انتخابی بخار تیز ہورہا ہے، میڈیا نے عوام کو شعور دیا، سوال پوچھتے، تنقید کرتے ہیں

انتخابی بخار تیز ہورہا ہے، میڈیا نے عوام کو شعور دیا، سوال پوچھتے، تنقید ...

جولائی 2018 کے لئے عام انتخابات کا بخار تیز ہو رہا ہے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر جہاں جھگڑے، مار کٹائی اور الزام تراشیاں ہو رہی ہیں وہاں اس مرتبہ عوام کی طرف سے ’’عوامی نمائندگی‘‘ کے امیدواروں کے ساتھ درشت رویہ اور چبھتے سوالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے اور دیکھنے میں آرہا ہے میڈیا تک عام لوگوں کی رسائی نے انہیں کچھ نہ کچھ سیاسی شعور ضرور دیا ہے گو اس میں زیادہ کردار سماجی رابطوں کے میڈیم کا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ آٹے میں نمک کے برابر اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی کردار ادا کیا ہے یعنی انگلی کٹوا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا ہے ورنہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ سیاسی اشرافیہ کے سامنے کوئی مائی کا لال یوں سوالات اٹھا دے گا جو سوالات تمن سردار جمال خان لغاری کے سامنے ایک انتہائی پس ماندہ علاقے کے ایک نوجوان نے درجنوں، بیسیوں دوسرے مقامی رہائشیوں کے ساتھ مل کر سابق صدر پاکستان سردار فاروق خان لغاری کے بیٹے اور سابق وفاقی وزیر سردار اویس خان لغاری کے بڑے بھائی اور لغاری قبیلے کے سردار، سردار جمال خان لغاری کی جیب کو روک لیا اور ان سے مکالمہ بھی کر لیا کہ اب وہ اس علاقے میں پانچ سال بعد کیا کرنے آئے ہیں، جہاں سڑک تو دور کی بات پینے کا پانی تک میسر نہ ہے یہ علاقہ رونگھن کہلاتا ہے اور سخی سرور سے 45 کلو میٹر شمال مغرب میں واقع ہے یہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد چونکہ 5000 ہزار ہے اس پر امیدوار جو اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لے رہا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ انہیں یہاں سے ووٹ حاصل ہو جائیں لیکن اس مرتبہ حالات تبدیل ہو چکے ہیں اور سردار جمال خان لغاری کی اس بات پر حالات مزید بگڑے کہ انہوں نے مقامی ناراض عوام کو مطمئن کرنے کی بجائے الٹا انہیں طعنہ دیا اور احسان جتایا کہ 30 سال پہلے میرے والد نے یہ روڈ بنوائی تھی لیکن اس کا بھی مقامی افراد نے بڑا ستھرا جواب دے دیا اب سننے میں آرہا ہے کہ موصوف ان کی لسٹیں منگواتے پھر رہے ہیں جنہوں نے ایک سردار کی گاڑی کو نہ صرف روکا بلکہ سوالات بھی کئے اس قسم کا واقعہ سابق وزیر حاجی سکندر حیات بوسن کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے حالانکہ موصوف کافی علیل ہیں اور ڈائلیسز پر ہیں لیکن وہ یہ سیٹ کسی بھی قیمت پر چھوڑنا نہیں چاہتے حالانکہ پی ٹی آئی کی اندرونی جنگ کی وجہ سے انہیں تا حال ٹکٹ ملنے کا اشارہ نہیں مل سکا اس کی بنیادی وجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور جہانگیر خان ترین کی باہمی سیاسی چپقلش بتائی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ اول الذکر کے حمایت یافتہ ٹکٹ کے امیدوار ملک حسین ڈیہڑ نے نہ صرف مہم چلا رکھی ہے بلکہ ملتان کے ساتھ ساتھ بنی گالا میں بھی دھرنا دلوا دیا کہ حاجی سکندر حیات کو ٹکٹ نہ دیا جائے تحریک انصاف کے نظریاتی کارکن اور عہدیدار ابھی تک نوحہ کناں ہیں کہ پارٹی نے ٹکٹوں کی تقسیم درست نہیں کی اور کچھ تو احتجاج بھی کر رہے ہیں دھرنے دے رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ قائد تحریک انصاف عمران خان اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ وہ اس مرتبہ انہیں ٹکٹ دیں گے جو انتخاب لڑنے کی سائنس جانتے ہیں اب یہ سائنس کون سی اور کیا ہے اس کے بارے میں تو موصوف خود ہی وضاحت کر سکتے ہیں مگر انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ انہوں نے جن جن کھلاڑیوں کو ٹکٹ نہیں دئیے ان میں سے کافی تعداد آزاد حیثیت سے ہی انتخاب لڑ رہی ہے ایسے میں موصوف کا موقف کیا ہو گا اور آئندہ لائحہ عمل کیا ہو گا کیونکہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی تحریک انصاف میں ناانصافی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں بنی گالا اسلام آباد سے ملتان بھی مخدوم شاہ محمود قریشی کے گھر کے باہر دھرنا اور پھر ان کی مخالفت میں آنے والی خواتین کی آپس میں گالم گلاچ اور ڈنڈوں کا آزادانہ استعمال سیاسی بصیرت کی بھر پور عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ تمام محض تحریک انصاف کے دو بڑوں کے درمیان سیاسی اجارہ داری اور اپنے اپنے امیدواروں کو ٹکٹ دلوانے کے مسئلہ پر ہوا ہے تاہم جہانگیر خان ترین تو اس حوالے سے انکاری ہیں البتہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے برملا اس کا اظہار کر دیا اور سخت ترین الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین کو نا اہل شخص قرار دے دیا اور کہا کہ میرا اس سے کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ادھر جہانگیر ترین نے بھی جواباً صرف اتنا کہہ دیا کہ میں ان کی بات کا جواب دینا بھی پسند نہیں کرتا اب دونوں بڑوں کی پسند نا پسند اور سیاسی گرفت حاصل کرنے کی دوڑ سے اس خطے میں تحریک انصاف کا سیاسی نقصان ہو رہا ہے جس کا انہیں ابھی تو اندازہ نہیں ہے تاہم عام انتخابات میں انہیں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔

