بک شیلف:انڈین آرمی اور انگریز راج (2)

بک شیلف:انڈین آرمی اور انگریز راج (2)
بک شیلف:انڈین آرمی اور انگریز راج (2)

  

اس کتاب کا سب سے اہم، قابل ذکر اور قابلِ خواندگی حصہ وہ ہے جس کا تعلق پاکستان اور پاکستانیوں سے ہے۔ یہ تفصیل تین ابواب (باب نمبر5، باب نمبر6اور باب نمبر7) میں بڑی پروفیشنل مہارت سے ڈسکس کی گئی ہے۔

مصنف نے اپنا سارا زورِ بیان یہ ثابت کرنے پر لگا دیا ہے کہ باوجود اس کے کہ جنگ عظیم دوم کے خاتمے (اگست 1945ء میں) پر ہندوستان کے طول و عرض میں ہندو مسلم فرقہ آرائی اور فسادات پھیل چکے تھے لیکن انڈین آرمی پھر بھی تقسیمِ برصغیر تک متحد رہی اور اس نے کسی قوم یا قبیلے کی حمائت کا کوئی عندیہ نہ دیا۔

اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مصنف نے انڈیا آفس(لندن) میں بہت سی غیر مطبوعہ خط و کتابت کا بھی مطالعہ کیا ہے جو اگست1945ء سے لے کر اگست 1947ء تک انڈین وائسرائے، انڈین آرمی کے کمانڈر انچیف اور لندن میں برطانوی حکومت کے اربابِ اختیار کے مابین ہوتی رہی۔

یہ خط و کتابت اگرچہ بعد میں شائع بھی کر دی گئی تھی، مگر کسی بھی دوسرے مصنف کو اس سے پہلے اس تک رسائی نہیں دی گئی تھی۔ علاوہ ازیں بعض فائلوں اور خطوط کے غیر مطبوعہ مسودے بھی انڈیا آفس میں موجود ہیں جن کو اس کتاب کی Input کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ آج تک اس موضوع پر جتنی بھی تواریخ لکھی گئی ہیں ان میں زیر تبصرہ کتاب ایک منفرد اور اہم امتیازی حیثیت کی حامل ہے۔

اگست 1945ء سے لے کر اگست 1947ء تک کے دو برسوں میں انڈین آرمی نے ملک میں امن و امان کی جو فضا برقرار رکھی اس کی تفصیل نہایت فکر انگیز ہے۔اگر یہ آرمی نہ ہوتی تو14اگست1947ء سے بہت پہلے متحدہ ہندوستان میں قتل و غارت گری کا ایک نیا باب کھل جاتا۔اس سلسلے میں مصنف متحدہ ہندوستان کے جن اضلاع میں انڈین آرمی (یعنی برٹش انڈین آرمی) کے کردار کا حوالہ دیتا ہے اور جو تفاصیل بیان کرتا ہے وہ اس موضوع پر لکھی جانے والی دوسری تواریخ میں نہیں ملتیں۔

1947ء کا سال برصغیر کی تقسیم کا سال تھا اور14اگست کو دو آزاد اور خود خود مختیار ریاستیں(انڈیا اور پاکستان) وجود میں آ گئی تھیں۔ لیکن جنوری1947ء سے لے کر اگست1947ء تک کے آٹھ ماہ میں پنجاب میں بالخصوص کُشت و خون کی جو ہولی کھیلی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے مارسٹن لکھتا ہے:

’’1947ء شروع ہوا تو پنجاب حکومت کی فرقہ بندی کھل کر سامنے آ چکی تھی۔ لوگ دو گروپوں میں تقسیم ہو چکے تھے۔۔۔ ایک طرف مسلم لیگ تھی جس کو امید تھی کہ سارا پنجاب، پاکستان بن جائے گا اور دوسری طرف ہندو اور سکھ تھے جو واویلا مچا رہے تھے کہ ہم پنجاب کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔ اس وقت سر ایون جینکنز(Evan Jenkins) پنجاب کے گورنر تھے، انہوں نے وائسرائے لارڈ ویول کو صورتِ حال سے مطلع کیا اور پنجاب کی فرقہ واریت کا ایک دلدوز اور بھیانک نقشہ کھینچا اور لکھا:’’یہاں پنجاب میں فرقہ بندی کا بہت سا مواد موجود ہے۔آج اس بات کی ضرورت ہے کہ پنجاب میں تینوں فرقوں (مسلمان، ہندو،سکھ) کے نمائندوں کی ایک مخلوط حکومت بنائی جائے، جو یہاں کے دیہی علاقوں کی حساسیتوں سے باخبر ہو‘‘۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

اس کے بعد سر ایون جینکنز نے لکھا کہ اس مخلوط وزارت کو جو اقدامات فی الفور اٹھانے پڑیں گے وہ مندرجہ ذیل ہوں گے:

