے، اگر یہ بنیاد درست ہوگئی تو یقیناًہماری جمہوریت بھی ٹھیک ہوجائے گی۔ جب تک ووٹرز عوامی نمائندوں کو جوابدہ نہیں بناتے، اس وقت تک نہ ووٹ کو عزت مل سکتی ہے اور نہ ووٹرز کو۔

مزید : رائے /کالم