دوسری طرف دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے ن لیگ نے تو کم وبیش پرانے گھوڑے ہی میدان میں اتارے ہیں البتہ جو چلے گئے انہیں تحریک انصاف نے ٹکٹ دے دئیے ہیں ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ حلقوں میں ن لیگ بمقابلہ ن لیگ ہی ہے ملتان میں البتہ این اے 154 کا فیصلہ ابھی تک نہ تو تحریک انصاف کر سکی ہے اور نہ ن لیگ البتہ پیپلز پارٹی ان دو حلقوں میں امیدواروں کا اعلان کرنے میں نمبر لے گئی ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نہ صرف خود شجاع آباد کے حلقے این اے 158 سے امیدوار ہیں بلکہ ان کے دو بیٹے قومی اور دو بیٹے صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں یوں انہوں نے ’’امیدواروں‘‘ کی کمی کو گھر سے ہی پورا کر لیا ہے البتہ باقی متعدد حلقے ابھی تک اوپن ہیں اور امیدوار کا مسئلہ در پیش ہے اب پیپلز پارٹی جو خود کو ایک بڑی قومی جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے چیئر مین آصف علی زرداری اور وائس چیئر مین سید یوسف رضا گیلانی برملا کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی آنے والے انتخابات میں کلین سویپ کرے گی مگر کیسے؟ کلین سویپ کر لیں لیکن پہلے امیدوار تو پورے کر لیں کیونکہ آمدہ اطلاعات کے مطابق اس وقت کراچی اور حیدر آباد میں تو ان کی سیاسی حالت پتلی ہے ہی لیکن اندرون سندھ بھی انہیں سخت رد عمل کا سامنا ہے سندھی وڈیرے سلیم جان مزاری کے ساتھ ’’سیف کمانڈو‘‘ کی انگریزی میں گفتگو نے سندھی وڈیروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے کیونکہ انہوں نے تو سندھ میں تعلیم کا نظام ہی ایسا ترتیب دے رکھا تھا کہ طالب علم ڈگری تو حاصل کر سکتا تھا لیکن تعلیم مشکل تھی اب شاید حالات بدل جائیں۔ جس کے لئے کم از کم پیپلز پارٹی کو ابھی سے تیاری کر لینی چاہیے شاید بعد میں وقت نہ ملے۔ 

ادھر مخدوم جاوید ہاشمی نے عام انتخابات میں دستبرداری کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ وہ انتخابات کی نہیں بلکہ جمہوریت کے استحکام کی سیاست کریں گے کیونکہ ان کا مقصد مسلم لیگ میں آنا تھا اس لئے جمہوری ورکر بننے کو ترجیح دونگا میاں نواز شریف سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں انتخاب نہیں لڑوں گا انہوں نے تحریک انصاف کو جھوٹ کا منبع قرار دیا اور کہا کہ عمران خان ایک جھوٹا شخص ہے جس کا کہنا ہے کہ انہیں ٹکٹ نہیں دونگا انہی کو ٹکٹ دیا اس کی تردید بھی نہیں کر سکتے ۔

مزید : ایڈیشن 1