(1) فرقہ وارانہ پریس(میڈیا) کو لگام دینا۔۔۔(2) متشدد اور گلا پھاڑنے والے مقررین کے منہ بند کرنا۔۔۔(3) ذاتی لشکروں کا قلع قمع کرنا۔۔۔(4) نقصِ امن کا سدِ باب کرنا۔۔۔(5) زبانی کلامی باتوں کی بجائے عمل کرنا اور فی الفور کرنا۔۔۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ معاملات بہت بگڑ جائیں گے۔ شہروں اور قصبات میں ایسے فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑیں گے، جن کو روکا نہیں جا سکے گا۔ کوئی دن ہی جاتا ہے کہ وسطی پنجاب کے سکھ اور مشرقی پنجاب کے ہندو جاٹ اکٹھے ہو جائیں گے اور جب بھی ایسا ہوا تو اس کے ردعمل کے طور پر شمالی اور مغربی پنجاب کے مسلم دیہات اور قصبوں کے رہنے والے بھی متحد ہو کر جوابی محاذ بنا لیں گے‘‘۔

مصنف نے سطور بالا میں جن ’’ذاتی لشکروں‘‘ کا ذکر کیا تھا مَیں یہ جاننا چاہتا تھا کہ ان لشکروں سے مسٹر مارسٹن کی مراد کیا تھی۔ پھر جونہی اگلے باب کا مطالعہ کیا تو ان لشکروں کی تفصیل نظر پڑی جو یہ تھی۔

درجِ ذیل ذاتی لشکر 1947ء کے اوائل میں ایک حقیقت ثابتہ تھے:

-1 راشٹریہ سیوک سنگھ (ہندو) =100000

-2مسلم لیگ (مسلمان)92000= 

-3 اکائی دَل (سکھ)90000= 

-4 خاکسار (مسلمان)12000= 

-5 احرار (مسلمان)3000=

-6 آزاد ہندو والنیٹر کور (ہندو) 58000=

-7 ریڈ شرٹ (مسلمان)2500=

-8 آزاد ہند کانگرس (ہندو)8500=

اگر ان لشکروں کو ہندو مسلم تعداد کی رو سے اکٹھا کیا جائے تو ہندوؤں اور سکھوں کی تعداد 256,500 اور مسلمانوں کی تعداد 1,19,500 بنتی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ہندوؤں اور سکھوں کی تعداد مسلمانوں سے دگنی سے بھی زیادہ تھی۔ ایک اور پہلو جو اس تعداد کے فرق کو اور نمایاں کرتا ہے وہ یہ ہے کہ سکھ اور ہندو پوری طرح مسلح تھے اور کانگریس نے ان کو بڑی تعداد میں خفیہ طور پر فائری ہتھیار مہیاکر رکھے تھے جبکہ مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں سے بہت کم کے پاس صرف دو نالی بندوقیں تھیں اور خاکسار تحریک کے رضا کاروں کے پاس تو صرف گینتیاں اور بیلچے ہی تھے!

اس کتاب میں12تصاویر بھی ہیں جو بلیک اینڈ وائٹ ہیں اور پانچ نقشے بھی ہیں جو موضوع کی وضاحت کرنے میں خاطر خواہ رول ادا کرتے ہیں۔

بعض دوست یہ سوال کر سکتے ہیں کہ 70برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد آج انڈین آرمی کی تاریخ کو یاد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔۔۔ لیکن میں عرض کرتا ہوں کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے۔

الیکشن سر پر آ پہنچے ہیں۔ صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں۔ لیکن ہر نیا دن ملک میں خانہ جنگی کے آثار کی نشان دہی کر رہا ہے۔ مختلف شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں جو سروے کرائے جا رہے ہیں ان میں عوام کے مختلف طبقات میں انتخابات میں حصہ لینے والوں کی رائے معلوم کی جا رہی ہے اور ٹی وی سکرینوں پر دکھائی جا رہی ہے۔ مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی میں سخت مقابلہ ہے۔ بعض علاقے مسلم لیگ نون کا گڑھ معلوم ہو رہے ہیں۔

وہاں کے مکینوں سے پوچھا جائے تو وہ ’’شیر،شر‘‘ کے نعرے لگاتے ہیں جبکہ بعض دوسرے پی ٹی آئی اور بلّے (Bat) کا دم بھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ میڈیا کی مہربانیوں سے سارے ملک کا ماحول گرم بلکہ دھماکہ خیز ہو چکا ہے۔ لوگ صبح و شام ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر اپنے لنگرلنگوٹ کستے نظر آتے ہیں۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ ایک بار جو فیصلہ کر لیتی ہے اس کا پالن کرتی ہے۔ اس کے خلاف جتنی بھی دلیلیں دی جائیں وہ ان کا بطلان کرتی ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس میں 30،35برس کے شہریوں کی تعداد 65سے 70فیصد تک بتائی جاتی ہے۔۔۔ حالیہ رائے شماری نے اس حقیقت کی تصدیق کر دی ہے۔

