قوم کا پیسہ واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں : چیف جسٹس

قوم کا پیسہ واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا حق نہیں : چیف جسٹس

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ اگر قوم کے پیسے واپس نہ لا سکے تو کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ منگل کو چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قرضہ معافی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم قرض معافی سے متعلق تمام 222 مقدمات بینکنگ کورٹس کو بھجوا دیتے ہیں، بینکنگ کورٹس خود جائزہ لیں گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم خود کوئی مارک اپ طے کریں ٗتمام فریقین کو ایک موقع فراہم کرتے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ قرض معاف کرانے والے 25 فیصد پرنسپل رقم ادا کریں ٗیہ پیشکش قبول نہ کرنے والوں کے مقدمات بینکنگ کورٹس بھجوا دیں گے۔انہوں نے کہا کہ بینکنگ کورٹس کو 6 ہفتوں میں مقدمات کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دیں گے ٗاس کے علاوہ 25 فیصد قرض معافی کی رقم سپریم کورٹ کا اکاؤنٹ کھول کر 3 ماہ میں جمع کرانے کا حکم دیں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قرض معاف والی رقوم صوابدیدی فنڈز میں نہیں جانیں دیں گے، بریف کیس میں ڈال کر کیش کی صورت میں یہاں لے آئیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس قوم نے بڑے قرض اتارنے ہیں ٗہم نے قوم کے پیسے واپس لانے ہیں، خود نمائی مقصد نہیں ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس سے متعلق سماعت (آج) 27 جون بدھ تک ملتوی کردی۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس میں عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والی فیکٹریاں سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے دو ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ منگل کوسپریم کورٹ میں سیکٹر آئی نائن میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، ڈی جی ای پی اے نے عدالت میں بتایا کہ ضروری 1997سے کیس چل رہا ہے 7جولائی 2010کو سپریم کورٹ نے اسٹیل ملز سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو آج ہی پولیس فراہم کرتے ہیں، سپریم کورٹ نے عدالتی حکم پر عمل نہ کرنے والی فیکٹریاں سیل کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے دو ہفتے میں پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔

ٍسپریم کورٹ

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں میمو گیٹ کمیشن کیس سماعت کے دوران عدالتی معاون نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک سے افراد کی وطن واپسی کیلئے قانون سازی کرنی ہو گی، عدالت نے دو ہفتوں میں قوانین مسودے کا ڈرافٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی ۔ منگل کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے میمو گیٹ کمیشن کیس کی سماعت کی، عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے عدالت کو بتایا کہ اس کیس کے دو پہلو ہیں، میمو گیٹ کی دوبارہ تحقیقات کرنا بھی ایک پہلو ہے، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حسین حقانی نے سپریم کورٹ کو وطن واپس آنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اب وہ واپس نہیں آ رہے ، عدالتی معاون احمر بلال صوفی نے عدالت کو بتایا کہ قانون نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے,بیرون ملک سے افراد کی وطن واپسی کیلئے موثر قانون سازی کی ضروت ہے,عدالت نے احمر بلال صوفی کو دو ہفتوں میں قوانین کے مسودے کا ڈرافٹ تیار کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے غیر قانونی شادی ہالز کیس نمٹا دیا ، عدالت نے تمام شادی ہالز کو ریگولرائزیشن چارجز ادا کرکے سی ڈی اے سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا حکم دے دیا۔ منگل کے روز چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے غیر قانونی شادی ہالز کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو مادر پدر آزادی نہیں دے سکتے، قانون کے خلاف تعمیرات کی اجازت نہیں دیں گے، سی ڈی اے نے غیر قانونی شادی ہالز کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، عدالت نے شادی ہالز سے متعلق ما حولیات کے عنصر کو بھی مدنظر رکھنے کی بھی ہدایت دی، عدالت نے تمام شادی ہالز کو ریگولرائزیشن چارجز ادا کرکے سی ڈی اے سے سرٹفکیٹ حاصل کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس

مزید : صفحہ اول