ڈالر مہنگا، نچلا درمیانہ طبقہ بری طرح متاثر، گیس کے نرخوں میں اضافہ کی سفارش!

ڈالر مہنگا، نچلا درمیانہ طبقہ بری طرح متاثر، گیس کے نرخوں میں اضافہ کی سفارش!

ملک بھر میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد اب الیکشن ٹریبونلز میں اپیلوں کی سماعت ہورہی ہے جو 27جون تک مکمل کرلی جائے گی اور الیکشن کمشن کی طرف سے اگلے روز امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردی جائے گی اس عرصہ میں ملک کی قریباً تمام اہم سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدواروں کا انتخاب کرکے ٹکٹ کے لئے نام بھی ظاہر کردیئے اور اب تو انتخابی مہم کا بھی آغاز ہوگیا ہے، بڑی جماعتوں میں سے صرف پیپلز پارٹی ایسی جماعت ہے جس کی طرف سے سندھ، کے پی کے اور بلوچستان تک کے امیدوار نامزد کردیئے ہیں، تاہم پنجاب کے حوالے سے فیصلہ نہیں ہوپایا کہ یہاں امیدوار نہیں مل رہے، یوں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) ایم، ایم، اے۔ اے ،این ،پی اور اکثر چھوٹی جماعتوں نے بھی انتخابی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے جلسوں کا پروگرام ضرور بنایا جن سے بلاول بھٹو زرداری خطاب کریں گے لیکن ابھی تک پروگرام مرتب نہیں کیا گیا کہ سندھ میں فیصلے ہوجانے کے باوجود کافی دباؤ محسوس کیا جارہا ہے، آصف علی زرداری اسلام آباد سے چل کر لاہور پہنچ گئے اسلام آباد میں بھی انہوں نے پنجاب کی قیادت سے مشاورت کی اور اب لاہور میں بھی جائیزہ لے رہے ہیں آخری اطلاع ہے کہ گزشتہ شام پنجاب سے بھی امیدواروں کا اعلان کردیاگیا جن پارٹی راہنماؤں کو انتخابی حلقوں میں کام شروع کرنے کے لئے گرین سگنل دیا انہوں نے کام شروع کردیاہے، لاہور میں چودھری اسلم گل، حافظ غلام محی الدین کے صاحبزادے۔ بیگم ثمینہ گھرکی، امجد جٹ اور افنان بٹ انتخابی مہم شروع کرچکے ہوئے ہیں، لیکن جماعتی اعلان اور انتخابی جلسوں کا آغاز نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک ان امیدواروں کو تشہیری پذیرائی نہیں ملی اور میڈیا بدستور مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہی کو متحارب فریق قرار دے رہا ہے۔

لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مرکزی صدر محمد شہباز شریف، مریم نواز شریف، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، خواجہ حسان، شخ روحیل اصغر جیسے حضرات امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ پی، ٹی، آئی کے امیدوار کررہے ہیں، دلچسپ مقابلہ عمران خان کا خواجہ سعد رفیق اور ڈاکٹر یاسمین راشد کا مریم نواز شریف کے ساتھ ہوگا، عوام کی نگاہیں حلقہ 131 اور 125 پر ہیں سپیکر قومی اسمبلی کا مقابلہ علیم خان سے ہے، یوں لاہور مرکز نگاہ ہے یہاں بڑے پہلوان میدان میں ہیں، ہمارے ملک میں یہ انتخابی روائت ہے کہ انتخابات کے موقع پر حق دار میدان میں آتے ہیں اور ان کا دعویٰ جماعت کی خدمت کا ہوتا ہے اور جب ٹکٹوں کے حصول میں ان حضرات کو ناکامی ہوتی ہے تو پھر احتجاج شروع ہوجاتا ہے، یہاں مسلم لیگ (ن) کے خلاف احتجاج ہوا، زعیم قادری اور چودھری عبدالغفور میو باغی ہوگئے جبکہ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم پر تو زیادہ ہنگامہ ہوا، لاہور کے مرکزی سیکرٹریٹ میں خواتین نے احتجاج اور گھیراؤ کیا جبکہ خانوادہ شاعر مشرق، علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال نے بھی ساتھیوں کے ساتھ احتجاج کیا، بعض حلقوں میں معمولی تبدیلی کی گئی تاہم کارکنوں کا تاحال اطمینان نہیں ہوا۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا موقف ہے کہ وہ یہ انتخابات جیتنے کے لئے لڑ رہے ہیں کہ ملک میں تبدیلی لائی جاسکے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے افراد میدان میں اتارے جائیں، جو انتخاب لڑنے کی سائنس جانتے ہوں، اسی فلسفے کے تحت الیکٹ ایبلز (جیت کے اہل) حضرات کو امیدوار بنایا گیا، کارکن اور پرانے اہم لوگ بھی نظر انداز ہوئے تو احتجاج ہوا، ملتان کے سکندر بوسن کے حوالے سے احتجاج کامیاب ہوا، ٹکٹ واپس ہوگیا، تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ احتجاج کی قیادت کرنے والے راہنما بھی ’’ جیتنے کی اہلیت‘‘ والے فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی سے آئے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کی اس پالیسی کے خلاف ماضی کے حلیف پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی احتجاج کیا اور موقف اختیار کیا کہ تبدیلی کے لئے ’’سٹیٹس کو‘‘(حالات کو جوں کا توں رکھنے والوں) کے حامیوں کو ٹکٹ دینا اصول کی خلاف ورزی ہے، انہوں نے نہ صرف تحریک انصاف کے رویے سے مایوسی کا اظہار کیا بلکہ ماضی کے ایک دور کی طرح انتخابی عمل کا بھی بائیکاٹ کردیا تمام امیدواروں کو کاغذات واپس لینے کی ہدائت کردی، ڈاکٹر موصوف کا الیکشن میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ پہلے سے تھا اس کا ذکر ہم نے انہی صفحات پر اپنی لاہور ڈائری میں کردیا تھا، اب انہوں نے باقاعدہ اعلان کردیا کہ نظام میں تبدیلی کا کوئی چانس نہیں اس لئے گریز ہی کیا جائے، البتہ ان کی طرف سے ٹھوس لہجے میں کہا گیا کہ وہ الیکشن سے الگ ہورہے ہیں تاہم کوئی مسئلہ بھی پیدا نہیں کریں گے اور تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو والی مثل پر عمل کریں گے۔محترم پیر کی شب روائت کے مطابق واپس روانہ ہوگئے یہ بھی عرض کردیا تھا۔

ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے اثرات صارفین پر مرتب ہونا لازمی ہیں، نچلے درمیانہ طبقہ والے سفید پوش حضرات کی شامت آگئی ہے، عبوری دور آتے ہی بیوروکریسی اپنے روپ میں سامنے آگئی، پہلے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھائے اور اب ہر اس خدمت کے عوض قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں جو عوام کی ضرورت ہیں، سوئی گیس کے ایماء پر اب اوگرا نے گھریلو صارفین کے لئے نرخوں میں 3سو فی صد اور تجارتی صارفین کے لئے 30فی صد اضافے کی سمری حکومت کو بھجوا دی ہے جس کی منظوری کا ان کو مکمل یقین ہے، مہنگائی کا طوفان اور نچلا درمیانہ طبقہ (سفید پوش+ مستقل آمدنی والا) پس کردہ گیا اسے دال روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں، یہ صورت حال موجودہ ملکی بحران میں کسی طور پر مفید نہیں، اس کے اثرات انتخابات پر بھی ہوں گے۔

ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدوار’’اللہ اکبرتحریک‘‘کے انتخابی نشان کرسی پرالیکشن لڑیں گے اللہ اکبر تحریک کے چیئرمین ڈاکٹرغلام میاں احسان باری اورملی مسلم لیگ کے صدرسیف اللہ خالدنے امیدواروں میں ٹکٹ تقسیم کئے لاہور سے قومی اسمبلی کے لئے پانچ امیدوار محمد یعقوب شیخ، میاں عامرالیاس،چوہدری شبیر احمد، حافظ خالد ولید،ذوالفقارعلی جبکہ لاہورسے صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے لئے گیارہ امیدوار نورتبسم خان وکیل، میڈم سائرہ بی بی،شیخ عامر، ارشدبٹ، حافظ شعیب شیرانی،چوہدری شفیق گجر،میاں شاہد محمود، حاجی طلحہ،حافظ خالدولیدکوٹکٹ جاری کئے گئے ہیں۔ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے لاہورسمیت پورے ملک میں انتخابی مہم کاآغازکردیاہے

مزید : ایڈیشن 1