تینوں چاروں بڑی سیاسی پارٹیوں کے شعلہ نوا مقرر میدان میں اتر چکے ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظرآتے ہیں۔ یہی حال 1945ء اور 1947ء کے درمیانی دو برسوں میں متحدہ پنجاب کا تھا۔ جس طرح متحدہ پنجاب، ہندو/ سکھ پنجاب اور مسلمان پنجاب میں تقسیم ہو چکا تھا اور جس طرح دونوں قومیتوں کے لوگ اپنی اپنی جیت کا مظاہرہ کرنے کے دعوے کر رہے تھے اسی طرح کے دعوے آج ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے یا ’’پرانا پاکستان‘‘ باقی رکھنے والے کر رہے ہیں۔ نون لیگ کے سٹیک بہت زیادہ ہیں اور اس کے لیڈروں کو مقدمات کا بھی سامنا ہے، مقدمات کے فیصلے بھی نوشتہ دیوار نظر آ رہے ہیں۔ جوں جوں 25جولائی 2018ء نزدیک آ رہی ہے، مجھے لگ رہا ہے گویا 14اگست 1947ء نزدیک آ رہا ہے!۔۔۔ اب ہندو مسلم میں مقابلہ نہیں شیر اور بلّے میں مقابلہ ہے اور جس طرح سکھ، اس دور میں ہندوؤں سے مل گئے تھے اسی طرح پی پی کے ووٹر بھی نون لیگ کی حمائت کرتے نظر آ رہے ہیں۔(پی پی کے ووٹر حضرات سے پیشگی معذرت کہ ان کو سکھوں سے تشبیہ دی جا رہی ہے لیکن یہ تشبیہ صرف اور صرف سیاسی صورت حال کا تناسب بتانے کی غرض سے کی جا رہی ہے، وگرنہ نہ شیر، ہندو ہے، نہ تیر، سکھ ہے اور نہ بلّا، مسلمان ہے)

الیکشن کمیشن نے فوج سے تین لاکھ جوان امن و امان برقرار رکھنے کی غرض سے مانگ لئے ہیں۔ 6،7لاکھ کی فوج اگر تین لاکھ جوانوں کو الیکشن ڈیوٹی کے لئے مختص کر دے گی تو ملک کی سرحدوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جائے گی۔ ہمارے دائیں بائیں جو ہمسائے بیٹھے ہیں ان کے عزائم ہمارے سامنے ہیں۔

وہ بھی تاک میں بلکہ گھات میں بیٹھے ہیں کہ افواجِ پاکستان کی چوکسی نرم پڑے تو وہ اپنے مذموم مقاصد کی طرف اگلا قدم بڑھائیں۔1971ء کو دہرانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ فوج نے تین لاکھ کی ڈیمانڈ مان تو لی ہے۔

لیکن ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ سپاہ وہ ہوگی جو برسوں پہلے ریٹائر ہو چکی ہے(میرا اپنا ایک ملازم بھی جو 2005ء میں ریٹائر ہوا تھا اس کو اپنی یونٹ اور سنٹر سے فون آیا ہے کہ وہ 12جولائی کو فلاں جگہ حاضر ہوتا کہ الیکشن ڈیوٹی کی بریفنگ دی جا سکے۔ اس کا مطلب ہے کہ 13،14سال پہلے ریٹائر ہونے والے فوجیوں کو بھی ری کال کیا جا رہا ہے)۔

خدا کرے کہ 25جولائی کے انتخابات امن و سلامتی سے گزر جائیں۔۔۔ جب سال 1947ء کا آغاز ہوا تھا تو گورنر پنجاب اور انڈین کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل آکنلک کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی تھی اس میں 14اگست 1947ء کوپیدا ہونے والی ممکنہ صورت حال کو کنٹرول کرنے کی بہت سی تجاویز دی گئی تھیں جن کو زیرِ تبصرہ کتاب میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

اسی طرح کی خط و کتابت اور ملاقاتیں آج پاکستان کے آرمی چیف اور نگران وزیراعظم کے درمیان بھی ہو رہی ہیں۔ بہت سے مشکل مراحل سامنے ہیں۔ فوج کو کیا بریفنگ دی جائے گی یہ ایک صبر آزما ایکسر سائز ہے۔

ہر بوتھ میں چار چار فوجی جوانوں کی تعیناتی کی جائے گی(دو جوان بوتھ کے اندر اور دو بوتھ کے باہر بتائے جا رہے ہیں)لیکن جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا متخالف فریقین کے Stakesبہت زیادہ ہیں۔Now or Neverکے نعرے لگ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں زیر نظر کتاب کے مندرجات کا مطالعہ وقت کی ایک اہم ضرورت تھا اس لئے اس پر تبصرہ کیا گیا!

مزید : رائے /کالم